یونیورسٹی آف ایجوکیشن کا پانچواں کانووکیشن، 5888 طلباء کو ڈگریاں دی گئیں

یونیورسٹی آف ایجوکیشن کا پانچواں کانووکیشن، 5888 طلباء کو ڈگریاں دی گئیں
جنوری 17 13:16 2017 Print This Article

طلبا ملکی ترقی میں کردارادا کریں۔صوبائی وزیر رضا گیلانی

 385میں سے  104 اساتذہ پی ایچ ڈی اور 170ایم فل ہیں۔وائس چانسلرڈاکٹر رؤفِ اعظم

یونیورسٹی  کو400 ایکڑ رقبہ درکار ہے، حکومت پنجاب کے تعاون کے منتظر ہیں۔وائس چانسلرڈاکٹر رؤفِ اعظم

  درجنوں طلبہ کو داخلی دروازہ پر روک لیا گیا

لاہور (  رپورٹ۔ محمد اسد سلیم ) یونیورسٹی آف ایجوکیشن، لاہور کا پانچواں کانووکیشن  ٹاؤن شپ کیمپس میں منعقد ہو ا، جس میں 5888 فارغ التحصیل طلباء کو ڈگریوں سے نوازا گیا۔ کانووکیشن کی صدارت وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایجوکیشن پروفیسر ڈاکٹر رؤفِ اعظم نے کی جبکہ پرو چانسلر یونیورسٹی آف ایجوکیشن، لاہور وزیر تعلیم سیدرضا علی گیلانی اور چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نظام الدین مہمانان خصوصی تھے۔کانووکیشن میں 2504بی ایڈ، 67 بی ایڈ اسپیشل ایجوکیشن، 107 ایم ایڈ اور ایم اے اسپیشل ایجوکیشن، 490 ایم ایڈ اور ایم اے ایجوکیشن،29 ایم اے ایجوکیشن لیڈرشپ اینڈ مینجمنٹ، 493 ماسٹر آف آرٹس،497 ماسٹر آف سائنس، 200 ایم بی اے،187 بی بی اے،187 بی ایس آنرز،67 بی ایف اے، 607بی ایڈ آنرز، 15 پی ایچ ڈی سکالرز اور 107ایم فل سکالرز میں ڈگریاں جبکہ 196طلباء میں میڈل تقسیم کئے گئے۔

اس موقع پر وزیر ہائرایجوکیشن پنجاب و پرو چانسلر یونیورسٹی آف ایجوکیشن سیدرضا علی گیلانی نے گریجوایٹس کو ان کی کامیابی پر مبارکباد دی اور کہا کہ اب آپ کا فرض ہے کہ آپ نے جو سیکھا ہے وہ معاشرے کو لوٹائیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں اعلی تعلیم کے فروغ کے لیے پر عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے صوبہ میں تعلیم کے لیے میرٹ پر اساتذہ کی بعیناتی، کالجز اور سکولوں میں آئی ٹی لیب کا قیام ہونہار طلباء کو وظائف کا اجراء جیسے ٹھوس ا قدامات اٹھائے ہیں۔

چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نظام الدین نے یونیورسٹی کو ایک مضبوط ٹیچر ایجوکیشن ادارہ میں ڈھالنے کے لئے سال ہا سال کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ یونیورسٹی ڈ اکٹر رؤف اعظم وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایجوکیشن کی قیادت اور اس کی ٹیم کی محنت سے نہ صرف کوالٹی بلکہ استعددادد میں بھی مذید آگے بڑھے گی

وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایجوکیشن پروفیسر ڈاکٹر رؤفِ اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت یونیورسٹی کے مختلف کیمپسز اور ڈویژن میں 385 اساتذہ جن میں104 پی ایچ ڈی اور 170ایم فل اساتذہ ہیں۔ یونیورسٹی اپنے قابل اور اعلی تعلیم یافتہ اساتذہ اور ددیگر کامیابیوں کے ساتھ ملک کی یونیورسٹیز میں ایچ ای سی کی ددرجہ بندی میں 12ویں نمبر پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے مختلف شعبوں میں مقاصد کے حصول کے لئے یونیورسٹی اپنے تمام تر وسائل استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے علم اور تحقیق اور معا شرے کی خدمات کے لئے یو نیورسٹی کی کا کردگی کا بھی ذکر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے 3500 نئے بھرتی ہونے والے کالج اساتذہ کی ٹریننگ کے لئے 120ملین مختص کئے ہیں اور انکی ٹریننگ کی ذمہ داری یو نیورسٹی کو دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے کالج اساتذہ کی ٹریننگ کا منصوبہ بھی یو نیورسٹی 2016 میں مکمل کر لے گی۔ انہوں نے کہا کہ چائنہ اور ترکی لینگویج کے لئے ہونہار طلباء کو وظائف کے اجراء کے عمل نگرانی اورتکمیل یونیورسٹی آف ایجوکیشن کر رہی ہے۔ اور 300 طلباء کو اس اسکیم کے تحت چین بھی بھیجا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی اپنے کیمپسز کے بنیادی ڈھانچہ ، اپنی لائیبریریز اور آئی ٹی لیبز کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کرنے پر بھر پور توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیپمسز کو ہائی سپیڈ انٹر نیٹ کی سہولت بھی مہیا کی گئی ہے۔ اگرچہ لاہور میں یونیورسٹی آف ایجوکیشن کی تین کیمپسز ہیں لیکن ان میں سے کسی کا رقبہ بھی کسی جدید یونیورسٹی کی ضروریات کے لئے کافی نہی ہے۔ اس لئے یونیورسٹی آف ایجوکیشن کو کم از کم 400 ایکڑ رقبہ درکار ہے جس کے لیے ہم حکومت پنجاب کے تعاون کے منتظر ہیں۔
۔ اس موقع پر دیگر یونیورسٹیز سے آئے وائس چانسلرز، ماہرین تعلیم، یونیورسٹی سٹاف، طلباء اور ان کے والدین کی کثیر تعداد موجود تھی

باہر کا منظر

درجنوں طلبہ کو داخلی دروازہ پر روک لیا گیا جس کی وجہ سے طلبا اور سیکورٹی اہلکاروں  تلخ کلامی ہوئی اسی اثنا میں سبز نمبر پلیٹ والی ایک گاڑی نے ایک طالبہ کا پاوٰں کچل دیا۔ اہلکاروں نے ایک طالب علم وکو تھپڑ بھی مارا۔ میڈیا کی مداخلت پر سیکورٹی اہلکار تبدیل کردیا گیا۔  دی ایجوکیشنسٹ سے بات کرتے ہوئے طلبا نے بتایا کہ بروز پیر بھی کانووکیشن کی   مشقوں  کے لئے  آئے تھے جبکہ  ہمیں صبح 10 بجے سےدوپہر 3 بجے تک انتظار کروایا گیا تھا اور آج ہم ڈگریاں لینے آئے ہیں تو ہمیں  اندرد داخل ہونے نہیں دیا جا رہا۔ بعد ازاں طلبا کے احتجاج کرنے پر  داخلی دروازہ کھول دیا گیا ۔ جبکہ یونورسٹی انتظامیہ نے اپنا موئقف دیتے ہوئے بتایا کہ طلبا کو تاخیر سے آنے کی وجہ سے  روکا گیا ۔

Comments

comments