پنجاب یونیورسٹی کو 36 درخشاں ستاروں سےمحروم کردیا گیا، ہائیکورٹ اور اسمبلی میں چیلنج کی تیاریاں

پنجاب یونیورسٹی کو 36 درخشاں ستاروں سےمحروم کردیا گیا، ہائیکورٹ اور اسمبلی میں چیلنج کی تیاریاں
فروری 23 14:35 2017 Print This Article

تحریر۔ علی ارشد

 

پنجاب یونیورسٹی کے طلبا کو یک جنبشِ قلم 36 درخشاں ستاروں سے محروم کرنے کے احکامات کو ہائی کورٹ اور پنجاب اسمبلی میں چیلنج کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔ ان ستاروں میں سے اکثر ڈین کلیات یا صدور شعبہ جات کے عہدوں سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد تحقیقی کاموں میں مشغول تھے اوربہت سے یونیورسٹی رینکنگ کیلئے اہم ثابت ہو رہے تھے، تاہم محض چند ایک کو بوجھ کہا جا سکتا تھا نہ کہ سب کو۔

نئے وائس چانسلر کے احکامات پر پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر نعیم خان نے یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں تعینات ریٹائرڈ پروفیسرز کے کنٹریکٹ منسوخ کرنے کا نوٹیفیکیشن بہت عُجلت میں جاری کر تے ہوئے انہیں انتظامیہ کی طرف سے پیشگی نوٹس نہ دینے کے بجائے ایک ماہ کی تنخواہ دینے کا اعلان کیا ہے، جو یونیورسٹی کے افرادی وسائل کیساتھ ساتھ مالی وسائل کا بھی ضیاع تصور  کیاجا رہا ہے اور اس پالیسی کو ہائی کورٹ اور پنجاب اسمبلی میں چیلنج کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔

 کیادُنیا کی بڑی بڑی جامعات میں ایسا ہوتا ہے؟

اساتذہ اور تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ دُنیا کی بڑی بڑی جامعات بشمول آکسفورڈ ، کیمبرج اور ہارورڈ وغیرہ، میں ریٹائرڈ اساتذہ کی خدمات لی جاتی ہیں اور اکثر پروفیسر تادمِِ حیات تحقیق میں مشغول رہتے ہیں۔ یونیورسٹیاں انکی اصل پناہ گاہ اور نفسیاتی سہارہ ہوتی ہیں۔ سنیئیر اساتذہ یونیورسٹی کے اس اقدام کو انتہائی تحقیق مخالف اور سیاسی قرار دے رہے ہیں۔

 

یہا ں یہ بتانا ضروری ہے کہ ان پروفیسروں میں کیمسٹری سے ڈاکٹر جمیل انور جو سابق پرو وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی اور سابق وی سی لاہو گریژن یونیورسٹی بھی ہیں، اور وہ سکول آف فزیکل سائنسز کے پراجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچاسکتے تھے۔ انکو بھی فارغ کر دیا گیا۔ اگر کوئی وائس چانسلر کا خیر خواہ یونیورسٹی میں ہوتا تو وہ انھیں بتاتا کہ اس پراجیٹ کیلئے ڈاکٹر جمیل انور کتنے اہم ہیں۔ لیکن شاید بدلے کی سیاست ذیادہ اہم ہے۔  شعبہ اقبالیات کے ہر دلعزیز ڈاکٹر سید محمد اکرم شاہ ، انسٹی ٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز  کےپروفیسر ڈاکٹر اے آر جعفری، لٹریری ہسٹری کے خواجہ محمد زکریا (شاعر و مشہور اُردودان جنھوں نے ثابت کیا کہ وہ اہم کام کر رہے تھے)، کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کے مشہور کارٹونسٹ Maxim ڈاکٹر شوکت محمود، زوالوجی کی ڈاکٹر نسرین مظفر، ڈاکٹر سید اختر، کول ٹیکنالوجی سے ڈاکٹر شفقت نواز، کالج آف ارتھ اینڈ اینوائرنمنٹل سائنسز ڈاکٹر محمد نواز چوہدری ، بدر الزمان اور کالج آف ارتھ اینڈ اینوائرنمنٹل سائنسز سے ڈاکٹر ریاض احمدشامل ہیں ۔

جبکہ کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن سے نعیم میر، شعبہ فلاسفی سے ڈاکٹر ساجد علی، کالج آف ایکچوریل سائنسز سے محمد اویس، ساؤتھ ایشین اسٹڈیز سے جہانگیر تمیمی ، فزکس سے ڈاکٹر اعجاز مجتبیٰ غوری، فلوریکلچر ریسرچ فارم سے جمیل خان، آئی کیو ٹی ایم سے ڈاکٹر ارشد حسین چوہدری اور شعبہ اکنامکس سے سے اللہ دتہ،الیکڑیکل انجینئرنگ سے اختر حسین، کیمیکل انجینئرنگ سے ڈاکٹر شوکت علی، فارمیسی کالج سے ڈاکٹر فرخ ضیاء خان ،ہیلے کالج آف بنکنگ اینڈ فنانس سے ریاض احمد، فوزیہ ناہید اور فدا حسین بخاری کو بھی فارغ کر دیا گیا۔لاء کالج سے سید ذوالفقار احمد، پاکستان اسٹڈی سنٹر سے سید فاروق حسنات، کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن سے صبیحہ ذوالقرنین، ڈاکٹر نسیم اختر، کیمونیکیشن اسٹڈیز سے ڈاکٹر اجمل نیازی، پاکستان اسٹڈی سنٹر سے ڈاکٹر اقدس علی کاظمی، کیمیکل انجینئرنگ سے ضیاء اللہ چوہدری، کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن سے محمود حسین، اور نواز چوہدری کو فارغ کر دیا گیا ہے ۔

جو اساتذہ ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان تمام اساتذہ کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنے کی بجائے کارکردگی کی بنیا د پر راست اقدام کرنا ذیادہ مناسب عمل ہوتا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انتظامیہ بہت عُجلت میں تھی۔ ان اساتذہ میں سے اکثر کو پہلے ہی نجی جامعات سے پیشکش ہو رہی تھی اور  پہلے سے ذیادہ تنخواہ پر وہ ملازمت حاصل کر لیں گے تاہم یہ جامعہ پنجاب اور اس کے طلبا کیلئے بڑا نقصان ثابت ہو گا۔

 پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان کا موقف

ترجمان پنجاب یونیورسٹی خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ ان اساتذہ کو عدالتی فیصلے اور ۶۵ سال سے زائد عمر کی بنیاد پر عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ریٹائرڈ اساتذہ صرف پانچ سال ہی کنٹریکٹ پر ذمہ داری سر انجام دے سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہاساتذہ بطور  وزٹنگ فیکلٹی خدمات سر انجام دے سکتے ہیں اور تھسیسز بھی سپروائز کرواسکتے ہیں، تاھم ان کے کنٹریکٹ ختم کئے گئے ہیں۔

نوٹ:ادارہ کا کالم،بلاگ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اساتذہ اور طلبا اپنے تاثرات یا خیالات شائع کرانے کیلئےای میل کریں ali901583@yahoo.com یا یہاں نیچے فیڈ بیک دیں۔

Back to Conversion Tool

Urdu Home

Back to Conversion Tool

Comments

comments

  Categories: