پنجاب یونیورسٹی، دو طلبا گروپوں کے جھگڑے میں ۸ زخمی، پولیس کاکڑا پہرا جاری

پنجاب یونیورسٹی، دو طلبا گروپوں کے جھگڑے میں ۸ زخمی، پولیس کاکڑا پہرا جاری
فروری 10 19:34 2017 Print This Article

تصادم اسلامی جمیعت طلبہ اور پشتون سٹوڈںٹس فیڈریشن کے درمیان ہوا

لاہور(سٹاف رپورٹر ):۔ پنجاب یونیورسٹی دو طلبہ گروپوں کے جھگڑے میں آٹھ زخمی، تصادم اسلامی جمیعت طلبہ اور پشتون سٹودںٹس فیڈریشن کے درمیان ہوا ۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز اسلامی جمیعت طلبہ کے کارکنوں اور پشستون سٹوڈنٹ فیڈریشن کے دو طلبہ کے درمیان جھگڑا ہوا جس کے نتیجہ میں طالبعلم سجاد اور حیات اللہ معمولی زخمی ہوئے تھے ۔ اس واقعہ کی شکائت وائس چانسلرکو کی گئی اور انہوں نے واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی عمل میں لانے کی یقین دہانی کروائی ۔ پھر اگلے بعد از نماز جمعہ مسجد کے باہر دونوں گروپوں کے درمیان بحث ہوئی جس سے معاملہ مزید بگڑ گیا اور کچھ ہی لمحوں بعد ہاسٹل نمبر ۱ میں موجود پشستون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے دو طلبہ ثنااللہ اور ناصر پر اسلامی جمیعت طلبہ کے کارکنوں نے تشدد کیا ۔جس کے بعد معاملہ نہایت خطرناک صورت اختیار کر گیا اور کافی دیر تک دونوں گروپوں کے درمیان پتھراو اور فائرنگ کا سسلہ جاری رہا جس کی وجہ سے یونیورسٹی انتظامیہ نے تھانہ نیو مسلم ٹاون سے مدد طلب کی اور پولیس کی بھاری نفری ہاسٹل نمبر۱ پہنچ گئی ۔ لڑائی کی کیفیت ۲ گھنٹے جاری رہی۔

طلباء گروپوں میں جھگڑے کی اطلاع ملنے پر رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر نعیم خان ، چیئرمین ہال کونسل پروفیسر ڈاکٹر عابد حسین چوہدری، آر او ون ڈاکٹر عبداللہ خان درانی، دیگر انتظامی افسران اور سکیورٹی گارڈز موقع پر پہنچ گئے۔ پروفیسر ڈاکٹر نعیم خان نے دونوں گروپوں کے طلباء سے مذاکرات کئے جس کے بعد طلباء پُر امن طور پر منتشر ہو گئے۔ جبکہ قائمقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر تقی زاہد بٹ کی ہدایت پر رجسٹرارڈاکٹر نعیم خان نے واقعہ کی انکوائری کے لئے چیئرمین ہال کونسل پروفیسر ڈاکٹر عابد حسین چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے۔

 واقعہ میں ملوث عناصر کےخلاف کارروائی کی جائے گی۔ ڈاکٹر نعیم خان

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نعیم خان نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے حالات کو قابو میں رکھنے کے لئے فوری اقدامات کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ کیمپس کے ماحول کو ہر صورت پرامن رکھے گی اور بدامنی کے واقعات برداشت نہیں کئے جائیں گے۔

 دونوں گروہوں کاموقف

اسلامی جمیعت طلبہ کے ترجمان پہلے تو واقعہ میں جمیعت کے کارکنوں کے ملوث ہونے کی تردید کرتے رہے اور یہ موقف اختیار کیا کہ لڑائی دو پشتون گروپوں کے درمیان ہوئی اور اسلامی جمیعت طلبہ کے کارکنوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ ان کی طرف سے الزام عائد کیا گیا کہ جامعہ کا ماحول سابق وائس چانلسر خراب کر رہے ہیں ۔ بعد ازاں حقائق منظرِعام پر آنے کے بعد جمیعت کے ترجمان نے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ چند شر پسند عناصر کی جانب سے اسلامی جمیعت طلبہ کے کارکنوں پر نمازِ جمعہ کے بعد حملہ کیا گیا اور حملہ کرنے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق یونیورسٹی سے نہیں تھا ۔

جبکہ دوسری جانب ایجوکیشنسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے پشتون سٹودںٹس فیڈریشن کے ایک رہنما نے بتایا کہ پشتون سٹودںٹ فیڈریشن کے چند کارکن جمعہ کی نماز کے بعد معمول کے مطابق کھڑے تھے کہ اسلامی جمیعت کے کارکن ان کے پاس آئے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کردیں ۔ نام نہ ظاہر کی شرط پر  اُس نےبتایا کہ جمیعت کے کارکنوں نے کہا کہ ’’انتظامیہ میں اب ہمارے لوگ موجود ہیں تم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے‘‘ ۔

پولیس کا پہرا جاری

دونوں گروپوں کے مابین متوقع لڑائی کو روکنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری جمعہ کی دوپہر سے ہاسٹل نمبر ۱ کے باہر کڑا پہرا دے رہی ہے۔ داخلی دروازوں خاص کر ۱۴ نمبر پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ ہفتہ کے روز بھی پولیس کی گاڑیاں اور ۲۵ سے زائد جوان پہرے پر معمور رہے۔

Comments

comments

  Categories: