ادارہ علوم ابلاغیات جامعہ پنجاب  میں سوچنے کے ہنر کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد

ادارہ علوم ابلاغیات جامعہ پنجاب  میں سوچنے کے ہنر کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد
March 07 19:56 2019 Print This Article

جذباتیت سے نکل کر عقل کی روشنی  میں زندگی کے فیصلے کرنا سیکھیں ۔یاسر پیر زادہ

  طلباء  سیکھیں کہ لکھے ہوئے الفاظ کے اندر جھانکنا کیسے ہے۔  ڈاکٹر نوشینہ سلیم

رپورٹ ۔ عثمان بے خبر

لاہور(دی ایجو  کیشنسٹ    7 مارچ 2019)،مثبت سوچ آپ کو اور معاشرے کو بہتر کر سکتی ہے ۔دوسروں کو سمجھ کر ان کا نقطہ نظر سن کر ہی ہم ان کی ذات  کے بارے میں  کوئی فیصلہ کریں ۔اپنی

ذات سے نکل کر دوسروں  کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ذہن کی وسعت آپکی شخصیت کو چار چاند لگا دیتی  ہے ۔ان خیالات کا اظہار  جنگ کے کالم نگار یاسر پیر زادہ نے  ادارہ  علوم ابلاغیات  جامعہ        پنجاب میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ادارہ علوم ابلاغیات  کی   ہم  نصابی  کونسل کی جانب سے  “سوچنے کا ہنر ” کے موضوع پر سیمینار کا ا نعقاد کیا گیا۔اس موقع پر ادارہ کی سربراہ ڈاکٹر نوشینہ سلیم ،کالم نویس گل نوخیز اختر اساتدہ اور طلباء کی کثیر تعداد حمید نظامی ہال میں موجود تھی ۔

 مقرر خصوصی   یاسر پیر زادہ نے  کہا  کہ ہمیں اپنی سوچوں کو شفاف رکھنا چاہیے،سوچوں میں ابہام بہت سے مسائل کو جنم دیتا ہے۔ سوچوں کووسیع کریں  دوسروں کو اپنی زندگی میں جگہ دیں ،آپکی کی اپنی رائے ہی حرف آخر نہیں ہونی چاہیے، دوسروں کی رائے کو اہمیت دینا ان کے دل و دماغ میں آپکا مثبت تاثر ابھار سکتاہے ۔انہوں نے کہا  زندگی ایک تحفہ ہے بہترین سوچ کے ساتھ اسے گزاریے ۔گفتگو کم کریں مگر جو الفاظ آپ ادا کریں وہ مختصر اور پر تاثیر ہوں ،غیر ضروری سوچوں کا سر پہ سوار ہونا آپکی شخصیت کو گہنا دیتا ہے ۔یاسر پیر زادہ نے کہا مثبت سوچ اور مثبت طرزعمل آپکی کامیابی کا پہلا زینہ ہے جب تک یہ نہیں اپنائیں گے تب تک آپ کامیاب نہیں ہوسکتے ۔انتہاپسند انہ سوچ متعصب طرز عمل اور انا  آپکو کبھی بھی آگے نہیں بڑھنے دے گی ،ان سے دوری آپکو ایک اچھے انسان کے روپ میں ڈھال سکتی ہے ۔انہوں نے طلباء  کے سوالات کے  جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ اچھا لکھنا چاہتے ہیں تو اچھا  ادب پڑھیں چاہے وہ انگریزی کا ہو یا اردو کا ۔منطقی سوچ کو مہمیز دیں خوابوں اور فلمی دنیا سے با ہر نکل کر حقیقت پسندانہ سوچ اختیار کریں ۔دیانت دار بنیں انا کے خول سے باہر نکل کر محنت کریں ، جو چاہیں گے وہ مل جائے گا ۔آخر میں خطبہ صدارت دیتے ہوئے ادارہ   علوم ابلاغیات کی سربراہ نوشینہ سلیم نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے  ہوئے  کہا کہ آپکی گفتگو بہت حکمت بھری تھی آپ نے اچھا پیغام بچوں تک پہنچایا ہے ۔طلباء سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی کے بارے میں منفی نا سوچیں اور نا ہی اس کی شخصیت کے بارے میں اندازے لگائیں،  یہ سیکھیں کہ لکھے ہوئے الفاظ کے اندر جھانکنا کیسے ہے ۔آخر میں مہمانوں کو ادارہ کی جانب سے گلدستے اور شیلڈز  پیش  کی گئیں ۔  

 

Print this entry

Comments

comments

  Article "tagged" as:
  Categories: