اہلِ محبت

July 08 21:35 2019 Print This Article

۔ تحریر :محمد ارسلان

وقت گزر گیا.. لمحے بیت گئے.. زمانے بدل گئے.. مگر محبتوں کی شمعیں آج بھی اپنے جوبن پہ ہیں…محبت کرنے والوں کی آنکھیں آج بھی اداسیوں کی خوشبوؤں سے مہک رہی ہیں… ان کی آنکھوں میں یادوں کی سِلیں آج تک نہیں ٹوٹیں.. ان کے پاس سے چاہت کی باس آج تک نہیں گئی. وہ خود بچھڑ گئے، ٹوٹ گئے، تڑپ گئے، جل گئے.. مگر انہوں نے محبتوں کے چراغ بجھنے نہیں دیے.. ان کی راتیں آج بھی اشکوں کے سمندر میں غوطہ زنی کرتے کرتے کٹ جاتی ہیں.. ان کے خوابوں میں آج بھی یادوں کے نصاب پڑھے جاتے ہیں پڑھائے جاتے ہیں.. ان کی باتوں میں ان کی یادوں کی تازگی آج بھی قائم ہے.. چپ کی زبان میں وہ آج بھی پکارنے والوں کی طرح پکارا کرتےہیں…وہ خاموشیوں کی زبان میں آج بھی روتے ہیں.. تنہائیوں کے اندھیروں میں وہ آج بھی گم ہیں.. ان کی پکار آج بھی انہی فضاؤں اور ہواؤں میں گونجتی ہے.. مگر سننے والے سننے سے قاصر ہیں اور جو سن لیتے ہیں وہ چارہ سازیوں کے جال بُنتے ہیں اور ان جالوں میں ان کی زندگیوں کو آج بھی جکڑ لیا جاتا ہے..

     وہ رہ جاتے ہیں ان کا زمانہ آگے بڑھ جاتا ہے… وہ پیچھے.. آرزوؤں اور حسرتوں کی گہری کھائیوں میں اپنے ویران ذہن میں گونجتے خیالوں کے ساتھ اپنے اخلاص کی شِدتّوں کو ماپتے رہ جاتے ہیں… وہ زندگی نہیں گزارتے وہ جی رہے ہوتے ہیں.. وہ غمِ ہستی کے ساتھ راضی رہتے ہوئے بسر کر رہے ہوتے ہیں.. انہوں نے قریب والوں کو دور جاتے دیکھ لیا ہوتا ہے..وہ قرب کو ہجر اور وصال کو ملال میں بدلتے دیکھ لیتے ہیں.. وہ خاموشیوں کی آوازیں سن لیتے ہیں.. وہ بے جان جسموں میں بیقرار روحوں کی طرح رہ رہے ہوتے ہیں

      کرب کی منزلوں کا سفر کرتے کرتے وہ اس مقام پر پہنچتے ہیں کہ پھر انکی بےقراریاں زمانوں میں ہلچل پیدا کرتی ہیں.. ان کی بے قرارییاں بے حسی ختم کر کے احساس کی شمعیں جلاتی ہیں… انکی بے قراریاں اخلاص کا درس دیتی ہے.. ان کی بے قراریاں عشق کا درس دیتی ہے.. وہ اپنے اخلاق کی کیاریوں پر اپنے اخلاص سے آبیاری کرتے ہیں اور محبتیں بانٹتے ہیں… نفرتوں کو دور کرنے کی کوششوں میں زندگیاں بسر کرتے ہیں… چار سازیوں کے فریب سے آزاد ہو کر وہ اخلاص کے گیت سناتے ہیں.. جن میں محویت نصیب ہوتی ہے وہ گیت زبان زدِ عام ہوجاتے ہیں.. اور اس سب میں ایک خیال ان کے ذہن سے کبھی دور نہیں جاتا وہ خیال جس سے وہ خود کو جدا نہیں کرتے وہ خیال جسے وہ وہ سب خیالوں کا سرچشمہ قرار دیتے ہیں.. وہ خیال محبوب کا خیال ہے

.      وہ معشوق اور محبوب جس نے ان کو خوبصورت خیالوں کے خوبصورت تحفے سے نوازا ہوتا اور انھیں خیالوں کی رعنائی کی منزل سے ہمکنار کیا ہوتا ہے… واصف صاحب کہتے ہیں کہ محبت وَحدت سے کثرت اور کثرت سے وَحدت کا سفر ہے.. وہ واحد محبوب ان کو کثیر مخلوق کی محبت دیتا ہے.. تمام سوچوں کا مرکز اور تمام خیالوں کا محور ہو تا ہے.. اسی محبوب کی خاطر وہ مخلوق میں محبتیں بانٹتے ہیں.. اس محبوب کی یاد ادب کے ساتھ قائم رہتی ہے جو واصف صاحب کہتے ہیں کہ ایسے لوگ بقا سے واصل ہو جاتے ہیں… مجاز بھی عشق ہے.. حقیقت بھی عشق ہے.. مجاز کی محبت کے بِنا حقیقت کی محبت کیسے سمجھ آئے؟انسان کو سمجھے بغیر خدا کو کیسے سمجھا جاسکتا ہے..؟عشقِ مجازی عشقِ حقیقی کی پہلی سیڑھی ہے.. عشق مجازی فنا سے محبت ہے اور جب فنا سے محبت اس قدر بڑھ سکتی ہے تو باقی سے محبت کیوں نہ ہو… مجاز تقاضا کرتا ہے کہ اُسے حقیقت سے آشنا کیا جائے.. اس کے ذریعے حقیقت سے آشنا ہوا جائے ..محبت زندگی ہے… عشق زندگی ہے.. خیالِ یار سکون ہے.. یار کی یاد درد کا علاج ہے.

     اللہ تعالی ہمیں عشق کی حقیقت اور حقیقت سے عشق کی سمجھ عطا فرمائے.. اللہ تعالی ہمارے منظورِ نظر کو سلامت رکھے.. مسکراہٹوں کو سلامت رکھے.. اللہ ہمیں اپنا فضل عطا فرمائے.آمین.

 

<arslantahir323@gmail.com>

Print this entry

Comments

comments

  Article "tagged" as:
  Categories:
view more articles

Related Articles