غیرت کے نام پر قتل۔ ایک مرتبہ پھرمبارک ہو! مبارک ہو! مبارک ہو!

غیرت کے نام پر قتل۔ ایک مرتبہ پھرمبارک ہو! مبارک ہو! مبارک ہو!
February 11 19:01 2017 Print This Article

تحریر:نبیل احمد ورک

کیا اس غیرت مند معاشرے نے کبھی کسی مرد کو غیرت کے نام پر قتل کیا؟

معذرت کیساتھ،
’’غیرت مندوں‘‘ کے اس معاشرے میں ایک مرتبہ پھر ایک ’’غیرت مند‘‘ نے کوہاٹ میں غیرت کا قتل کر دیا۔ میں انتہائی معذرت خواہ ہوں ایسے الفاظ استعمال کرنے پر لیکن میرے نزدیک ایسے واقعات کیلئے یہی الفاظ مناسب ترین ہیں۔ کوہاٹ کی حنا شاہنواز بظاہر تو ایک بیٹی تھی لیکن یقین جانئے ایسی بیٹیاں دراصل اپنے گھروں کے بیٹے ہوتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ “بیٹیاں رحمت ہیں” اور حنا شاہنواز جیسی بیٹیاں اس بات کی زندہ دلیل ہیں۔

حنا شاہنواز کے والد کے انتقال کے بعد بھائی محلے کی ایک لڑائی میں مارا گیا تو حنا کے سر پر اپنے بھائی کی بیوہ اور دو بچوں کی ذمہ داری آن پڑی۔بہن کی شادی کو ابھی گیارہ ماہ ہی ہوئے تھے کہ وہ بھی بیوہ ہو کر ایک بیٹے کیساتھ حنا کی ذمہ داری بن گئی۔ ایسے میں اس بہادر لڑکی نے اپنی ذمہ داری کو جانتے ہوئے ایک مقامی فلاحی تنظیم کیساتھ 80 ہزار ماہوار کے عوض ملازمت شروع کردی۔ اتنے میں معاشرے کے ایک غیرت مند کو غیرت یاد آئی اور اس نے حنا کو ابدی نیند سلا دیا اور یہ غیرت مند حنا کا اپنا چچا زاد ہی تھا۔ یہاں مجھے منٹو کی بات یاد آتی کہ ہمارا معاشرہ عورت کو کوٹھا چلانے کی اجازت تو دیتا ہے لیکن تانگہ چلانے کی اجازت نہیں دیتا۔

حیرت کی بات ہے ہر سال  غیرت کے نام پر تقریبا 500 قتل ہوتے ہیں، یا پھر مجھے کہہ لینے دیجئے کہ 500 بار غیرت کا قتل ہوتا ہے اور زیادہ تر واقعات میں قتل کرنے والا ’’غیرت مند‘‘ قتل کرنے کے بعد فرار ہوجاتا ہے اور بعد میں اندر کھاتے صلح یا سمجھوتا کرنے کی کاوشیں کرتا ہے۔ ایسا کب تک چلے گا کہ کبھی بھی کسی کی بھی غیرت جاگے اور وہ کسی کو بھی قتل کردے گا۔

چند ماہ قبل قندیل بلوچ کے قتل کا واقعہ ہوا تو “با غیرت معاشرے” نے غیرت کے نام پر اس قتل کا دفاع کیا۔ پھر 18 سالہ زینت کی بات کرتے ہیں جسے اس کی اپنی ماں نے غیرت کے نام پر جلا دیا کیونکہ وہ حسن نامی لڑکے سے محبت کرتی تھی۔ بات کرتے ہیں اس لڑکی کی جسے اپنی سہیلی کی بھاگ کر شادی میں مدد کرنے پر جرگے کے فیصلے پر زہر بھرا ٹیکہ لگا دیا۔ اس حاملہ لڑکی کا بھی ذکر کیجئے کہ جسے باپ نے قتل کر دیا۔

میں نے بیت کوشش کی کہ غیرت کے نام پر کسی مرد کے قتل کا پتا چل سکے۔ قندیل بلوچ جو کچھ بھی کرتی تھی اپنے لئے نہیں کرتی تھی ایک “با غیرت” طبقہ تھا جو اس کی ویڈیوز کو وائرل کرتا تھا اس کا کیا ہوا؟ 18 سالہ زینت جس لڑکے کے کو پسند کرتی تھی اس کا قتل ہوا؟ جرگے کے ہاتھوں قتل ہونے والی کی چھوٹی سی غلطی کی اتنی بڑی سزا؟

کیا اس غیرت مند معاشرے نے کبھی کسی مرد کو غیرت کے نام پر قتل کیا؟
نہیں صاحب! مردوں کے زمانے میں ایسی کوئی مثال آپکو نہیں ملے گی۔

 

Print this entry

Comments

comments

  Categories: