مقالہ چوری میں سپروائزکو بھی بلیک لسٹ کیا جائے گا،ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی نئی پالیسی

مقالہ چوری میں سپروائزکو بھی بلیک لسٹ کیا جائے گا،ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی نئی پالیسی
فروری 13 19:01 2017 Print This Article

پاکستان میں کل 41000 فیکلٹی ممبر ہیں، ان میں سے 11,000 پی۔ایچ۔ڈی ہیں، ہمیں 30,000 ڈاکٹریٹ ڈگری ہولڈر استاتذہ کی اشد ضرورت ہے، چئیرمین  ڈاکٹر مختار احمد کا انٹرویو

انٹرویو:۔ علی ارشد

پاکستان میں اعلٰی تعلیم کے تین بنیادی مسائل، گورنس ، کوالٹی ایشو رنس اور کوالیفائیڈ فیکلٹی کی کمی ہیں ، آج کے دور میں ہمارے پاس 41000 فیکلٹی ممبر ہیں تمام پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ یونیورسٹیاں ملا کر ان میں سے صرف 11,000 پی۔ایچ۔ڈی ہیں، ثابت یہ ہوا کہ ہمیں 30,000 ڈاکٹریٹ ڈگری ہولڈر استاتذہ کی اشد ضرورت ہے ۔ مقالہ چوری کرنے والے کے ساتھ ساتھ اس کے سپروائزکو بھی بلیک لسٹ کیا جائے گا۔ اور اس کے ساتھ جو شخص کس کی جھوٹی شکایت کرے گا وہ بھی بلیک لسٹ کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین ہائرایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد نے دی ایجوکیشنسٹ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ تفصیل درجِ ذیل ہے:۔

دی ایجوکیشنسٹ : ہر گز رتے دن کے ساتھ تعلیمی میدان میں بالخصوص ہائیر ایجوکیشن کے معاملات پیچیدگیوں کی طرف جا ر ہے ہیں، یہ مسائل حل کیوں نہیں ہو رہے ؟
ڈاکٹر مختار احمد :یہ بد قسمتی ہے کہ مسئلے Streamline ہونے چاہیے تھے مگر نہیں ہورہے ۔ تین بنیادی مسائل گورنس ، کوالٹی ایشو رنس ( ہر کوئی نمبر گیم کی طرف بھاگ رہاہے) اور تیسرا بڑا مسئلہ کوالیفائیڈ فیکلٹی ممبرز کی کمی ہے ۔ آج کے دور میں ہمارے پاس 41000 فیکلٹی ممبرز ہیں تمام پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ یونیورسٹیاں ملا کر ان میں سے 11,000 پی۔ایچ۔ڈی ثابت یہ ہوا کہ ہمیں 30,000 ڈاکٹریٹ ڈگری ہولڈر استاتذہ کی اشد ضرورت ہے ۔ اس تناسب کے ساتھ ہم دنیا کا مقابلہ کس طرح کر سکتے ہیں ۔ پاکستان میں آج بھی بہت اچھے ادارے تعلیمی لحاظ سے موجود ہیں جو بہت اچھا کام کر رہے ہیں ۔ لیکن ایک یونیورسٹی چلانا صرف یہ نہیں کہ پڑھانا اور اچھی ریسرچ کرنا ہے،دیگر معاملات بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں ، جن میں انتظامی ، مالی، ملکی و بین الاقوامی تعاون یونیورسٹی کے لیے فراہم کرنا بھی ضروری ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان اس سلسلے میں بھرپور کوشش اور ہر طرح کی معاونت فراہم کر رہا ہے ۔ بد قسمتی سے 18 ویں ترمیم کے آنے کے بعد صوبائی سطح پر ایچ۔ای۔سی کا بن جانا بہت سے معاملات میں بگاڑ کا سبب ہے ۔ چونکہ یہ مسئلہ اب سی۔سی۔آئی میں ہے اور بہت جلد اس پر فیصلہ بھی متوقع ہے۔
ایک اور سنگین مسئلہ جس کی طرف کوئی دھیان اور توجہ نہیں دے رہا وہ 3700 الحاق شدہ کالجز ہیں، جو بری طرح نظر انداز ہو رہے ہیں ۔ کوالیفائیڈ اساتذہ ، بہترین لیبارٹریز اور دیگر کئی مسائل کا سامنا ہے ۔
میرا خیال ہے کہ اس کو صوبائی سطح پر بھرپور انداز میں دیکھنا چاہیے۔ جھگڑوں میں پڑنے کی بجائے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ہم نے کرنا کیا ہے، جس کی وجہ سے غیر قانونی یونیورسٹیاں ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں ۔ پوری دنیا میں ہمارے لیے یہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں کس ادارے کی ڈگری کو تسلیم کیا جائے اگر ہر صوبے اور یونٹ کا اپنا ایچ۔ای۔سی ، انجےئنرنگ کونسل اور پی ۔اًیم۔ ڈی ۔سی بن جائے گا تو دنیا کس کو تسلیم کرے گی اور کسے انکار کرے گی ۔ اس تقسیم سے ہمارا کام تین گنا بڑھ گیا ہے اب جلد از جلد فیصلہ کرنا ہو گا ۔

دی ایجوکیشنسٹ :کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس تناؤ سے ایسے ادارے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں جن کے ڈگری پروگرام اور کیمپسز کا مسئلہ چل رہا ہے ؟
ڈاکٹرمختار احمد:جی بالکل فائدہ اٹھا رہے ہیں، بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ جس پر قوائد و ضوابط اور اصولوں کا ہاتھ ڈالتے ہیں تو وہ عدلیہ سے رجوع کر لیتا ہے اور اپنا الگ ہائیر ایجوکیشن کمیشن ہونے کا جواب پیش کرتے ہیں جس سے ہمارے اعلیٰ تعلیمی نظام میں سنگین نوعیت کے مسئلے پیدا ہو رہے ہیں ۔

دی ایجوکیشنسٹ :جناب، اس کا کیا حل ہے، کس طرح اس مسئلے کو ختم کیا جائے؟
ڈاکٹر مختار احمد:تعلیم اور صحت کو جب تک غیر سیاسی اور پہلی ترجیح نہیں بنائیں گے اس وقت تک یہ مسئلے حل نہیں ہوں گے پاکستان کی بقاء کے لیے ان دو شعبوں کو مضبوط اور غیر سیاسی کرنا بہت ضروری ہے ہمارا فوکس پرائمری سے لیکر ہائیر ایجوکیشن اور ٹیکنکل ایجوکیشن تک ایک جیسا ہونا چاہیے ۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی بہت ضروری ہے ۔ ہم اس سارے عمل کو یکجاں کریں نہ کہ تقسیم در تقسیم کرتے جا ئیں ۔جو کام پاکستان اور قوم کے لیے بہتر ہے ہمیں وہ کرنا چاہیے کسی کی ذات کو مد نظر نہیں رکھنا چاہیے ۔

دی ایجوکیشنسٹ : سابق چئیرمین ایچ۔ ای۔سی کا کہنا ہے کہ یہ غیر قانونی ہیں اور اعلیٰ تعلیم وفاقی ذ مہ داری ہے ؟
ڈاکٹر مختار احمد: دیکھیں قانون کی جہاں تک بات ہے اس میں ہر کوئی اپنے انداز سے پیش کرے گا اس مسئلے کا آسان حل سی۔سی۔آئی ہے۔

دی ایجوکیشنسٹ : وائس چانسلر ز کی تعیناتی کا اختیار کس کے پاس ہونا چاہیے ؟
ڈاکٹر مختار احمد: ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان پالیسی بنا کر دیتا ہے وہ صوبائی سطح پر سرچ کمیٹی کے ذریعے منتخب کیے جاتے ہیں یہ اختیار چانسلر کا ہے ہم صرف قوائد و ضوابط وضع کرتے ہیں اور میرٹ پر جو ہو اسی کو تعینات کیا جانا چاہیے۔سرچ کمیٹی کے لوگ بھی میرٹ اور قابلیت کے حامل ہونے چاہیں جن کا پتہ ہو کہ یہ میرٹ پر یقین رکھتے ہیں چاہے وہ پبلک سیکٹر سے ہوں یا پرائیویٹ سے۔ ہمیں اپنے اداروں پر اعتماد کرنا ہو گا اور سسٹم میں جو مسائل اور خامیاں ہیں ان کو دور کرنا ہو گا۔

دی ایجوکیشنسٹ : مقالہ چوری کے اور اس طرح کے دیگر معاملات پر ایچ۔ای۔سی کس طرح ایکشن لے رہا ہے؟
ڈاکٹرمختار احمد:ہمارے ہاں چیک اینڈ بیلنس اور قوائد و ضوابط کو ٹھیک طرح دیکھا جائے تو چیزیں اپنے ٹریک پر ٹھیک سمت میں چلتی ہیں ۔ سادہ سی بات ہے کہ چوری کی ہے، تو سزا ملتی ہے۔ اب ہم یہ کرنے جا رہے ہیں ،کسی کا مقالہ چوری کا معاملہ نکلتا ہے تو مقالہ چوری کرنے والے کے ساتھ ساتھ اس کے سپروائزکو بھی بلیک لسٹ کیا جائے گا۔ اور اس کے ساتھ جو شخص کس کی جھوٹی شکایت کرے گا وہ بھی بلیک لسٹ کیا جائے گا۔

دی ایجوکیشنسٹ : ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل کا آغاز ہو گیا ہے ۔ کس طرح یہ عمل درآمد ہو گا؟
ڈاکٹر مختار احمد: یہ کونسل 2017 سے نافذ العمل ہے ہم نے 70,000 کے قریب ٹرائل کے طور پر ٹیسٹ منعقد کروائے ہیں جس کا نتیجہ 100% درست اور بروقت دیا ہے اور یہ ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل مکمل طور پر مفت ہے ۔

Comments

comments