سرکاری جامعات کو غیر سیاسی کرنا ہو گا، گورنر پنجاب

سرکاری جامعات کو غیر سیاسی کرنا ہو گا، گورنر پنجاب
August 19 21:29 2019 Print This Article

مسلسل محنت و ریاضت اور اپنی خدادا صلاحیتوں کی بدولت یونیورسٹی آف ایجوکیشن کو عالمی درجہ بندی میں   لائیں گے۔چوہدری  محمدسرور 

للاہور (دی ایجوکیشنسٹ،  19اگست 2019  ،  عثمان بے خبر )  سرکاری جامعات میں سینڈیکیٹ کا اجلاس ہونا بے حد ضروری ہے۔  تمام جامعات کے امور کو خود بھی مانیٹر کر رہا ہوں۔  سینڈیکٹ کی دو سے تین اجلاس ہونا چاہیے اور جو ممبر دو اجلاسوں میں شر کت نہ کرئے  اسکی ممبر شپ منسوخ کی جانی چاہیے۔ سرکاری جامعات کو معیاری تعلیم کے  لیے غیر سیاسی کرنا  ہو گا۔ اس قوم کا مستقبل کیا ہو گا جس کے دو کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔  ہمیں اس جانب بھی توجہ دینی ہو گی۔  اساتذہ کی عملی تربیت کا کام سر انجام دینا  یونیورسٹی کی احسن کاوش ہے۔  ان خیالات کا اظہار گورنر پنجاب  چوہدری محمد سرور نے  یونیورسٹی آف ایجوکیشن  کے زیر اہتمام   مرکزی کیمپس میں تعمیر و ترقی کے حوالے سے 969.552 ملین روپے کے میگا پراجیکٹ کا افتتاحی تقریب سے خطا ب کے دوران کیا۔  تقریب میں صو با ئی وزیر برائے اعلی تعلیم راجہ یاسر ہمایوں سر فراز،  چئیر پرسن پنجاب ہا ئر ایجوکیشن کمیشن  پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خالد، وائس چانسلر  یونیورسٹی آف ایجوکیشن  ڈاکٹر روف اعظم،  تمام شعبہ جات کے سربراہان اور میڈیا نمائندگان کی بڑی تعداد نے بھی شر کت کی۔  چانسلر و گورنر پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ جامعات کو بجلی کی بچت کے لیے سولر انرجی  پر منتقل کر نا ہو گا جس پر اکثر جامعات نے کام کا آغاز کر دیا ہے۔

تمام یونیورسٹیوں میں درجہ چہارم سے لیکر تمام افسران اور طلبہ و طالبات کے لیے پینے کا صاف پانی  فراہم کرنا اولین  ترجیحات میں شامل ہو نا چاہیے۔  موجودہ حکومت وزیر اعظم پاکستان کے ویژن کے مطابق تعلیم اور خصوصاً اعلی تعلیم کے حوالے سے نہایت حساس واقع ہوئی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ اگلے چار سالوں کے دوران ہماری کئی جامعات عالمی درجہ بندی میں پہلی سو جامعات میں شامل ہو سکیں۔ اس حوالے سے ہم اپنی جامعات کو ہر ممکن مدد اور رہنمائی فراہم کرنے کے لئے کمربستہ ہیں۔  میڈیا کے سوالا ت کا جواب دیتے ہو ئے  گورنر پنجاب کا  کہنا تھا کہ  آرمی چیف  جنرل  قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں  تین سال کی توسیع  کو مللک و قوم کے مفاد میں قرار دیتے ہو ئے کہا کہ کشمیر اور خطے کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے پاکستان حالت جنگ میں ہے۔  وزیر اعظم  پاکستان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دے کر با لکل درست فیصلہ کیا ہے۔ 

بھارت ہر محاز پر ناکامی کے بعد خطے کے امن کو تباہ کرنے کے لیے  سازشیں کر رہا ہے۔ ستر فیصد لوگ  گندہ پانی پینے کے سبب بیمار ہو تے ہیں۔ پینے کے صاف پانی کے لیے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانا ہوں گے۔  50روپے میں ایک طالبعلم کو پورا ماہ صاف پانی پینے کا فراہم کیا جا سکتا ہے۔  ہم اس وقت حالت جنگ میں  ہیں اور بھارت نہیں چاہتا  کہ افغانستان میں امن ہو جا ئے۔  افغانستان میں امن کا ہونا پاکستان کے لیے فائدہ مند ہے۔  کرتا رپو ر راہداری کو کھولنے کے منصوبے پر بھی بھارت خوش نہیں ہے اور ہم نے راہدار ی پر کام جاری رکھنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ  ممبران صوبائی اسمبلی اور وزیر اعلی پنجاب  کی تنخواہوں میں کمی کیے جانے کے بعد بل پر دستخط کیے گئے ہیں۔ 

  تقریب سے اپنے خطاب میں وائس چانسلر  ڈاکٹر روف اعظم  کا کہنا تھا کہ  میگا  پراجیکٹ کے تحت طلباء کے لئے ہاسٹل، سٹوڈنٹس سروس سنٹر، مین لائبریری، بیچلر فیکلٹی ہوسٹل کی تعمیر کے ساتھ سٹیٹ آف دی آرٹ سائنس اور کمپیوٹر لیب کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ علاوہ ازیں طلباء کو بہترین سفری سہولیات فراہم کرنے کے لئے بسوں کی خریداری بھی کی جائے گی۔  یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے پنجاب بھر کے مختلف شہروں میں پھیلے وسیع و عریض کیمپسز میں اس وقت تقریباً 23 ہزار طلباء زیر تعلیم ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے یونیورسٹی آف ایجوکیشن یقیناً پنجاب کی سب سے بڑی یونیورسٹی کہلانے کی حق دار ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ حصہ بقدر جثہ کے مصداق یونیورسٹی آف ایجوکیشن حکومتی مدد اور رہنمائی کی بھی زیادہ مستحق ہے۔

مجھے یہ جان کر بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ جامعہ ہذا میں پی ایچ دی اساتذہ کا تناسب دوسری بے شمار جامعات سے کہیں زیادہ ہے۔ ہر سال داخلے کے خواہش مند طلباء کی تعداد میں اضافہ، ریسرچ پبلیکیشنز میں مسلسل اضافہ، طلبہ و طالبات کے لئے بہترین ہوسٹلز کی سہولت اور صفائی کا بہترین انتظام یقیناً یونیورسٹی انتظامیہ کی شبانہ روز محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مجھے یقین واثق ہے کہ مسلسل محنت و ریاضت اور اپنی خدادا صلاحیتوں کی بدولت یونیورسٹی کی موجودہ انتظامیہ اور اساتذہ مل جل کر یونیورسٹی آف ایجوکیشن کو عالمی درجہ بندی میں ایک ایسے بلند مقام پر لے آئیں گے جس پر ہم سب فخر محسوس کریں گے۔ تقریب کے اختتام پر گورنر پنجاب اور صوبائی وزیر برائے اعلی تعلیم نے دیگر مہمانوں کے ہمراہ  یونیورسٹی کے خوبصورت گراونڈ میں شجر کاری  مہم کے تحت پودے بھی لگائے۔  

Print this entry

Comments

comments

  Categories: