22 اضلاع اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے حامی

22 اضلاع  اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے حامی
August 27 17:06 2019 Print This Article

 

رپورٹ ۔ عثمان بے خبر

ماہرتعلیم  اور پرائمری تعلیم کے سٹیک ہولڈرز اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ اردو زبان میں دی جانی والی تعلیم طلباء کے لیے زیادہ موثر اور صلاحیتیں  نکھارنے کا سبب بنتی ہے ۔پنجاب گورنمنٹ  نےنئے تعلیمی سال کے آغاز پر   22 اضلاع میں کی جانے والی ایک تحقیق کے بعد اردو زبان کو   پرائمری سطح  پر     ذریعہ تعلیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔سابق وزیر اعلی  پنجاب شہباز شریف نے ماہر تعلیم سر مائیکل باربر کے مشورے کے بعد   سرکاری اسکولوں میں انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے کا حکم جاری کیا تھا ، لیکن   گورنمنٹ  طلباء کی مطلوبہ  تعداد کو اسکول لانے میں ناکام رہی،جس کی وجہ سے تعلیمی مسائل پیدا ہوئے ۔تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ  مادری زبان یا قومی زبان میں دی جانے والے تعلیم بچوں کے لیے زیادہ آسان اور پر اثر ہے  ۔

بچوں کے اذہان   پر  ماحول کا بہت اثر ہوتا ہے وہ جو دیکھتے یا سنتے ہیں اس کو جلدی سیکھتےہیں  جبکہ انگریزی زبان کا ماحول   موجود نا ہونے کی وجہ سے بچوں میں  وہ صلاحیت ہی نہیں پنپ پاتی کہ    وہ    اپنی تعلیمی صلاحیت کو نکھار سکیں ۔ ایک تازہ سروے کے مطابق پچھلی دہائیوں میں انگریزی ذریعہ تعلیم رائج کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو ا، 50 فیصد سے بھی کم بچے بنیادی انگریزی  الفاظ  بھی   یاد نہیں  رکھ سکے ۔

ریاضی اور سائنس کو انگریزی میں پڑھانے کی وجہ سے بچے  کتابوں سے رٹا  لگا کر  پاس تو ہو جاتے ہیں مگر ان کے طرز فکر میں کوئی تبدیلی نہیں آتی جس کی وجہ سے وہ انگریزی میں زبانی اسے سنا نہیں سکتے اور نا ہی بہتر انداز میں اس کی تشریح کر سکتے ہیں  ۔ مادری یا عام زبان میں دی جانے والی تعلیم بچوں کے ذہنوں میں بہتر اثرات مرتب کرتی اور اور ان کی مہارت اور تعلیمی شوق  کے   بڑ ھاؤ کا سبب بنتی ہے۔ محتلف زبانوں میں دی جانے والی ابتدائی تعلیم بچوں کی دماغی صلاحیتوں کو مفقود کر دیتی ہے ، اور سیکھنے کے مراحل میں مشکلات کا سبب بنتی  ہیں ۔جنوبی افریقہ میں ہونے والی  ایک موجودہ  تحقیق  کے مطابق ، جس میں  طویل عرصے کے اعداو شمار کا  استعمال کیا گیا اس  سے پتا چلتا ہے کہ ابتدائی جماعتوں میں مادری زبان نے انگریزی کے حصول کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے ۔اسکول  کی سطح پر تعلیمی اداروں نے اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کا  جو فیصلہ کیا ہے اس سے انگریزی زبان کو سیکھنا بھی آسان ہو گا ، مڈل اور  سیکنڈری لیول  میں  بھی بہتری نظر آئی گی۔

ایجوکیشن یونیورسٹی  کے وائس چانسلر رؤف اعظم نے بتایا کہ انہوں نے ہزاروں اساتذہ کی ٹریننگ کی مگر  انکی انگریزی پڑھانے کی استعداد میں اضافہ نا ہو سکا ۔انہوں نے کہا کہ قومی اور بین الاقوامی   تحقیقات   سے حاصل  ہونے والی تجاویز  میں یہی کہا گیا ہے کہ سیکھنے کے عمل کو بڑھانے کے لیے پرائمری تعلیم مادری زبان میں ہی دی جائے ۔ گورنمنٹ کا یہ احسن اقدام ہے کہ اس نے اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں  نے مزید کہا  کہ مادری زبان میں پڑھانے کے باعث  طلباء کو محتلف مضامین سمجھنے میں  خاصی مدد ملے گی ان کے طرز فکر میں تبدیلی رونما ہو گی  اورانگریزی  کو ایک مضمون کے طور پہ ہی پڑھایا جائے ۔رؤف اعظم نے کہا کہ یونیورسٹی کے  پروفیسر ز پورا لیکچر انگریزی میں نہیں دیتے تو  کیسے  ممکن  ہے  کہ اسکولوں کے  اساتذہ  یہ کر سکیں ۔بہت سی جامعات کے اساتذہ لیکچر ز کے دوران  سلائڈز انگریزی میں  دکھارہے ہوتے ہیں مگر   پڑھاتے      اردو ، پشتو ، پنجابی ، سرائیکی  اور براہوی زبانوں میں ہیں ۔

اساتذہ اتحاد پنجاب کے سیکرٹری رانا لیاقت نے کہا  کہ  اسکول اساتذہ کے پا س قابلیت ہی نہیں ہے کہ وہ انگریزی میں پڑھا سکیں  ان میں  بہت سے اردو میں ہی پڑھاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے خود بھی کوشش کی ہے کہ ابتدائی تعلیم اردو میں ہی دی جائے ۔طلباء اردو میں بہتر طور پر  اپنے مضامین  سمجھ سکتے ہیں اور اسکول کی تعلیم گورنمنٹ کی غیر مستقل پالیسیوں  کا شکار رہی ہے ۔انہوں نے مزید  کہا کہ اردو ابھی بھی بعض علاقوں میں  غیر ملکی زبان سمجھی جاتی ہے ،  لیکن موجودہ دور میں اردو   ملک  میں  وسیع پیمانے پر سمجھی جانے لگی ہے ۔

Print this entry

Comments

comments

  Categories: