ناریل کا تیل خالص زہر ہے ۔امریکی پروفیسرکی تحقیق پر تنقید

ناریل کا تیل خالص زہر ہے ۔امریکی پروفیسرکی تحقیق پر تنقید
March 22 21:43 2019 Print This Article

 

لاہور (دی ایجوکیشنسٹ۔ 22مارچ 2019 ۔عثمان بے خبر )۔ ہارورڈ  یونیورسٹی میں صحت عامہ کی امریکی  پروفیسرکیرن مچل  کی  ایک تحقیق پر کافی تنقید  ہو رہی ہے جس میں انہوں  نے انکشاف کیا کہ     ناریل کا  تیل صحت بخش نہیں ، بلکہ زہر ہےاور یو ٹیوب پر شیئر کیے گئے ایک ویڈیو لیکچر میں  کیرن مچل نے خبردار کیا  کہ ناریل کا تیل انسانی صحت پر برے اثرات مرتب کر سکتا ہے ۔امریکی پروفیسر نے یہ حیران کن انکشاف اپنے ویڈیو لیکچر “ناریل اور دیگر غذائی مغالطے “میں کیا ۔کیرن  یونیورسٹی آف فریبرگ ،جرمنی کے شعبہ وبائی امراض کی ڈائریکٹر بھی ہیں اور اس تحقیق پر انہیں تنقید کا سامنا ہے۔پروفیسر نے اپنی تحقیق کے حوالے سے غذائی چارٹ  اور دیگر شواہد بھی پیش کیے ۔انہوں نے بتایا کہ ناریل کے تیل میں سیر شدہ چکنائیوں کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو صحت کے لیے زہر ہے ۔ کیرن  کی تحقیق کے مطابق اس قسم کی چکنائیوں میں  بطور خاص ایل ڈی ایل شامل ہیں جسے طبی ماہرین برے کولیسٹرول کے نام سے جانتے ہیں ، یہی وہ  چکنائی ہے  جو اندرونی سطح پر جم کر انہیں تنگ کر دیتی ہے اور خون کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالتے ہوئے امراض قلب کا سبب بنتی ہے ۔

امریکی  پروفیسر کیرن کے   اس دعوے کو جنوبی ایشیا  بالخصوص بھارت میں آڑے ہاتھوں لیا جارہا ہے اور بھارتی اداکارہ ریچا چڈہ نے مختصراً  ” چپ کرو انگریزو ” کہہ  کر اس تحقیق کو یکسر رد کرنے اور بے بنیاد ہونے کا تاثر دیا ہے ،۔ دیگر کئی شخصیات نے بھی  امریکی پروفیسر پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرق میں کھوپرے کا  تیل صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے ،اس کے لا تعداد فوائد ہیں یہ زہر کیسے ہو سکتا ہے ۔اس طرح امریکی پروفیسر کی یہ تحقیق مذاق بن چکی ہے ۔اس پر محتلف قسم کے تبصرے بھی سامنے آرہے ہیں ۔ پاکستان میں بھی اس تحقیق کو رد کیا جارہا ہے ۔تاہم تیل کے عمومی نقصانات پر بھی سنجیدگی سے  بات ہو رہی ہے۔

دلچسپ  بات یہ ہے کہ دو امریکی پروفیسروں نے بھی کیرن کے اس دعوے کو حقائق کے منفی قرار دیا ہے۔

 

Print this entry

Comments

comments

  Categories: