اردو بولنے والی قوم بے ادب ہو گئی

July 22 13:30 2019 Print This Article

اانوشہ خان

ایک دفعہ ایک اجلاس میں ایک زیادہ پڑھے لکھے ناظم نے آداب محفل کو نظرانداز کرتے ہوئے محفل کا مزہ ہی کرکرا کر دیا۔ اس نے ہر مضمون نگار کے مضمون اور مقرر کی تقریر کے بعد بلا ضرورت اپنا تبصرہ کرنا شروع کر دیا اور آخر میں غیر ذمہ داری کی انتہا کرتے ہوئے صدر مجلس کی تقریر پر بھی اپنا غیر ضروری تبصرہ کر دیا۔ ناظم محفل کی یہ حرکت اخلاقیا ت کے خلاف تھی اور شرکائے محفل نے اس چیز کو خاصا ناپسند بھی کیا۔
یہاں منتظمین اور شرکائے جلسہ از خود پابند اخلاق و ڈسپلن رہتے ہیں۔ ان محافل میں تمام شرکاء لازما با طہارت اور ممکن ہو تو با وضو شریک ہوتے ہیں۔مقررین کرام اور دیگر احباب مناسب سلیقہ کا لباس پہن کر ان جلسوں میں شریک ہوتے ہیں۔ ان محافل کے جلسہ گاہ میں سگریٹ نوشی قطعہ ممنوع ہوتی ہے اور بلند آواز میں گفتگو اور تبصروں سے گریز کیا جاتا ہے۔ ضرورت کے تحت جلسہ گاہ سے باہر جا کہ یہ سب کیا جا سکتا ہے۔ ان مقدس محافل میں مقررین، واعظین اور دیگر علماء کرام کے کام پر جملے کسنا، تالیاں بجانا، ہوٹنگ کرنا اور غیر ضروری مداخلت کرتا آداب محفل کے خلاف متصور ہو گا اور ایسی حرکات کی یہاں قطعی اجازت نہ ہو گی۔ مختصر یہ کہ مذہبی محافل کا سارا ماحول تہذیب و اخلاق اور ڈسپلن کا ایک بہترین نمونہ ہوتا ہے۔ بے ادبی کی مثال یہاں سے لی جا سکتی ہے کہ جلسوں اور دیگر تقاریب کے اختتام پذیر ہونے پر کھانا کھلتا ہے تو لوگ انتہائی جہالانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے اس کا صیاع کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی مثال سڑکوں پر پھرنے والے ان لوگوں کی سی ہے کہ کوئی ان کو راٹی دیتا ہے تو وہ انتہائی بدسلقے سے کھانا شرو ع کر دیتے ہیں تو براہ کرم اس کھانے کو ضائیع نہ کریں۔ کئی جانیں اس کھانے کو ترس کر نیلے آسمان تلے سو جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیشہ عقل سے کام لینا چاہیے اور سلیقے کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

ادبی وتہذیبی محافل میں صورتحال دوسری نوعیت کی ہوتی ہے۔ادبی محافل میں چونکہ زیادہ تر تعلیم یافتہ اصحاب شرکت کرتے ہیں اس لیے یہاں بداخلاقی کا مظاہرہ کم کم ہی دیکھنے میں سامنے آتا ہے۔ادبی موضوعات پر منعقدہ محافل میں مضامین اور تقاریر نہایت سنجیدگی کے ساتھ پڑھے اور سنائے جاتے ہیں۔ ان محفلوں کے مقررین اور مضمون نگاروں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ امے مقررہ وقت میں ہی موضوع پر ا ظہار خیال فرمایئں گے۔ زیادہ وقت لینا اور موضوع سے ہٹ جانا آداب محفل کے خلاف سمجھا جائے گا۔ ان محفلوں میں ناظم محفل اور صدر جلسہ اپنے اپنے فرایض انجام دیتے ہیں۔جب بھی کوئی جلسی یا تقریب منعقد کی جاتی ہے تو اس کی کچھ حدود ہوا کرتی ہیں۔ اگر وہ حدود سے باہر نکل جایئں تو اپنا مقصد کھو دیتی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاد کے جلسوں کی ہی مثال لے لیں جس میں تبدیلی کے نام پر سب کو نچایا گیا اورہمارے حکمران کنٹینر پر کھڑے ہو کر خوش ہو رہے ہوتے تھے کہ اب تبدیلی آگئی ہے۔ یہ کہاں کی تبدیلی ہے؟ کیا ہمارے مذہب اسلام نے ہمیں یہ سب سکھایا ہے؟ کیا ہمارا ضابطہ اخلاق ہمیں اس چیز کی اجازت دیتا ہے۔ ذرا سوچئے اور اپنے حال کوآج سے ہی بہتر کرنے کی کوشش کیجئے۔ مگر یہ بات تو کھری ہے کہ جیسی رعایا ہوتی ہے ویسے ہی حکمران ان پر مسلط ہوتے ہیں۔
محفل سیرت النبی، محفل نت، محفل درود پاک، نعتیہ مشاعہ اور محفل سماع، ادبی اجلاس، ادبی مذاکرہ، ادبی مشاعرہ۔ مزاحیہ مشاعرہ، محفل غزل گوئی اور محفل لطیفہ گوئی وغیرہ (ادبی وتہذیبی محافل)۔ طونکہ ہر محفل ایک مخصوص موضوع کے تحت منعقد ہوتی ہے، اس لیے اس کے آداب بھی اسی مناسبت سے ہوں گے۔ مذہبی موضوعات پر منعقد ہونے والی محافل میں تہذیب۔ اخلاق اور احترام کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔
لیکن بڑے پیمانوں پر منعقد کیے گئے ادبی ومزاحیہ مشاعروں کا ماحول کسی قدر جدا ہوتا ہے۔ ان بڑے مشاعروں میں بعض شعراء اپنی نجی عادت سے مجبور ہو کر ایک خاص حالت میں اپنا کلام سنانے کے لیے مائیک پر تشریف لاتے ہیں اور کلام پیش کرتے وقت ان کی حرکتوں سے سامعین محظوظ ہوتے ہیں لیکن چند شعراء پر پابندی بھی نہیں لگائی جا سکتی جب کہ کئی دوسرے شعراء ان عادتوں سے بے نیاز ہیں۔ بڑے مشاعروں میں شعرا پر (ان کا کلام پسند، ناپسند آنے کی صورت میں) جملے کسنا، تالیاں بجانا، ہوٹنگ کرنا، تالیاں بجانا اور بسا اوقات نامناسب فقرے کسنا آج کل سامعین کے ایک مخصوص حلقہ کی عادت بن گئی ہے۔ اس زمرے میں پڑھے لکھے، کم پڑھے لکھے اور جاہل افراد سبھی شامل ہیں۔ ایک اچھے ادبی ماحول میں ایسی قابل اعتراض حرکات کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی۔آج کل یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض لطیفہ گوئی کی محافل میں غیرشائستہ و غیر مہذب لطائف بھی سنائے جاتے ہیں۔ یہ لطیفہ گو اصحاب محفل میں موجود خواتین، بزرگوں اوربچوں کاخیال بھی نہیں رکھتے۔ یہ آداب محفل اور اخلاقیات کے خلاف ہے اور اسی حرکتوں کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ اس رجحان میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔ ان محافل میں چائے و غیرہ تو گوارا کی جا سکتی ہے مگر سگریٹ نوشی کی اجازت بالکل بھی نہیں ہونی چایے۔ یہاں پارلیمنٹ کی طرف اگر نگاہ دوڑائی جائے تو پارلیمنٹ میں اپنی بات منوانے کے لئے، لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانے کے لیے،ایک دوسرے کی بات کاٹتے ہوئے لوگ بدسلیقی کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ہرشے پکارتی ہے پس پردہ سکوت
کس کو سناوں کوئی ہم نوا بھی تو ہو

Print this entry

Comments

comments

  Categories: