مستحکم پاکستان  کے لیے عورت کا بااختیار ہونا نا گزیر ہے ۔سلمان عابد

مستحکم پاکستان  کے لیے عورت کا بااختیار ہونا نا گزیر ہے ۔سلمان عابد
March 10 14:44 2019 Print This Article

کیا کوئی معاشرہ عورت کی سیاسی ٬ سماجی اور معاشی حیثیت کو مستحکم کیے بغیر ترقی کرسکتا ہے تو یقینی طور پر جواب نفی میں ہوگا ۔کیونکہ وہی معاشرہ عملی طور پر مستحکم ہوتا ہے جہاں برابری کی بنیاد پر عورتوں او رمردوں کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں ۔ جو معاشرہ عورتوں کے بارے میں تعصب یا اسے کمتر کا درجہ دے کر آگے بڑھنا چاہتا ہے وہاں عورتوں کا استحصال کا امر یقینی ہوتا ہے ۔

عورتوں کی ترقی کا مسئلہ محض پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ دنیا بھر میں عورتوں کی ترقی کا عمل مردوں کی ترقی کے مقابلے میں پیچھے ہے ۔بالخصوص جنوبی ایشیا کے ممالک میں اگر عورتوں کی صورتحال کا جائز ہ لیں تو وہ سیاسی ٬سماجی او رمعاشی محرومی جیسے مسائل کا شکار ہیں ۔اس کی بنیادی وجہ ہماری جیسی ریاستوں کی ترجیحات کا ہے جہاں عورتوں کے مسائل کو بہت زیادہ سنجیدہ نہیں لیا جاتا او رنہ ہی ان کو کوئی اہمیت دی جاتی ہے ۔

اس برس2019میں بھی ہر برس کا طرح 8مارچ کو عورتوں کا عالمی دنیا بڑے جوش وخروش سے منایا گیا ۔ اہم بات یہ ہے کہ اب اس دن کی اہمیت کے پیش نظر خود ریاست٬ حکومت او راداروں سمیت مختلف مکاتب فکر کے لوگ بڑی شان وشوکت سے اس دن کا اہتمام بڑی شان و شوکت سے کرکے عورتوں کے ساتھ اپنی سیاسی کمٹمنٹ او راظہار یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ اسی طرح ایک او راہم پہلو یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب مردوں کی بھی ایک بڑی تعداد عورتوں کے مسائل کے بارے میں اپنی سنجیدگی بھی دکھاتے ہیں او ر عملی طو رپر ان کے حق میں بھی کھڑے ہوکر آواز بلند کرتے ہیں ۔ یہ امر خوش آئند ہے کیونکہ عورتوں کے حقوق یا ان کے مسائل کے حل میں اگر واقعی مرد بھی ان کے ساتھ کھڑے ہوں تو یہ قوم کی ایک مثبت تصویر کی عکاسی بھی کرتی ہے ۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان میں بھی دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کی طرح بہت سے اہم چیلنجز عورتوں کو اپنی ترقی کے حوالے سے درپیش ہیں ۔ ان میں تعلیم ٬ صحت٬ روزگار٬ ماحول ٬ تحفظ ٬ انصاف ٬ غربت جیسے سنگین مسائل موجود ہیں ۔ ان مسائل کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں ۔ اول ملک میں عورتوں کے حق میں بہت سی موثر قانون سازی موجود ہے یا بعض قوانین میں سقم بھی ہیں لیکن مجموعی طور پر ان قوانین پر عملدرآمد کا نظام یا نگرانی کے عمل کا کمزور ہونا ۔ دوئم وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم او ربجٹ میں عورتوں کا محدود حصہ یا جو بجٹ ہوتا بھی ہے اس میں بھی کٹوتی جیسے مسائل کا ہونا۔ سوئم عورتوں کے لیے بغیر کسی ڈر اور خوف کے سازگار ماحول کا نہ ہونا اور عدم تحفظ یا تشدد کا احساس ٬ چہارم ادارہ جاتی عمل کا کمزور ہونا یا اداروں تک عورتوں کی محدود رسائی ٬ پنجم سیاسی ٬ سماجی اور مذہبی رویہ کی بنیاد پر تعصب اور تفریق کے مسائل یا ان کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل نہ کرنا٬ ششم قومی مسائل کی درجہ بندی میں ترجیحات کاغیر اہم ہونا ٬ ہفتم قانونی تحفظ اور انصاف کے حصول میں رکاوٹوں کا ہونا او ر عورتوں کی کمزور معاشی حیثیت اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی استحصالی رویے اہم ہیں ۔

سوال یہ ہے کہ ہم عملی طور پر عورت کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں ۔ بااختیار بنانے سے ہماری مراد کیا ہے ۔ عملی طو رپر جب عورت کے بااختیار ہونے کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد اس کی تعلیم ٬ صحت٬روزگار ٬ اپنے فیصلے خود کرنے ٬ تحفظ جیسے امور ہوتے ہیں ۔اگر ہم پاکستان کی سطح پر عورتوں سے جڑے تعلیم ٬ صحت ٬ روزگار کے سرکاری اعدادو شمار کودیکھیں تو ہم عالمی او رجنوبی ایشائی درجہ بندی میں بہت پیچھے کھڑے ہیں ۔ اگرچہ ہم نے عالمی سطح پر عورتوں کے حقوق کے حوالے سے اپنی کمٹمنٹ پیش کرتے ہوئے کئی عالمی معاہدوں پر دستخط کیے ہوئے ہیں ٬ ان دستخط کا مقصد دنیا کو اس بات کی یقین دہانی کرانی ہوتی ہے کہ ہم ریاستی وحکومتی سطح پر عورتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت کو یقینی بنا کر ان کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کریں گے ۔عورتوں کی ترقی کے حوالے سے ایک فکری مغالطہ یہ دیا جاتا ہے کہ شائد عورتوں کے حق یا تحریک کی   بات کرنے کا مقصدکسی عالمی ایجنڈے کی تکمیل ہے ۔حالانکہ جو مسائل اٹھائے جارہے ہیں وہ بنیادی نوعیت کے حقوق سے جڑے ہیں او ر ان کی ضمانت ہمارا دین اور قانون دیتا ہے ۔ 1973کے آئین میں بنیادی حقوق کا باب اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ہم قانون کے پیش نظر عورتوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتے ہیں ۔

عورتوں کی ترقی کے تناظر میں پاکستان بہت پیچھے کی طرف نہیں کچھ آگے بھی بڑھا ہے ۔ اب ہماری عورتیں پاکستان میں موجودہر شعبہ میں ایک فعال او رمتحرک فریق کے طور پر اپنا کردار ادا کررہی ہے ۔سیاست کی سطح پر عورتوں کی فعالیت بہت سود مند ہے اور فیصلہ ساز اداروں میں ان کی موجودگی یقینی طو رپر عورتوں کے تحفظ کے عمل کو یقینی بناسکتی ہیں ۔پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جس نے قومی ترقی کے اہداف 2015-30پر عالمی معاہدے کے تحت دستخط کیے ہوئے ہیں ۔اس معا ہدے کے تحت ہمیں تعلیم او رصحت جیسے بنیادی مسائل میں عورتوں کی صورتحال کو آج کی صورتحال سے موثر انداز میں آگے بڑھانا ہے ۔لیکن یہ کام تن تنہا ریاست یا حکومت نہیں کرسکتی ۔ اس کے لیے ریاست٬ حکومت سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر عورتوں کے حقوق کی ایک ایسی جنگ لڑے جو عملی طو رپر عورتوں کو بااختیار او ران کو مستحکم کرکے قومی ترقی کے دھارے میں حصہ دار بنائے ۔

پنجاب میں ریاستی و حکومتی سطح پرعورتوں کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے بہت کچھ ہورہا ہے ۔ عورتوں کے حقوق سے متعلق صوبائی وزیر بیگم آشفہ ریاض فتیانہ٬ صوبائی سیکرٹری ارم بخاری اور صوبائی کمیشن برائے حقوق نسواں فوزیہ وقار کی موجودگی میں عورتوں کے حقوق کی بحث نہ صرف درست سمت میں آگے بڑھی ہے بلکہ کئی نئی قانون سازی او رپہلے سے موجود قانون سازی پر عملدرآمد کے نظام کو بھی موثر اور شفاف بنایا جارہا ہے ۔بقول صوبائی وزیر آشفہ ریاض اور سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ   ارم بخاری کے حکومت کی بڑی توجہ عورتوں کو معاشی سطح پر زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہے ۔پنجاب میں صوبائی اسمبلی میں عورتوں کا اپنا پارلیمانی فورم بھی ہے جس کا مقصد عورتوں سے جڑے مسائل پر کام کرنا ہے اسے زیادہ فعال ہونا چاہیے ۔ اس لیے اب وقت ہے کہ پنجاب کی صوبائی حکومت او ران سے جڑے ذمہ داران عورتوں کو بنیادی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے موثر عملی اقدامات کی طرف پیش رفت بڑھائیں ۔ اس کے لیے یقینا حکومت ٬ ادارے او رسول سوسائٹی کے درمیان مضبوط اشتراک کار کی ضرورت ہے ۔

اصل مسئلہ عورتوں سے جڑے مسائل پر ایک بڑی سیاسی ٬ سماجی او ر معاشی سرمایہ کاری کا ہے ۔ سرمایہ کاری سے مراد ریاستی او رحکومتی ترجیحات میں عورتوں کے مسائل بنیادی اہمیت کے ہونے چاہیے ۔ یہ کام محض لفاظی یا عورتوں کے عالمی دن تک محدود ہونے کی بجائے ہماری قومی سیاست او را س میں ہونے والے اہم فیصلوں میں بھی موثر نظر آنا چاہیے ۔تعلیم ٬ صحت اور معاشی روزگار جیسے بنیادی نوعیت کے سے جڑے مسائل پر عملی طور پر ایک بڑی ایمرجنسی لگانی چاہیے ۔کیونکہ پنجاب جیسے بڑ ے صوبہ میں بھی تعلیم اور صحت جیسے معاملات پر بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی پر عورتوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔جو لڑکیاں پڑھ لکھ کر عملاً میدان میں آرہی ہیں ان کے لیے معاشی مواقعوں کا نہ ہونا خود ایک بڑا مسئلہ ہے ۔مائیکرو انٹرپنیور شپ جیسے پروگرام او را س میں زیادہ سے زیادہ عورتوں کو دیہی اور چھوٹے شہروں کی سطح پر معاشی سہولیات فراہم کرکے ہی ہم ان کو مستحکم کرسکتے ہیں ۔

حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرتی سطح پر سیاسی جماعتوں ٬ سول سوسائٹی او رمیڈیا کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عورتوں کے حوالے سے سماج میں موجود مختلف طرز کے سیاسی ٬ سماجی اور معاشی تعصبات کے خاتمہ میں شعور کی بیداری میں موثر کردار ادا کریں ۔ کیونکہ قانون سازی اور وسائل کے باوجود اگر معاشرے کے مجموعی مزاج میں عورتوں کے لیے احترام اور ان کی اہمیت کا احساس اجاگر نہیں ہوگا تو عورتوں کی مثبت حیثیت کا عمل بھی موثر نہیں ہوسکے گا۔ یہ تسلیم کیا جانا چاہیے کہ پاکستانی عورت محدود وسائل ٬ نامساعد حالات اور بڑی مشکل صورتحال میں کام کررہی ہیں ۔ یہ بنیادی نکتہ سمجھنا ہوگا کہ عورت کی ترقی محض عورت تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کا براہ راست اثر خاندان او رمعاشرے سے جڑا ہوتا ہے او راس پر ہم سب کی توجہ درکار ہے کیونکہ یہ ہی عورتوں کے حقوق کا بیانیہ ہونا چاہیے جو ان کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت بن سکے ۔

Print this entry

Comments

comments