پنجاب یونیورسٹی آسا الیکشن، سیاسی میدان تہہ وبالا ہو گیا

پنجاب یونیورسٹی آسا الیکشن، سیاسی میدان تہہ وبالا ہو گیا
فروری 17 08:44 2017 Print This Article

سابق وائس چانسلرکےچچرےبھائی ڈاکٹر منصور سرور کا گروپ ’’ٹیچرز الائنس‘‘ جیت گیا
سپیس سائنس کے جاوید سمیع صدر، لا کالج کے افتخار تارڑر سیکریٹری منتخب

خزانہ دار اور سیکریٹری کی نشست پر کانٹے دار مقابلہ ہوا

کیا نئے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین نصر اثر انداز ہوئے؟

لاہور(علی ارشد سے)۔  پنجاب یونیورسٹی اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات ۲۰۱۷ میں یونیورسٹی سیاست تہہ وبالا ہو گئی، سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کے چچرے بھائی اور حریف ڈاکٹر منصور سرورکا گروپ ٹیچرز الائنس جیت گیا ۔ خزانہ دار اور سیکریٹری کی نشست پر مقابلہ انتہائی کانٹے دار رہا۔ صرف ۷ ووٹوں کے فرق سے افتخار تارڑر نے سابقہ سیکریٹری محبوب حسین کو شکست دی جبکہ صرف ۱۱ ووٹ کے فرق سے ٹیچرز فرنٹ کے اظہر نعیم نے خزانہ دار کی نشست پر ٹیچرز الائنس کے طارق بٹ کو شکست دی۔

ڈاکٹر مجاہد کامران کاجانا اور نئے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین نصر کا آنا اور الیکشن !

صدر کی نشست پر ٹیچرز الائنس کے جاوید سمیع نے۳۲۱، ٹیچرز فرنٹ کے پروفیسر ڈاکٹر ساجد رشید نے ۲۳۸ اور اکیڈمک الائنس کی ڈاکٹر بشرٰی حمید نے ۱۱۱ ووٹ حاصل کئے۔ نائب صدر سائنس کیلئے ڈاکٹر شاہد غازی نے ۲۸۴، ڈاکٹر ندیم شیخ نے ۲۲۰ اور منور اقبال نے ۱۵۷ ووٹ حاصل کئے۔ نائب صدر آرٹس کیلئے سردار اصغر اقبال نے ۳۰۹، ڈاکٹر رضوان نے ۲۱۱ اور ڈاکٹر خالد نے ۱۳۱ ووٹ حاصل کئے۔ سیکریٹری کیلئے صرف ۷ ووٹوں کے فرق افتخار تارڑر (۲۹۷ ووٹ) نے سابقہ سیکریٹری محبوب حسین (۲۹۰ووٹ) کو شکست دی، جبکہ تیسرے اُمیدوار آئی ای آ ر کے استاد ڈاکٹر شاہد فاروق نے ۷۹ ووٹ حاصل کئے۔ جوائنٹ سیکریٹری کیلئے ڈاکٹر اسلام نے ۳۱۳ اور ڈاکٹر سید سلمان رضاوی (ڈی جی گجرانوالہ کیمس) نے ۲۷۰ ووٹ حاصل ۔ خزانہ دار کیلئے اظہر نعیم نے ۲۹۲ اور ظارق بٹ نے ۲۸۱ ووٹ حاصل کئے، اور مقابلہ کانٹے دار رہا۔ یہ واضع ہے کہ اظہر نعیم ٹاؤن ۳ کی وجہ سے جیتے۔

الیکشن بروز جمعرات ادارہ تعلیم و تحقیق کے وحید شہید ہال میں ہوا، جس میں ۷۳۶ اساتذہ رائے دہی استعمال کرنے کا حق رکھتے تھے ۔ ان اساتذہ میں ۷۰ پروفیسر ہیں جبکہ ۶۰ ایسوسی ایٹ پروفیسر، ۳۷۰ اسسٹنٹ پروفیسر اور ۲۳۶ لیکچرار تھے۔ ان میں سے تقریبا ۷۰ اساتذہ ملکی و گیر ملکی رخصت پر تھے۔ لہذا تقریبا ۶۵۰ ووٹ ڈالے گئے۔ پولنگ صبح ۸ سے شام ۴ بجے تک ہو ئی ۔ الیکشن کمشنر کے فرائض چیئرمین زوالوجی پروفیسر ڈاکٹر قاضی جاوید اقبال انجام دیں گے۔ گنتی کے دوران ایک دو بار ووٹ کینسل کرنے کے معاملہ پر جھگڑا ہوا اور گنتی کا عمل رُک گیا تاہم اتقاقِ رائے سے پروفیسر ڈاکٹر قاضی جاوید اقبال نے گنتی کا عمل مکمل کروایا۔

کیا نئے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین نصر اثر انداز ہوئے؟ تاثر کیا ہے؟

نئے وائس چانسلر جناب ڈاکٹر ظفر معین نصرنے اعلان کیا تھا کہ وہ اس الیکشن میں غیر جانبدار ہیں ، تاہم الیکشن سے قبل اہم انتظامی عہدوں پر تبدیلیاں کرنا، جس کے نتیجے میں اہم شخصیات کا اپنی سیاسی وفاداریاں ڈر یا مفاد کی خاطر ظاہری یا خفیہ تبدل کرنا، اُن کے اثر انداز ہونے کا تاثر دیتا ہے۔  پھر ٹھیک الیکشن کے روز جائے انتخابات کا دورہ کرنا اور موقع پر موجود اساتذہ سے مسافہ وگفتگو کرنا اُ ن کے سیاسی پن اور آسا الیکشن میں گہری دلچسپی و ذاتی مانیٹرنگ کا ایک تاثر ہے۔

اس سال اساتذہ کے تین گروپوں نے الیکشن میں حصہ لیا ، ٹیچرز فرنٹ کی قیادت پروفیسر ڈاکٹر ساجد رشید اور سیکررٹر یٰ آل پاکستان آسا ڈاکٹر محبوب حسین کر رہے تھے ، جبکہ ٹیچرز الائنس کی قیادت جاوید سمیع اوراکیڈمک الائنس کی قیادت ڈاکٹر بشرٰی نے کی۔ گزشتہ ایک ہفتہ سے انتخابی مہم زوروں سے جاری ہے۔ اس الیکشن میں ایجنڈے کا سب سے اہم موضوع یونیورسٹی ٹاؤن ۳رہا ، چونکہ یہ نوجوان اساتذہ کی دریرنہ خواہش تھی۔ اس ٹاؤن کا آغاز کرنے والے گروپ ٹیچرز فرنٹ کو اسی وجہ سے بظاہر برتری حاصل تھی ، تاہم یہ تاثر غلط ثابت ہوا لیکن ٹیچرز فرنٹ اظہر نعیم صرف ٹاؤن ۳ کی وجہ سے ہی خزانہ دار کی نشست پر جیت سکے چونکہ ٹاؤن میں۹۲۶ اساتذہ و ملازمین نے پلاٹ کیلئے پیسے جمع کراؤے ہیں۔

یونیورسٹی میں نظریاتی سیاست کے خاتمے کا تسلسل جاری

الیکشن کے نتیجہ سے یونیورسٹی میں نظریاتی سیاست کے خاتمے کا تسلسل ثابت ہوتاہے اور روائتی طور پر وائس چانسلر  کے حمایتی گروپ کی کامیابی اس کا ثبوت ہے۔ دائیں اور بائیں بازو کی سیاست بالکل ختم ہو چکی ہے۔ زیادہ تر جامعات میں یہی صورتِ حال ہے، حال ہی میں یونیورسٹی آف انجئیرنگ اور ٹیکنالوجی میں بھی وائس چانسلر کے حمایتی گروپ کی کامیابی ہوئی۔

Comments

comments