پنجاب یونیورسٹی ایلومینائی ایسوسی ایشن کی پہلی باضابطہ تقریب کا انعقاد

پنجاب یونیورسٹی  ایلومینائی ایسوسی ایشن کی پہلی باضابطہ تقریب کا انعقاد
December 09 03:23 2018 Print This Article

لاہور ( سٹاف رپورٹ) پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار تمام شعبہ جات سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کے اعزاز میں ایلومینائی ایسوسی ایشن کی پہلی باضابطہ پر وقار تقریب کا انعقاد یونیورسٹی کے مرکزی فیصل آڈیٹوریم میں کیا گیا۔ تقریب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سئنیر رہنماء قمر الزماں قائرہ، تحریک انصاف کے رہنماء ریاض فتیانہ، سا بق ایم پی اے غلام عباس، لاہور ہا ئی کورٹ کے معزز جسٹس علی اکبر قریشی، جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال، وا ئس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر نیاز احمد ، سئنیر صحافی و اینکر پرسن حامد میر، سئنیر صحافی و کالم نگار سجاد میر، سئنیر کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی، سئنیر صحافی و تجزیہ کار سلمان غنی، سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر خالد حمید شیخ، سابق وائس چا نسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر رفیق احمد، جماعت اسلامی کے سئنیر رہنماء فرید احمد پراچہ، وائس چانسلر یونیورسٹی آف اوکاڑہ ڈاکٹر زکر یا ذاکر، وائس چانسلر یونیورسٹی آف جھنگ ڈاکٹر شاہد منیر ، سئنیر کالم نگار ڈاکٹر مجاہد منصوری، ڈاکٹر مہدی حسن، حفیظ خان، جی اے صابری، علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی، سئنیر صحا فی مجیب الرحمن شامی، حفیظ اللہ نیازی، چئیر مین لاہور آرٹس کونسل و نامور اداکار توقیر ناصر، اصغر ندیم سید، امجد اسلام امجد، ڈاکٹر نجمہ نجم، قاضی آفاق، انور رشید، ڈاکٹر شہزاد، رشید لون، شاہد سلیم بیگ، اشتیاق احمد خان ، پنجاب یونیورسٹی اکڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر محبوب حسین سمیت تما م شعبہ جات کے صدور، چئیر مینوں، سئنیر صحافیوں، شاعر و ادیب، فارغ التحصیل وکلاء تمام شعبہ جات سے ،طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شر کت کرکے مادر علمی میں گذرے تدریسی لمحات کو خوشگوار ماحول میں یاد کیا ۔

تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے پیپلز پارٹی کے مرکزی سئنیر رہنما و وسطی پنجاب کے صدر قمر الزماں قائرہ کا کہنا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی کی پہلء ایلومینائی تقریب میں شر کت کر کے بے حد خوشی ہو ئی ہے۔ یونیورسٹی پڑھنے آیا تو امریت کا دور تھا۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز ضرور بحال ہونی چاہیے۔ آج جس مقام پر ہوں اس میں پنجاب یونیورسٹی کا بہت کردار ہے ۔ ماضی کی تلخ یادوں کی طرح یونیورسٹی کو نہیں ہونا چاہیے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی قوم سیاسی ، معاشی و معاشرتی مسائل کا سامنا کر رہی ہے اور وہ قوم زوال کا شکار ہو جاتی ہے جو فکری انحطاط کا شکار ہو۔ معاشرے میں کنفویژن اور فکری انحطاط بڑھ رہے ہیں۔ یونیورسٹیاں قوم کو فکری رہنمائی فراہم کرتی ہیں اور ہمیں فکری طور پر ترقی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو قیادت کی فراہمی کے لئے طلباء یونین عملی طور پر بحال ہونی چاہئیں۔

وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد نے تقر یب سے خطاب میں کہا کہ پنجاب یونیورسٹی نے بڑے بڑے نام پیدا کئے ۔ پاکستان کے خواب دیکھنے والے علامہ محمد اقبال، نوبل لاریٹ، صدور، وزرائے اعظم، چیف جسٹس آف پاکستان، اعلیٰ عدلیہ کے ججز، بیوروکریٹس ، صنعتکار اور ہر شعبے میں نامور لوگ پنجاب یونیورسٹی کے گرایجوایٹ ہیں جنھوں نے ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ یونیورسٹی کو دنیا کی بہترین یونیورسٹی بنانے کے لئے دن رات محنت کر رہی ہے اورعملی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں گڈ گورننس، بہترین اساتذہ کی تعیناتی، میرٹ، انصاف، ایمانداری، جدید تقاضوں کے مطابق نصال، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ، بہترین گریجوایٹس کی فراہمی اور معاشرے اور معیشت پر مثبت اثرات ڈالنے والی تحقیق کو یقینی بنا رہے ہیں۔ یونیورسٹی میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز بنا یا جا ئے گا تاکہ پاکستان کی ترقی کے لئے ہر شعبے میں پنجاب یونیورسٹی رہنمائی فراہم کر سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ میڈیکل کالج اور ہسپتال بھی قائم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے ہمیں پاکستان کی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ مارچ میں ایلومینائی ایسوسی ایشن کا دوسرا اجلاس طلب کیا جائے گا۔

ایم این اے ریاض فتیانہ نے کہا کہ یونیورسٹی نے سیاست سکھائی ۔ جب میں وزیر تعلیم تھا تو جو بھی پنجاب یونیورسٹی سے وابستہ ہوتا تھا اس کی ذیادہ خدمت کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ جات ملکی ترقی کے لئے حکومت کے ساتھ شامل ہوں اور پنجاب یونیورسٹی ہر معاملے میں رہنمائی فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں طلباء سیاست کو بحال کرنا چاہئے تاکہ قیادت کا بحران حل ہو۔ فرید احمد پراچہ نے کہا کہ جامعات کی ایک پہچان ہوتی ہے اور پنجاب یونیورسٹی کی پہچان اسلام اور پاکستان ہے۔ پنجاب یونیورسٹی ہمیشہ ترقی کرے اور ہم سب کو اس ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ حامد میر نے کہا کہ تقریب میں ان کا بچپن لوٹ آیا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی جیسا کیمپس دنیا کی معروف یونیورسٹیوں کے مقابلے میں بہت خوبصورت ہے۔ ہمیں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم آکسفورڈ اور ہاروڈ سے آگے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلباء پوری دنیا میں موجود ہیں اور ڈاکٹر نیاز احمد یہ خزانہ اکٹھا کر رہے ہیں اور یہ اثاثہ پاکستان کے کام آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے دیکھے۔ انہوں نے کہا کہ جو سیاسی رواداری اس ہال میں نظر آ رہی ہے وہ باہر بھی نظر آنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک عظیم ملک ہے ہمیں اسے آگے لے کر جانا چاہئے۔ غلام عباس نے کہا کہ سوچ پر لگی دیوار کو توڑنا چاہئے اور مختلف موضوعات کے تقابلی جائزہ پر مبنی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ سی پیک کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں پنجاب یونیورسٹی ایلومینائی ایسوسی ایشن میں ایک گروپ ہونا چاہئے جو ان سازشوں اور پروپیگنڈہ کا جواب دے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ہمیں اس سے استفادہ کرنے کے لئے صلاحیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ 1984 میں اولڈ کیمپس کا نام علامہ اقبال کیمپس اور نیو کیمپس کا نام قائد اعظم کیمپس رکھا۔

جسٹس علی اکبر قریشی نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کی اس تقریب میں آنا ان کے لئے اعزاز کی بات ہے۔ اور وہ دبارہ بھی یہاں آنے کے لئے انتظار کریں گے۔

جسٹس ناصرہ جاوید جاوید اقبال نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کی وجہ سے آج ہم آزاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شعبے میں خواتین آگے آرہی ہیں۔ اور انہیں ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

ڈاکٹر مریم ظہور نے کہا کہ انہوں نے 1948 میں ایم اے جغرافیہ امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور وہ پہلی خاتون تھیں جنھوں نے ایم اے کی سطح پر تدریس کی اور پاکستان کی پہلی پی ایچ ڈی خاتون تھیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیاں خودمختار ہونی چاہئیں اور اساتذہ کی عزت ملنی چاہئے۔

حفیظ خان نے کہا کہ 136 سالہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ایلومینائی کا عظیم الشان اجلاس ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایلومینائی ایسوسی ایشن پنجاب یونیورسٹی کی رینکنگ کو بہتر بنانے اور ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کریں گے۔

توقیر ناصر نے کہا کہ جب وہ طالبعلم تھے تو نہر میں کشتیاں چلاتے تھے اور یہ سڑک بہت پر سکون تھی اور یہ چار دیواری بھی نہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے تمام طلباء ملکی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

تقریب میں پنجاب یونیورسٹی کے سابق گرایجوایٹ محمد محمود مرزا جنھوں نے 80 کی دہائی میں ایلومینائی ایسوسی ایشن کے لئے 92 ہزار روپے کا ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹ جمع کرایا ان کی وصیت کے مطابق اس ڈیفنس سرٹیفکیٹ سے اب تک بننے والے انیس لاکھ روپے کا سرٹیفیکیٹ محمود مرزا کے بیٹے معروف بینکار حامد محمود مرزا نے وائس چانسلر کو پیش کیا۔

Print this entry

Comments

comments

  Categories: