ٹیچرکے عشق میں خودکشی کرنے والے طالبعلم کا خط منظرِ ِعام پر آگیا

ٹیچرکے عشق میں خودکشی کرنے والے  طالبعلم کا خط منظرِ ِعام پر آگیا
جنوری 16 22:43 2017 Print This Article

ٹیچرسے بےحد محبت کرتاہوں اوراس سے شادی کرنا چاہتا ہوں مگر لوگ جینے نہیں دیتے،خط

بیٹے کی ٹیچرسے محبت کا علم نہیں تھا، والد عالمگیر

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ساتویں جماعت کا طالب علم 16 سالہ اسامہ اسکول ٹیچر کے عشق میں مبتلا تھا اورمحبت میں ناکامی پر خود کو گولی مارکر خود کشی کرلی۔ پولیس کے مطابق اسامہ نے مرنے سے قبل ٹیچر کے نام ایک خط لکھا تھا جو اس نے چھوٹے بھائی کو دے کر کہا کہ باہر جاکر 100 تک گنتی گنوجب گنتی ختم ہوجائے تو یہ خط ٹیچرکو دے دینا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چھوٹے بھائی نے باہر جاکر 50 تک ہی گنتی گنی تھی کہ گولی چلنے کی آواز آگئی۔

اسامہ نے خط میں لکھا کہ میں اپنی ٹیچرسے بےحد محبت کرتاہوں اوراس سے شادی کرنا چاہتا ہوں مگر لوگ جینے نہیں دیتے، پرنسپل صاحب مجھےاسکول میں ایسا نہیں کرنا چاہیے لہٰذا آپ سے معافی مانگتا ہوں جس کے بعد اس نے خود کشی کرلی۔ اسامہ نے خودکشی کے لیے جو پستول استعمال کیا اس نے خط میں لکھا کہ یہ میرے پاپا کا ہے،مرنے کے بعد اسے دورپھینک دیا جائے، نہیں چاہتا کہ مرنے کےبعد پولیس پاپا کو تنگ کرے۔دوسری جانب اسامہ کے والد عالمگیر کا کہنا ہے کہ انہیں بیٹے کی ٹیچرسے محبت کا علم نہیں تھا وہ توپہلے ہی اسامہ کی پسند کی لڑکی سے منگنی کراچکے تھے۔

Comments

comments

  Categories: