قلم کتاب اور ہم ‘

قلم کتاب اور ہم ‘
January 06 14:50 2017 Print This Article

معظم احمد
جس قوم میں قلم و کتاب یعنی علم کی بالادستی ہو وہاں نہ صرف امن، ترقی اور نئے علوم کی تخلیق ہوتی ہے بلکہ دوسری قوموں کو فتح کر کے ان پر بالواسطہ یا بلاواسطہ حکومت کرتی ہیں، دین اسلام میں بھی متعدد بار کائنات کے رازوں پر غور کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور ہر مرد اور عورت کو برابری کی بنیا د پر علم حاصل کرنے کی تلقین کی گئی ہے ، باوجود اس کے کہ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں اسلامی قوانین اور شریعی اصولوں کے تحت مملکت کو چلانے کی بات کی جاتی ہے لیکن کتاب سے محبت کا ہمارا یہ عالم ہے کہ دنیاوی کتابیں تو ایک طرف ہم اللہ کی کتاب (قرآن کریم )کو بھی صرف فرصت کے لمحات یارمضان کے مہینے میں ہی پڑھنے کا شرف حاصل کرتے ہیں۔ اس ساری صورتحال میں صاحب اقتدار اور عوام برابر کے جرم دار ہیں کیونکہ ’’وہ‘‘ کتابیں شائع کرانے کیلئے حکمتِ عملی نہیں مرتب کرتے اور ’’ہم‘‘ کتابوں کو ہاتھ لگانا گوارا نہیں کرتے باقی کسر ٹیکنالوجی کا بے جا اور فضول استعمال ہمیں کتابوں کی دسترس سے دور رکھ کرنکل جاتی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں تقریباً تیرہ کروڑ کتب کا ذخیرہ موجود ہے جن میں سب سے زیادہ حصہ امریکہ، برطانیہ، چائنہ ، روس و دیگر ممالک کا ہے اس کے برعکس پاکستان میں ہر سال شائع ہونے والی کتب کی تعداد ایک ہزار سے پندرہ سو تک ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سکالر بننے کی غرض سے قدم رکھنے والے طلباء طالبات میں کتاب پڑھنے کا رجحان بحران کا شکا ر ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر نئی نسل کتابیں پڑھنے کی شوقین نہیں رہی یا کتابوں سے بیزار رہنے کی عادی ہوگئی تو کیسے نئے علم کی تخلیق ہوگی اور ترقی کرتے ممالک کی صف میں پاکستان کو لانے کا خواب پورا ہوگا؟
اگر ہم ساری صورتحال کاجائزہ لیں تو نئی نسل کی کتابوں سے بیزاری کی جوہات میں اچھی تصانیف کی کمی، مہنگی کتب اور ان تک مشکل رسائی جیسے مسائل نظر آئیں گے جبکہ منظم منصوبہ جس میں تعلیمی اداروں سے کرپشن کا خاتمہ کرکے ، میرٹ بحال کر کرکے اور نوجوانوں کو اس بات کا احساس دلوا کر، کہ کتابیں معاشرے میں مثبت تبدیلی کا بہترین ذریعہ ہونے کے ساتھ پاکستان کے روشن مستقبل کی ضامن ہیں، انہیں مجبور کیا جاسکتا ہے کہ وہ ترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بسوں، ریل کاروں، ہوائی جہازوں، انتظار گاہوں سمیت ہرجگہ کتاب ہاتھ میں تھامے پڑھتے دکھائی دیں۔اس کے علاوہ ان مسائل کا سدِ باب کرنے کیلئے حکومتی سطحٰ پر اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے لیکن اس کے لئے ترجیحات کاہونا ضروری ہے جو شاید ہمارے حکمرانوں کی پالیسیوں میں نہیں ۔ اگرملک کی جامعات نئے علم کی تخلیق کے علاوہ لوگوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے اور دینی اور دنیاوی نقطہِ نظر سے تعلیم کی اہمیت کوہر فرد،گلی اور محلہ تک پہنچانے کیلئے زیر تعلیم طلباؤ طالبات کی مدد سے یونین کی سطح پر لائبریریوں کاقیام عمل میں لانے کی ذمہ داری لیں تو حالات بہترہو سکتے ہیں اور ہماری یونیورسٹیوں کا نام دنیا کی 500بہترین یونیورسٹیوں میں شامل ہوسکتا ہے ۔ ملک پاکستان کی شرح خواندگی میں اضافے کیلئے ایسے اقدامات کم از کم لاہور جیسے تاریخی اور زندہ دل شہر میں تو ضرور ہونے چاہیے۔ تعلیم اور نئے علم کے فروغ کیلئے حکومت اور تعلیمی اداروں کی جانب ہوئے کام اپنی جگہ قابلِ ستائش ہیں لیکن ملک کو صفِ اول کے ممالک میں شامل کرنے کیلئے ابھی ہم سب کو مل کر بہت کام کرنا ہوگا تبھی ہم اسے قائد اور علامہ کا پاکستان بنانے میں کامیاب ہوں گے۔

Print this entry

Comments

comments

  Categories: