ہا ئر ایجوکیشن کمیشن میں میرٹ کے خلاف بھرتیاں!

by Shabbir Sarwar | April 15, 2019 5:06 pm

تمام شعبہ جات کے ڈائر یکٹر جنرلزاورمشیران کی موجودگی کے باوجود بھاری تنخواہوں کے عوض کنٹریکٹ پرکنسلٹنٹس کی تعیناتی کا سلسلہ جاری

 
– لاہور (رپورٹ۔ محمد علی) ہا ئر ایجوکیشن کمیشن پاکستان میں مبینہ طور پرمن پسند اور متعلقہ شعبوں میں درکار تجربہ نہ رکھنے والے افراد کو بھاری تنخواہوں پر کنٹریکٹ پر بھرتی کیا جارہا ہے جبکہ پنجاب یونیورسٹی و دیگر کئی جامعات میں کنٹریکٹ بھرتی پر مکمل پابندی ہے اور درجنوں تجربہ کار ملازمین اور پی ایچ ڈی اساتذہ کنٹریکٹ ختم ہونے پر معاشی مسائل کا شکارہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایچ ای سی پاکستان میں تمام شعبہ جات کے ڈائر یکٹر جنرلزاورمشیران کی موجودگی کے باوجود کمیشن کے اعلی حکام کی جانب سے مختلف شعبوں میں بھاری تنخواہوں کے عوض کنٹریکٹ پر۲۰ کے قریب کنسلٹنٹس کی تعیناتی کا سلسلہ جاری ہے جس سے ملکی خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچائے جانے کا اندیشہ ہے ۔ ماضی میں ایچ ای سی پاکستان میں کسی بھی چئیر مین کے دور میں اتنی بڑی تعداد میں کنسلٹنٹس کو بھرتی نہیں کیا گیا تھا۔ 

دی ایجوکیشنسٹ کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق 20مارچ 2019 کو دو سال کے کنٹریکٹ پرایم پی۔2 سکیل میں تین لاکھ روپے تنخواہ کے عوض مینجنگ ڈائر یکٹر کوالٹی ایشورنس ایجنسی ، ہا ئر ایجوکیشن کمیشن پاکستان، ایک خاتون کو تعینات کیا گیا ۔ یہ خاتون ڈاکٹر نادیہ طاہر مبینہ طور پر اپنے ایم ڈی کوالٹی ایشورنس کے عہدے کی بجائے کمیشن کے ریسرچ اینڈ ڈویلمپنٹ کے شعبہ میں کام کر رہی ہیں کیونکہ اس سے قبل وہ ڈائر یکٹر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز بھی رہ چکی ہیں۔ یہ ڈائر یکٹر کوالٹی ایشورنس کے عہدے کا تجربہ نہیں رکھتی۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر نادیہ ان دنوں چئیر مین کے ہمراہ چین کے دورے پر ہیں ۔

اسی طرح 20 مارچ کو ہی نور آمنہ نامی خاتون کوایم پی۔ 2 سکیل پر بطور ایڈوائز مانیٹرنگ اینڈ ایویلو ایشن 2سالہ کنٹریکٹ پر تین لاکھ رروپے تنخواہ پر تعینات کیا گیا ہے۔یہ خاتون افسر ایچ ای سی پاکستان میں لرننگ اینڈ ایویلو ایشن کے شعبہ کا تجربہ رکھتی ہیں جبکہ نئے عہدے پرکام کرنے کا پہلے سے کو ئی تجربہ نہیں ہے۔ ذرائع کا دعوٰی ہے کہ دونوں خاتون افسران کو شارٹ لسٹ نہ ہونے کے باوجود اعلی افسران کی سفارش پر اہم عہدوں پر فائز کیا گیا۔ حال ہی میں کنسلٹنٹ سپورٹس، کنسلٹنٹ چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری، کنسلٹنٹ فنانس کا اشتہار بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح کنسلٹنٹ اکڈیمکس کے عہدے پر ذو الفقار علی گیلانی، کنسلٹنٹ آئی ٹی آصف خان، آئی ٹی کنسلٹنٹ محمد رضوام، داود منیر کنسلٹنٹ لیگل، آمنہ ہوتی کوارڈینٹر سیر ت چئیر، ڈائر یکٹر جنرل سروسز محمد لطیف کو تعینات کیا گیا ہے ۔ تعینات ہونے والے کنسلٹنٹس کو تمام مراعات کے ساتھ ساتھ 2 سے 4لاکھ روپے تنخواہ دی جا رہی ہے ۔

اسی طرح ایڈوائزر ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ وسیم ہاشمی کو کنٹریکٹ ختم ہونے پر فارغ کردیا تھاتاہم اب وسیم ہا شمی کوکنسلٹنٹ ایچ آر ڈی کے عہدے پر تعینا ت کر دیا گیا ہے۔   ذرائع کے مطابق کل۲۰کنسلٹنٹ تعینات کئے جائیں گے جو قومی خزانے پر بہت بھاری پڑیں گے۔ 

مزید یہ کہ ہا ئر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے چیئرمین کے بعد سب سے اہم عہدہ، ایگزیکٹو ڈائر یکٹر ہا ئر ایجوکیشن کمیشن ہے ، جس پر تقریبا 5ماہ سے بھرتی نہیں کی جارہی۔ 22 اکتوبر کو سابق ایگزیکٹو ڈائر یکٹر ایچ ای سی نے چربہ سازی کے الزام پر استعفی دیا تھا جس کے بعد سے تاحال مستقل تقرری نہیں کی گئی ہے۔ ایچ ای سی پاکستان میں تمام تر انتظامی اور دیگر امور کے ذمہ دار ایگزیکٹو ڈائر یکٹر ایچ ای سی ہوتے ہیں۔ اس عہدہ پر مستقل تقرر ی سے قبل چئیر مین کی طرف سے بھاری تنخواہوں پر کنسلٹنٹس کی تقرریاں ایک اہم سوالہے۔ 

ترجمان ایچ ای سی پاکستان نے موقف دیتے ہو ئے کہا کہ تمام تر کنسلٹنٹس کی تقرریاں مختصر مدت کے لیے میرٹ پر کی جارہی ہیں اور اس ضمن میں ایچ ای سی قوائد کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ 

پنجاب یونیورسٹی و دیگر اداروں میں کنٹریکٹ ملازمتوں سے سبکدوش ہونے والے اساتذہ و ملازمین نے نیب حکام اور وزیراعظم پاکستان سے اس دہرے معیار پر مبنی ملازمتی پالیسی کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Comments

comments

Source URL: http://urdu.educationist.com.pk/?p=2945