قومی کرکٹ کی بقا اکیڈمیوں کے قیام سے ممکن ہے۔ فاسٹ باؤلر محمد آصف کا انٹرویو

قومی کرکٹ کی بقا اکیڈمیوں کے قیام سے ممکن ہے۔ فاسٹ باؤلر محمد آصف کا انٹرویو
فروری 10 11:36 2017 Print This Article
انٹرویو۔ وقاص علی چوہدری
کرکٹ کی سربلندی کیلئے مقدار سے زیادہ معیارپر توجہ دینے کی ضرورت ہے،پاکستان کرکٹ ٹیم کی موجودہ صورتِ حال کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس وقت پاکستان میں موجود بہتر ین کھلاڑی ہی قومی ٹیم کا حصہ ہیں ، اس سے بہتر کھلاڑی ملک میں موجود نہیں ہیں، پی سی بی کو چاہیے کہ نچلے درجے تک کرکٹ اکیڈمیوں کا قیام عمل میں لائے اور انڈر 15اور انڈر 14سے ہی کھلاڑیوں پر خصوصی توجہ دے۔ ان خیالات کا اظہار فاسٹ باؤلر محمد آصف نے دی ایجوکیشنسٹ کے ساتھ ایک خصو صی انٹرویو کے دوران کیا، تفصیل یوں ہے:۔

 

دی ایجوکیشنسٹ۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی موجودہ کھلاڑیوں کے انتخاب کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
محمد آصف۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی موجودہ صورتِ حال کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس وقت پاکستان میں موجود بہتر ین کھلاڑی ہی قومی ٹیم کا حصہ ہیں ، اس سے بہتر کھلاڑی ملک میں موجود نہیں ہیں ۔ کھلاڑیوں کے انتخاب میں ہر قسم کے میرٹ کا خیال رکھا جا رہا ہے۔ پاکستان میں کرکٹ کے کھلاڑیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جبکہ کرکٹ کا معیار کم ہوتا جارہا ہے جسکی وجہ سے ہماری قومی ٹیم دوسرے ممالک کے مقابلے میں پیچھے جارہی ہے۔

دی ایجوکیشنسٹ۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کا اگر ۱۵ سال پہلے جائزہ لیا جائے تو بے شمار لجنڈ کرکٹر موجود رہے ہیں،اب بڑے نام پیدا کیوں نہیں ہورہے؟
محمد آصف۔ اگر ماضی کا جائزہ لیا جائے اُس وقت ایک کھلاڑی کا کرئیر سکول لیول سے ہی شروع ہوجاتا تھااورکرکٹ کلبوں کو کھلاڑی پیدا کرنے کیلئے فنڈنگ بھی جاری ہوا کرتی تھی لیکن موجودہ صورتحال بالکل برعکس ہے، پی سی بی کو چاہیے کہ نچلے درجے تک کرکٹ اکیڈمیوں کا قیام عمل میں لائے جس میں انڈر 15اور انڈر 14سے ہی کھلاڑیون پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ وہ مستقبل میں تجربہ کار اور پروفیشنل کرکٹر کے طور پر ٹیم میں شامل ہوسکیں۔

دی ایجوکیشنسٹ۔ پی ایس ایل دوبئی سے پاکستان میں منتقل کیوں نہیں ہو رہی؟
محمد آصف۔ پاکستان میں سیکورٹی کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے انٹرنیشنل پلیئرز ایسوسی ایشن اس بات پر رضا مند نہیں ہو رہی کہ پی ایس ایل پاکستان میں کروائی جائے اگرچہ چند انٹرنیشنل کھلاڑی جو پاکستان میں کھیلنے کیلئے رضا مند ہیں وہ ابھی بین الاقوامی سطح پر اتنے زیادہ شہرت یافتہ نہیں ہیں جس سے پھر پی ایس ایل کی کامیابی کو خطرات لاحق ہیں ۔اس لئے فی الحال پی ایس ایل پاکستان میں کروائے جانے کے امکانات بہت کم ہیں۔
طلبہ کو اپنے پیغام میں انہوں نے کہاکہ ایک کھلاڑی ہونے کے ناطے میں آپ سب طلبا وطالبات سے اپیل کرتاہوں کہ اپنی روز مرہ زندگی میں کسی نہ کسی کھیل کو ضرور خود سے منسلک کریں کیونکہ کھیل صحت مند اور خوشگوار زندگی کیلئے ایک لازمی امر ہے وہ اس لئے کہ ایک صحت مند دماغ ہی نہیں بلکہ صحت مند جسم بھی لازم ہے۔

Comments

comments

  Categories: