پنجاب یونیورسٹی ریسرچ سکالرکی جانب سے سیپیوں پر منفرد تحقیق

پنجاب یونیورسٹی ریسرچ سکالرکی جانب سے سیپیوں پر منفرد تحقیق
جنوری 17 12:57 2017 Print This Article

لاہور (ویب ڈیسک):پنجاب یونیورسٹی شعبہ زوالوجی کے ریسرچ سکالر محمد سہیل نے چشمہ بیراج کی سیپیوں میں زہریلی دھاتوں کی موجودگی کے موضوع پر ریسرچ ورک مکمل کر لیا ۔ اس ریسرچ میں ان کی معاونت ڈین فیکلٹی آف لائف سائنسز پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم خان نے کی۔ ریسرچ کے مطابق تازہ پانی کی سیپیاں ماحولیاتی آلودگی ، صحت اور توازن کیلئے حساس ہوتی ہے اور یہ موتی بنانے والی سیپیوں کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہیں جو کہ حرکت کئے بغیر پانی کی تہہ میں رہتی ہیں۔ یہ جانور اپنی خوراک اور آکسیجن کیلئے پانی کو فلٹر کرتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے صنعتی ،زرعی اور انسانی آلود کار ان میں جمع ہو جاتے ہیں۔ ریسرچر نے چشمہ بیراج سے جمع کئے گئے تازہ پانی کی سیپیوں کے گلپھڑوں ، Mentalاور پاؤں میں لیڈ، کرومیم اور کاپر کی موجودگی کا جائزہ بھی لیا۔ پنجاب یونیورسٹی ایڈوانسڈ سٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر معین ناصر ترقی یافتہ یورپین محققین کی جانب سے وصول ہونے والی بہترین جائزہ رپورٹ کی بنیا د پرمحمد سہیل کے مقالے کی منظوری دی۔یونیورسٹی آف بوہیمیاچیک ریپبلک اور ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف فشریز اینڈ ایکوکلچر ہنگری کے ماہرین نے اس تحقیق کو بہت اہم اورلائف سائنسز کے شعبہ کیلئے سنگِ میل قرار دیا ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر معین نے غیر ملکی ماہرین کی بہترین تجزیاتی رپورٹ اورمقالہ پر محمد سہیل اور ڈاکٹر محمد نعیم خان کو مبارک باد پیش کی ہے۔

Comments

comments