پنجاب کے تعلیمی نظام پر مائیکل باربر اور ریمنڈ کا قبضہ۔۔۔یہ غداری نہیں تو اور کیا ہے؟

پنجاب کے تعلیمی نظام پر مائیکل باربر اور ریمنڈ کا قبضہ۔۔۔یہ غداری نہیں تو اور کیا ہے؟
فروری 01 14:40 2017 Print This Article

تحریر و تحقیق: اشتیاق احمد
قومی یکجہتی کے عناصرترکیبی میں سب سے اہم نظریہ پاکستان اور قومی زبان اردو ہے۔نظریہ پاکستان کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہو گی۔قیام پاکستان کے وقت اس نظریے کو ریاست کا بنیادی اور سب سے بڑا ستون مانا گیا تھا ۔مگر ریا ست کے وڈیروں،جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے اس نظریے کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا۔بلکہ سامراج کے وظیفہ خوار اس گروہ نے اس آفاقی نظریے کے آ گے ہر ممکن طریقے سے رکاوٹیں کھٹری کرنے کی کوششیں کیں۔پاکستان کی نظریاتی اساس کو کھوٹا کرنے کے لئے کبھی سیکولرزم کی بیساکھیوں کا سہارا لیا گیا تو کبھی سرمایہ دارانہ نظام کی گود میں پناہ لینے کی کوشش کی گئی۔کبھی ذات پات اور لسانیت کا بیج بو کر اس نظریے کی پشت میں خنجر گھونپا گیا۔یہ سب کچھ انگریز کے اس وفادار ٹولے نے کیا جس کی سازشوں اور چیرہ دستیوں نے پورے معاشرے کو بے انصافی،محرومی اور طبقاتی تفریق کے ایسے چنگل میں پھنسا دیا ہے جس سے نکلنے کے لئے ایک عظیم انقلاب کی ضرورت نے بڑی شدت کے ساتھ جنم لیا ہے۔قوم اب جہادی روح کے ساتھ جدوجہد کرنے کو ایک اہم فرض کا درجہ دے چکی ہے۔قیادت کے فقدان کے سبب عوامی جذبات کی اس شدت کو درست سمت نہیں دی جا سکی مگر جدوجہد کا یہی جذبہ جنوں صحیح قیادت بھی تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

ملک کی حکمران اشرافیہ سامراجی وظیفہ خواری اور اس کے نتیجے میں ملک کا ہمہ جہتی نظام تباہ کرنے کے لئے ملک وقوم سے بغاوت کی آ خری حدوں کو چھو رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر سامراجی طاقت نے اپنے غلبے کو مستحکم کرنے اور قوم کو بحیثیت مجموعی غلام بنانے اور اس کو اس کی تہذیبی اور ثقافتی اقدار سے بیگانہ کرنے کے لئے نظام تعلیم کو بدلنا ضروری سمجھا ۔پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب غلامی کی ایسی زنجیروں میں جکٹرا ہوا نظر آ تا ہے جوہماری حکمران اشرافیہ کے بزدلانہ رویوں اور محکوم و غلام سوچ کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ یہ گروہ ہمہ پہلو قومی مفاد کو بیچ کر خود ملک سے بھاگ جانے کی تیاریاں کر رہا ہو۔در اندازی اور مداخلت کی انتہا دیکھیے کہ وزیر اعلی پنجاب برطانیہ کے ایک شخص مائکل باربر کو مشیر خاص مقرر کئے ہوئے ہیں جو میعار تعلیم بڑھانے کے نام پر ہماری صوبائی قیادت کو مٹھی میں لینے ،ان کی نگرانی کرنے ،تعلیمی نظام اور نصاب کو بدلنے کے تمام تر اختیارات کا مالک بنا بیٹھا ہے۔
لاہور میں ایک ادارہ موجود ہے جوDSD(DIRECTORATE OF STAFF DEVELOPMENT) کہلاتا ہے ۔اب تک اس ادارے کا کام صرف اساتذہ کو فنی اور تدریسی تربیت دینا تھا مگر اب یہ ادارہ بین الاقوامی سازشوں کا مرکز و محور بنا ہوا ہے۔اب یہ ادارہ مکمل طور پر برطانوی ٹاسک فورس کے حوالے کر دیا گیا ہے جس کے سربراہ مائیکل باربر اور ریمنڈ نامی دو اشخاص ہیں۔برطانوی شہریت کے حامل یہ دونوں افراد اب اس ادارے میں بیٹھ کر پنجاب کی تمام تر تعلیمی سرگرمیوں کو کنٹرول کر رہے ہیں حتی کہ تعلیمی افسران کے تقررو تبا دلے کے تمام تر اختیارات انہی کے پاس ہیں۔۲۲ جولائی ۲۰۱۱ کو میاں شہباز شریف صاحب نے خود DSDجا کر برطانوی ٹاسک فورس کے سربرا ہان مائیکل باربر اور ریمنڈ سے ایک تحریری معا ہدہ کیا جس کے مطا بق یہ ٹاسک فورس اسا تذ ہ کے تقرروتبادلے کے نظام کو بہتر بنائے گی او ر سکولوں میں مخلوط نظام تعلیم کو رائج کرے گی۔ان ارادوں اور اس معاہدے کی تصویر تو اس پمفلٹ پر موجود ہے جو DSDاپنی سالانہ کا رکردگی کے نام پر شائع کرتا ہے۔سال ۲۰۱۱ کی کارکردگی پر مشتمل یہ پمفلٹ ڈائریکٹوریٹ آف سٹاف ڈویلپمنٹ پنجاب کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔اس رنگین پمفلٹ کے سرورق پر ان اداروں کے نام بھی درج ہیں جو حکومت پنجاب کو انگریزی میڈیم اور مخلوط تعلیم کے نفاظ کے عوض امداد دے رہے ہیں ان میںUNICEF,UNESCO,JICA, ،CIDAاورUSAIDشامل ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب نے یہ معاہدہ کس حیثیت میں اور کیوں کیا ؟جو لوگ ان کو منتخب کر کے اپنا رہنما بناتے ہیں وہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس معاہدے کے مندرجات کیا ہیں ؟ وہ کون سی مجبوریاں ہیں جن کی بنا پر اس طرح کے ملک و قوم کی سا لمیت کو داو پرلگانے والے معاہدے کیئے جاتے ہیں؟سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے اس ملک کا نظام تعلیم اس دھرتی اور تہذیب سے وابستہ ماہرین تعلیم درست کر سکتے ہیںیا سامراجی طاقتوں کے نمائندے جن کے ہم دو سو سال تک غلام بھی رہ چکے ہیں؟در حقیقت DSD پنجاب میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا ایک بہت بڑا اڈا بن چکا ہے جو ہمارے نظام تعلیم پر قابض ہو چکا ہے اور نجانے اس آڑ میں ملک میں مزید کیا کیا گل کھلا رہا ہے۔اس ٹاسک فورس کے سربراہ مائیکل باربر کی دیدہ دلیری دیکھیے کہ جب پنجاب کے ضلعی تعلیمی افسران نے حکومت پنجاب سے کہا کہ انگریزی میڈیم کا نفاذ ممکن نہیں تو مائیکل باربر نے سب کو DSD میں بلا کر الٹا لٹکا دینے کی دھمکی دی۔اس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ پنجاب حکومت اپنے ہاتھ کٹوا کر سامراجیوں کے ہاتھ میں دے چکی ہے۔
موجودہ DTE(district teacher educator)کو تربیت بھی نام نہاد برٹش کونسل کی لڑکیاں فراہم کر رہی ہیں جہاں انگریزی کے علاوہ کوئی دوسری زبان بولنے کی اجازت نہیں ۔ یہ کورسز بھی DSD میں سامراجی امداد کے ساتھ ہو رہے ہیں ۔ٹرنینگ کے بہانے DTE کو انگلش میڈیم اور مخلوط نظامِ تعلیم کو رائج کرنے کے لیے غیر محسوس طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے ۔

حکومتِ پنجاب نے نئے ماڈل سکولوں کے قیام کی بھی منظوری دی ہے جہاں خصوصی طور پر مخلوط تعلیم کا اہتمام کیا جائے گا یہ سکول بھی پنجاب میں سامراجیوں کے پنجے مضبوطی سے گاڑنے میں مدد دیں گے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب کے حکمران کس سرعت سے صوبے کے دس کروڑ عوام کو ملک دشمنوں کے ہاتھوں بیچ رہے ہیں ۔جن سکولوں کو پنجاب حکومت نے مخلوط بنا دیا ہے ان کے لیے سامراجی ایجنسیوں نے فنڈز بھی جاری کر دیے ہیں تاکہ عزت و غیرت کی قیمت ادا کی جائے۔ اب حکومتِ پنجاب اپنی پوری مشینری جس میں ڈی سی اوز، ای ڈی اوز، ڈی ای اوز، ڈپٹی ڈی ای اوز ، اے ای اوز شامل ہیں کو انگلش میڈیم اور مخلوط تعلیم کے جبری نفاذ کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

ڈرا دھمکا کر بھی اور اضلاع کی نام نہاد درجہ بندی(ranking) کر کے لاکھوں روپے کی رشوت دے کر بھی تاکہ کسی طریقے سے قوم کو زہر کھانے کے لیے آمادہ کیا جا سکے۔اساتذہ کی استحقاقیہ اور اتفاقیہ چھٹیوں پر پابندی بھی اسی کا شاخسانہ ہے تاکہ اساتذہ ان ظالمانہ ، ملک دشمن، تعلیم دشمن اور تہذیب دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج نہ کریں۔ ان کے پاس ایسی سرگرمیوں کے لیے وقت ہی نہ چھوڑا جائے۔ناقابلِ فہم اور ناقابلِ تدریس نصاب کی وجہ سے این جی اوز کے ہاتھوں فروخت کرنے کے بہانے تراش سکے۔حکومتِ پنجاب کے رویوں سے ایسے ارادوں کا اظہار برملا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ گذشتہ دس سالوں میں پنجاب میں ایک بھی نیا سرکاری سکول نہیں بنا حالانکہ بڑھتی ہوئی آبادی ہزاروں نئے سکولوں کے اجراء کی متقاضی ہے۔اس کے برعکس پرائیویٹ مافیا نے ہزاروں سکول قائم کر لیے ہیں۔ کم و بیش ہر ایم این اے اور ہر ایم پی اے نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں ۔اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حکومت سرکاری نظامِ تعلیم سے جان چھڑا کر اشرافیہ اور غیر ملکی ایجنسیوں کے ہاتھوں بیچ کر کمائی کرنا چاہتی ہے۔اس سلسلے میں خادمِ پنجاب اور ان کی ٹیم ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہراول دستے کا کام کر رہی ہے۔خدا ان کو ان کے ناپاک ارادوں میں کبھی کامیاب نہ کرے آمین۔
دوسری طرف وزیر اعلی پنجاب کی دھواں دھار تقریریں سنیں تو وہ غیر ملکی امداد پر لعنت بھیجتے اور خود انحصاری کا سبق پڑھاتے نہیں تھکتے مگر حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے۔پنجاب ہی وہ صوبہ ہے جس میں تعلیمی پالیسیاں اس حد تک تبدیل ہو رہی ہیں کہ تعلیم اور تہذیب کا جنازہ اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی ۔یہ تو وہی دور آ رہا ہے کہ جس میں بادشاہ بہادرشاہ ظفر دلی تک محدود ہو کر رہ گئے تھے۔باقی ملک پر انگریز مکمل عمل داری قائم کر چکے تھے۔
تمام محب وطن افراد ،اساتذہ، طلبا،سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین،شعراء و ادبا الغرض قوم کے بچے بچے کو اب ایک اور آزادی کی جنگ لڑنے کو تیار ہو جانا چاہیے اور ان سیاسی شعبدہ بازوں کے چہروں کو پہچاننا چاہیے جو حب الوطنی کا لبادہ اوڑھ کر چند ڈالروں کے عوض ملک و قوم کا سودا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

Comments

comments