کیاکرسمس اور سالِ نو کی خوشی منانا جائز ہے؟

کیاکرسمس اور سالِ نو کی خوشی منانا جائز ہے؟
جنوری 06 15:08 2017 Print This Article

افضال ریحان
حضرت علامہ اقبالؒ کے فرزند جسٹس (ر) ڈاکٹرجاوید اقبال مرحوم نے ہیپی نیو ایئر منانے کے متعلق یہ کہہ رکھا ہے کہ ’’نئے سال کی آمد پر خوشی اس لئے منائی جاتی ہے کہ لوگوں کو نئے سال میں خیر کی توقع ہوتی ہے۔نیوایئر پرخوشی منانے کی رسم قدیم زمانے کی ہے، جب مذاہب میں جبر نہیں ہوتا تھا، تب یہ سمجھا جاتا تھا کہ پچھلا سال گزر گیا اور اگلا سال امید کاہوگا، کیونکہ دنیا امید پر ہی قائم ہے، نیوایئر منانے کی رسم مغرب نے شروع نہیں کی، بلکہ یہ یونانیوں اور رومنوں سے شروع ہوئی۔ یہ رسم مسیحیت سے بھی پہلے کی ہے۔ مسلمانوں میں یہ رسم ایران سے آئی ہے، جہاں نوروز کا جشن منایا جاتا ہے‘‘۔
محترم ڈاکٹر صاحب نے نیو ایئر کے حوالے سے مذہبی تنگ نظری کوتوڑتے ہوئے جو حقائق بیان کئے ہیں،ان پر بحث کی جاسکتی ہے۔ہمارے ہاں مذہبی شدت پسندی کے زیر اثر ذہنوں کے عجیب سانچے بن گئے ہیں کہ ہر مباح چیز کو بھی غیر اسلامی قرار دے کر اس کی مخالفت شروع کر دی جاتی ہے، بالخصوص جب سے کتب خانوں اور جدید ذرائع ابلاغ میں ترقی ہوئی ہے۔ متشدد اسلام بھی ملیٹنٹ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر آگے بڑھا ہے اور لوگوں کی چھوٹی موٹی خوشیوں کو بھی اسلامی اور غیر اسلامی کے مخصوص پیمانوں سے ماپنا شروع کر دیا ہے۔ کئی باتوں کو ابتداً کفر اور اسلام کے خانوں میں بانٹا جاتا ہے، لیکن جب عامۃ المسلمین بالفعل انہیں اپنا لیتے ہیں تو پھر اس شدید مخالفت کا زور بھی ہولے ہولے ٹوٹنے لگتا ہے۔ حد تویہ ہے کہ جب چھاپہ خانے جیسی مفید صنعت کا آغاز ہو رہا تھا تو ایسے مفتیان شرح متین موجود تھے جواسے غیر اسلامی ثابت کرنے پر تلے بیٹھے تھے۔ بیسیویں صدی کے آغاز میں جتنی بھی عظیم الشان ایجادات ہوئی ہیں، ہمارے روایتی مذہبی علماء و فقہا نے انہیں اپنی قوم کے سامنے ’’ فتنہء دجال‘‘ کے معنوں میں بیان کیا۔ ٹرین کے سفر کو غیر اسلامی سفر قرار دیا گیا۔ لاؤڈ سپیکر کی ایجاد کوشیطانی آلہ قرار دیا گیا،اب جس کے بغیر ان حضرات کا خطبہ شروع نہیں ہوتا۔
پسماندہ ذہنیت کی اخیر ہے کہ جب ترکی میں پہلی مرتبہ ہسپتال بن رہا تھا تو شیخ الاسلام اس کی مخالفت میں فتاویٰ جاری فرما رہے تھے۔ انتقال خون جیسے زندگی بچانے والے کام کو غیر اسلامی بتایا جاتا رہا۔اعضاء کی پیوند کاری کی اب تک مذہب کے نام پر مخالفت کی جا رہی ہے۔ یہ مخالفت کرنے والے محض کسی گاؤں کی مسجدکے امام نہیں ہیں۔ہمارے معزز قارئین کو حیرت ہوگی کہ مولانا مودودی جیسے جدت کے دعویدار بھی اس میں پیش پیش تھے اور فرما رہے تھے کہ ’’اگر آنکھوں کا عطیہ دینے کی اجازت دے دی جائے تو پھر بات محض آنکھوں کے عطیات تک نہیں رہے گی بلکہ تمام اعضا کے عطیات تک پہنچ جائے گی۔ ایسی صورت میں آپ زمین کے اندر دفنائیں گے کیا‘‘۔ یعنی انہیں فکر اس بات کی نہیں ہے کہ بہت سے انسان گردے فیل ہونے سے یا ایسی کسی خرابی سے مر رہے ہیں اورعطیات کی صورت میں انہیں نئی زندگی مل سکتی ہے اور یہ کہ کائنات میں زندگی سے بڑی نعمت کوئی نہیں ہے، بلکہ انہیں فکر اس بات کی ہے کہ ’’زمین میں دفنایا کیا جائے گا‘‘؟ یعنی جو آنکھیں کسی اندھے کی اجڑی دنیا بسا کر اسے روشنی دے سکتی ہیں، مودودی صاحب کو یہ فکر ہے کہ وہ آنکھیں کیڑوں کی خوراک کیوں نہیں بنائی جا رہیں،مٹی میں کیوں نہیں دبائی جا رہیں۔
ہمیں افسوس ہے کہ ہماری مسلمان قوم نے سنت اور بدعت کے فرق کو سمجھا ہی نہیں ہے۔ ہر وہ چیز جو پیغمبر اسلامؑ نے چاہے اپنی سہولت یا مخصوص عرب کلچر کی مناسبت سے کی،یار لوگوں کی اندھی عقیدت مندی نے اسے سنت کارتبہ دے دیا اور ہر نئی چیز کے بارے میں ایک جاہلانہ لفظ رٹ لیا کہ یہ بدعت ہے، حالانکہ بدعت سے مراد ایسی اختراع تھی، جو انسانیت کے لئے مضر ہو یا انسانوں کے لئے نقصان دہ ہو، اس تنگ نظری پر مبنی اپروچ کا نقصان بھی سب سے زیادہ اس امت مسلمہ نے اٹھایا ہے۔ہم نے کئی دوستوں کے سامنے یہ سوال رکھا ہے کہ ’’بتاؤ مسلمانوں نے پوری 14 صدیوں میں کوئی قابل ذکر ایجاد کیوں نہیں کی‘‘؟ساری کی ساری ایجادات غیر مسلموں نے کی ہیں، بالخصوص مغرب کے مسیحیوں نے یا سیکولر لوگوں نے، تو اس کی وجہ کیا ہے‘‘؟ اس پر پہلے تو سپین کے چند حکماء کا ذکر شروع کر د یا جاتا ہے، حالانکہ وہ سب بھی اپنے دور کے سیکولراور ہماری طر ح کے کلچرل مسلمان تھے، مذہبی لوگ تو ان کی مخالفت میں تب بھی پیش پیش تھے، اس کے باوجود ایسے حضرات کسی ایک ٹھوس نئی ایجاد کا نام لینے سے قاصر رہ جاتے ہیں، جو مسلمانوں نے کی ہو، لیکن اباء کے تفاخر میں ہم سب سے آگے ہیں، اس پر از راہ تفنن ہم یہ کہتے ہیں کہ ’’جیسی ٹیوب لائٹس مسلم دور عروج میں تھیں، ویسی ٹیوب لائٹس بھلا آج کہاں، جیسی سواریاں قرون اولیٰ میں تھیں، ویسی سواریاں بھلا آج کہاں، جیسے فرج ،ٹی وی اور انٹر نیٹ مسلم دور اقتدار میں تھے، ویسے بھلا آج کے یورپ اور امریکہ میں کہاں،ہمارے مسلم آباؤاجداد تو عظیم لوگ تھے جی ہمارے جیسی حکمرانی بھلا کسی اور نے بھی کی ہے کہیں‘‘؟
بحیثیت مسلم ہمارا قومی رویہ اس قدر تنگ نظری پر مبنی ہے کہ جس کی مثال شاید یہودیوں میں بھی نہ ڈھونڈھی جا سکے۔ ہم مذاہب و اقوام دیگر کا ذکر اس حقارت و اجنبیت سے کرتے ہیں، جیسے وہ سب کمتر اور گھٹیا لوگ ہیں۔ ایک ہم ہی ہیں جو دنیا کی اعلیٰ ترین اور خدا کی سب سے پیاری قوم ہیں۔ اپنی مسلمانی کا تفاخر ہمارے رگ و ریشے میں یوں سرایت کئے ہوئے ہے کہ اس کا تنقیدی جائزہ لینا بھی ہم حرام نہیں تو مکروضرور سمجھتے ہیں۔ ہم یقین رکھیں کہ ہمارا یہ خود پسندی کا وصف ہمیں کبھی اقوام عالم کے ساتھ دنیا میں سچی اشتراک باہمی پرمائل نہیں کر سکے گا۔ ہم یا تو دیگر اقوام و مذاہب سے اشتراک کریں گے ہی نہیں اوراگرکریں گے تو اول و آخر منافقت کے ساتھ، کیونکہ دل سے ہم خود کو اعلیٰ امت اور دوسروں کو جہنمی سمجھ رہے ہوں گے۔ ابھی پچھلے دنوں عید اور کرسمس پر بہت سے احباب نے ہمیں پیغامات بھیجے۔ ہم نے بھی کئی احباب کو عید کرسمس اور نیو ایئر کا مشترکہ پیغام بھیج دیا تو چند ’’ زیادہ دینداروں‘‘ اور پکے راسخ العقیدہ مسلمانوں نے جواب بھیجا کہ توبہ کرو کرسمس اور نیو ایئر تو مسیحیوں کے تہوار ہیں۔ اہل اسلام کا ان سے کوئی واسطہ نہیں ہے ،توبہ کرو ایسے پیغام سے۔ یعنی ہمارے دماغ کے اندرونی خلیوں کی تہوں میں یہ چیز بٹھا دی گئی ہے کہ اہل اسلام اونچے رتبے کے لوگ ہیں، وہ دیگر اہل مذاہب کے ساتھ زیادہ قربت بڑھائیں گے تو ان کا مذہب میلا ہو جائے گا، بلکہ راسخ العقیدہ لوگ تو یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ دیگر مذاہب والے کافر و مشرک ،نجس لوگ ہیں،ان کے زیادہ قریب ہونے سے ہم بھی اپنی پاکیزگی کھو بیٹھیں گے۔ اس سلسلے میں کئی آیتوں اور حدیثوں کے حوالے بھی انہیں طوطے کی طرح رٹائے گئے ہیں اور سمجھ انہیں ان کے نہ آگے کی ہے نہ پیچھے کی۔
ہم نے پوچھا کہ ’’بتاؤ کرسمس کس طرح غیر اسلامی تہوار ہے؟ وہ تہوار جو خدا کے سیکنڈ لاسٹ پرافٹ سیدنا مسیحؑ سے منسوب ہے،وہ کس طرح غیر اسلامی ہے‘‘؟ جواب ملا ’’اس لئے غیر اسلامی ہے کہ مسیحی حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا کابیٹا مانتے ہیں‘‘۔ہم نے پوچھا کہ ’’وہ جو بھی مانتے ہیں آپ بتائیں آپ کیا مانتے ہیں‘‘؟ ’’ہم انہیں خدا کا پیارا پیغمبر مانتے ہیں جو صاحب کتاب تھا‘‘۔ عرض کی کہ ’’جب آپ معمولی پیروں فقیروں یا لیڈروں کے ایام پیدائش منا لیتے ہیں تو اس صاحب کتاب اولوالعزم پیغمبرؑ کا یوم پیدائش منانے میں آپ کو اعتراض کیوں ہے‘‘؟ آپ کی اپنی کتاب (قرآن) جس کی پیدائش کے واقعہ کو بڑھ چڑھ کر بیان کررہی ہے، کیا آپ کی نظروں میں قرآن سے بھی مقدس کوئی کتاب ہے؟ اس پورے قرآن میں پیغمبر آخر الزمان سیدنا محمد مصطفی کی پیدائش کے واقعات تو کہیں بیان نہیں ہوئے، جبکہ سیدنا مسیحؑ کی پیدائش کے واقعات پوری تفصیل سے بیان ہوئے ہیں اور کئی مقامات پران کا ذکر موجود ہے، جب قرآن ان کی پیدائش کو ایک عظیم واقعہ کہہ کر بیان کررہا ہے تو مسلمان اس بات کے زیادہ مکلف ہیں کہ کرسمس یعنی عید میلاد مسیحؑ منائیں، اُلٹا آپ مجھ سے لڑ رہے ہیں کہ کرسمس کا ذکر ہی کیوں کیا؟
ہم یہاں یہ تذکرہ کر دیں کہ خود مسلمانوں کے اندر عید میلاد النبیؐ منانے کی روایت یا رسم عید میلاد مسیحؑ کے حوالے سے ہی داخل ہوئی ہے، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ یہ روایت جب مسلمانوں میں شروع کی جا رہی تھی تو خود مسلمانوں کے اندر اس کی سخت مخالفت ہوئی تھی۔ بہت سے ’’راسخ العقیدہ صالحین‘‘ نے اسے بدعت کے معنوں میں لیتے ہوئے گمراہ کن قرار دے ڈالا تھا اور اب بھی خال خال ایسے راسخ العقیدہ مسلمان مل جاتے ہیں، جو یہ کہیں گے کہ عید میلاد النبیؐ نہیں منانی چاہئے، یہ بدعت ہے دین میں نئی اختراع ہے۔ صلیبیوں کی اتباع ہے وغیرہ وغیرہ، لیکن چونکہ مسلمانوں کی بھاری اکثریت جسے سواد اعظم کہا جاتا ہے، اب اسے اپنا چکی ہے، اس لئے مخالفانہ جذبات رکھنے والے لوگ دب کررہ گئے ہیں۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ یہاں برصغیر جنوبی ایشیا میں عید میلاد النبیؐ کو عام کرنے میں سب سے زیادہ رول ان کے والد حضرت علامہ اقبالؒ کا ہے، اس سے پہلے یہاں کے علماء میں اس تہوار کی زیادہ مخالفت کی جاتی تھی۔ ہم یہاں اہل علم کے ذوق سلیم کی نذر یہ بھی کرنا چاہیں گے کہ پاک پیغمبرؐ کے پیارے گنبد خضریٰ کی شبیہ بھی مسیحیوں سے مستعار لی گئی ہے، اس کی ہسٹری کیا ہے؟ یہ پھر کسی وقت بالتفصیل بیان کریں گے۔یہاں ہم جس نکتے پر اپنی بات اختتام پذیر کرنا چاہتے ہیں، وہ یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان کو تنگ ذہن اور تنگ نظر نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ اسلام کا اپنا دامن تنگ نہیں ہے۔ ہمارا رب، رب العالمین ہے

Comments

comments

  Categories: