کامسیٹس یونیورسٹی لاہور کیمپس میں میرٹ کی پامالی،اقربا پروری اورخلاف ضابطہ تقرریاں

     کامسیٹس یونیورسٹی لاہور کیمپس میں میرٹ کی پامالی،اقربا پروری اورخلاف ضابطہ تقرریاں
March 10 18:14 2019 Print This Article

           

لاہور (دی ایجوکیشنسٹ 10 مارچ 2019 ۔عثمان بے خبر)گزشتہ دنوں کامسیٹس یونیورسٹی لاہور میں  ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میرٹ کے خلاف  اساتذ ہ  کی بھرتیاں کی گئیں۔پی ایچ ڈی اساتذہ کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک ایم فل   ڈگری رکھنے والے   کو ڈائریکٹر کا عہدہ سونپ کر اقربا پروری کی انتہا کر دی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق  لاہورکیمپس میں اس صریح ناانصافی،میرٹ کی پامالی اوراقرباپروری پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حامل اساتذہ        ڈاکٹرفراست رسول       ،ڈاکٹرعبدالرحیم ساجد،ڈاکٹرمزمل سعید ،ڈاکٹرعبدالغنی  نے پروفیسرڈاکٹرراحیل قمر(تمغہ امتیاز)ریکٹر، کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کو ایک خط لکھا جس میں لاہورکیمپس کے ڈائریکٹرکی طرف سے کی گئی  ناانصافی کا تفصلاً ذکر کیا گیا  خط کا متن کچھ یوں ہےمحترم سر!گذارش ہے کہ کامیٹس یونیورسٹی کی جانب سے ۱۴اکتوبر۲۰۱۸میں مختلف کیمپسزمیں بھرتی کااشتہاردیاگیا جس پرہم نے لاہورکیمپس میں اس امیدپراپلائی کردیاکہ چونکہ کامسیٹس یونیورسٹی ایک معتبرسرکاری ادارہ ہے اس لیے تقرریاں میرٹ پراورشفاف اندازمیں ہوں گی لیکن دورانِ بھرتی کے یہ انکشاف ہواکہ یہاں تومیرٹ  کانام و نشان تک نہیں ہے جس پرہمیں سخت  مایوسی کاسامناکرناپڑا۔میرٹ کی سخت پامالی پراب ہمارے سامنے دوراستے ہیں کہ یاتوہم خاموش ہوجائیں یاپھراس ناانصافی پرآوازِحق بلندکریں۔ہم نے کلمہ حق بلندکرنے کافیصلہ کیاہے کیونکہ دورانِ تعلیم ہمیں ایساکرناہی سکھایاگیاہے۔ہم بحثیت قوم تعلیمی اداروں میں ایسے غلط اقدامات ،اقرباپروری اورمیرٹ کی پامالی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔امیدہے آپ اپنے زیرتحت لاہورکیمپس میں اس صریح ناانصافی،میرٹ کی پامالی اوراقرباپروری پرسخت کاروائی کریں گے تاکہ وطن عزیزمیں میرٹ کی بالادستی قائم ہوسکےاورہم بحثیت قوم اقوام ِعالم میں سرخروہوسکیں۔واردات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

سرکاری تعلیمی اداروں میں کلیدی اسامیوں بالخصوص اساتذہ کی تعیناتی ایک طے شدہ اورشفاف طریقے کارکے مطابق ہوتی ہے۔ہایرایجوکیشن کمیشن پاکستان نے اس ضمن میں کم ازکم تعلیم،تجربہ،ریسرچ آرٹیکل کی اشاعت وغیرہ جاری کیاہواہے جوکمیشن کی ویب سائٹ پربھی موجودہے۔لیکن کچھ عرصہ پہلے لاہورکیمپس میں میڈیاسٹڈیزڈیپارٹمنٹ قائم کیاگیاجس میں طے شدہ طریقہ کاراختیارکی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسےشخص جوکہ عرصہ درازسے پی ایچ ڈی بھی نہیں کرسکاکونہ صرف بھرتی کرلیاگیا بلکہ ہیڈآف ڈیپارٹمنٹ بھی بنادیاگیا ۔حیرت انگیزطورپرمیڈیاسٹڈیزمیں اتنے معتبرناموں کی موجودگی کے باوجود ایک معتبرادارے میں ایک ایسےشخص کوپراسراندازمیں بھرتی کرنااورہیڈآف ڈیپارٹمنٹ بنادیناایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔موصوف مبینہ طورپرلاہورکیمپس کے ڈائریکٹرکے انتہائی قریبی عزیزہیں اوریہی ان کامیرٹ ہے۔موصوف نے اپنی تعیناتی کے کافی عرصہ بعدنظرِکرم فرماتے ہوئے ڈیپارٹمنٹ میں کچھ اپنے قریبی دوستوں اورشاگردوں کونوازنے کاپروگرام بنایا۔لیکن اس دفعہ کمال مہربانی کرتے ہوئے بھرتی کااشتہار شائع کروادیاگیا جس کے ذریعے اسسٹنٹ پروفیسراور لیکچرارکی آسامیوں کے لئے درخواستیں طلب کی گئیں ۔اسسٹنٹ پروفیسرکی آسامی کے لئے موصوف سے زیادہ تعلیم یافتہ اورقابل لوگوں نےدرخواستیں جمع کروائیں جس پرموصوف نے انہیں آوٹ کرنے کے لئے ایک نیاطریقہ تخلیق کیا۔ ہم چار پی ایچ ڈی امیدواروں نے اپلائی کیاجس میں سے تین کوانٹرویوکے لیے ہی نہیں بلایاگیابلکہ نام نہاداورخودساختہ ڈیمانسٹریشن کے ذریعے باہرکردیاگیا۔ڈاکٹرفراست رسول جنہوں نے فرانس سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے اورگزشتہ ۵سال سے بطوراسسٹنٹ پروفیسرپڑھارہے  ہیں ان سے ڈیمانسٹریشن بھی نہیں لی گئی بلکہ گپ شپ کے بعدرخصت کردیاگیا۔بعدمیں ہمیں معلوم ہواہے کہ جن ۵لوگوں نے امیدواروں کی ڈیمانسٹریشن لی ان میں صرف ایک صاحب اسلامک سٹڈیز میں پی ایچ ڈی ڈاکٹرتھے جبکہ میڈیاسٹڈیزکا کوئی سبجیکٹ سپیشلسٹ،ایکسپرٹ یاپروفیسرنہیں تھاجونہ صرف میرٹ بلکہ ہائرایجوکیشن کمیشن کے دئیے گئے قوانین اورطریقہ کارکی صریحاًخلاف ورزی ہے۔اسی طرح موصوف نے لیکچرارکی آسامی پربھی اپنے ایک قریبی دوست کونوازنے کے لئے ان کے بیٹے کوشارٹ لسٹ کیا جس کے انٹری ٹیسٹ میں انتہائی کم نمبرزتھے(مبینہ طورپرلیکچرارکی تقرری میں میرٹ کی پامالی کوعدالت میں چیلنج بھی کردیاگیاہے)۔اس سارے عمل سے یہ معلوم ہواکہ موصوف کسی قانون اورضابطے کاپابندنہیں بلکہ اپنی مرضی کامالک ہے اور جس کو چاہے یونیورسٹی میں بنائی ہوئی اپنی سلطنت میں داخل کرلے۔ ہم تصوربھی نہیں کرسکتے میرٹ کے برخلاف غیرقانونی اقدامات کسی سرکاری ادارے میں اس طرح دیدیہ دلیری سے ہوں گے ۔بھرتی کے لیے اختراع کیے گئے طریقہ کارسے تو ایسا معلوم ہوتاہے کہ موصوف کسی اہل اور اپنے سے قابل فردکوبھرتی نہیں ہونے دیناچاہتے کہ کہیں اس سے شعبے کی سربراہی نہ چھن جائے۔

کیاکسی ادارے میں ایک شعبے کاسربراہ بغیرکسی اشتہاراورمیرٹ کے تعینات کیاجاسکتاہے؟کیاکوئی ڈیپارٹمنٹ سٹاف بھرتی کیے بغیرصرف ایک نااہل بندے کے ذریعے چلایاجاسکتاہے؟کیاایم فل بندہ پی ایچ ڈی  امیدواران کی ڈیمانسٹریشن لے سکتاہے؟کیا کوئی سرکاری ادارہ  ہائیرایجوکیشن کمیشن پاکستان کے طے کردہ ضوابط کوپسِ پشت ڈالتے ہوئے اپنی مرضی کاطریقہ اختیارکرسکتاہے؟ کیاکسی سرکاری ادارےمیں اہل لوگوں کونظراندازکرتے ہوئے اپنے دوستوں اوررشتہ داروں کونوازاجاسکتاہے؟کیااسسٹنٹ پروفیسرکی آسامی کے لئے امیدواروں کی سلیکشن صرف ۵منٹ کی ڈیمانسٹریشن کے ذریعہ ممکن ہے؟یہ وہ چندسوال ہیں جن کاجواب آپ جناب سے درکارہے۔

ہم آپ سے ملتمس ہیں کہ لاہورکیمپس میں میرٹ کے خلاف ہونے والے امورمیں دخل اندازی کریں تاکہ یونیورسٹی معاملات نااہل اورسفارشی لوگوں کے ہاتھوں میں نہ جاسکیں اوراس کی نیک نامی اورشہرت قائم رہے۔ہم آپ سے فوری اورمنصفانہ اقدامات کے متلاشی ہیں اورامیدکرتے ہیں کہ آپ اپنی سطح پرہی معاملات کوسلجھالیں گے اورہمیں عدالتوں کادروازہ نہیں کھٹکھٹانا پڑے گا۔اللہ تعالی آپ کاحامی وناصرہو۔

والسلام

ڈاکٹرفراست رسول                         ڈاکٹراے آرساجد                        ڈاکٹرمزمل سعید                              ڈاکٹرعبدالغنی

کاپی برائے اطلاع وضروری کاروائی

  1. ڈاکٹرعارف علوی صدرپاکستان وپیٹرن کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد
  2. فیڈرل منسٹرسائنس اینڈٹیکنالوجی وچانسلرکامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد
  3. محترمہ یاسمین مسعود،سیکرٹری منسٹری آف سائنس اینڈٹیکنالوجی وچئیرپرسن کنسلٹیٹوکمیٹی کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد
  4. ڈاکٹرایس ایم جنیدزیدی،ایگزیکٹوڈائریکٹروچیئرمین بورڈآف گورنرزکامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد

5۔چیئرمین ہائیرایجوکیشن کمیشن پاکستان

اس سے پہلے سرگودھایونیورسٹی میں بھی خلاف ضابطہ تقرریوں کی شکایات سامنے آچکی ہیں جہاں انٹرویوپینل میں شامل ایک سینئرپروفیسرکےمطابق انہیں پہلے سے ہی بتادیاگیاتھاکہ جولوگ پہلے سے کام کررہےہیں ان کوہی سلیکٹ کیاجائے۔

Print this entry

Comments

comments

  Categories: