اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کی اساتذہ کی تذلیل کرنے کی شدیدمذمت

اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کی اساتذہ کی تذلیل کرنے کی شدیدمذمت
October 12 00:26 2018 Print This Article

دارے تحقیق کریں، تذلیل نہ کریں۔ چوہدری محبوب حسین
رپورٹ: ڈاکٹراے آرساجد
سابقہ وائس چانسلرپنجاب یونیورسٹی مجاہدکامران کی گرفتاری کی خبرسے یونیورسٹی اساتذہ اور طلبا میں غم وغصے کی لہردوڑگئی ہے۔اساتذہ کی بڑی تعدادنے مجاہدکامران کی گرفتاری پرتشویش کااظہارکیاہے۔صدراکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن چوہدری محبوب حسین نے اس موقع پرپنجاب یونیورسٹی میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نیب نے اساتذہ کوہتھکڑیاں لگا کرگرفتارکیا حالانکہ ابھی کیس عدالت میں چلناہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ سابقہ وی سی ڈاکٹرمجاہدکامران کوگرفتارکرنا اساتذہ کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔انہوں نے نیب کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ تحقیق کریں، تذلیل نہ کریں۔انہوں نے مزیدکہاکہ مجاہدصاحب بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں ان کے ساتھ ایسا غیرمنصفانہ سلوک کسی طورپربھی قابل قبول نہیں۔ہمارے پاس تمام آپشنزموجودہیں،ہمارے پاس ہڑتال،کلاسز اورامتحانات کے بائیکاٹ جیسے آپشن موجود ہیں۔اس موقع پرانہوں نے یہ بھی بتایاکہ اس تناظرمیں جنرل باڈی کااجلاس 16اکتوبرکوبلایاہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ نیب کے اس عمل سے سارے تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہردوڑگئی ہے۔ہمارے اداروں کوچاہیے کہ کسی انتہائی قدم سے پہلے مکمل تفشیش اورتحقیق کریں اس کے بعدکاروائی کریں۔جس اندازسے ڈاکٹرمجاہدکامران کوگرفتارکیاگیاہے وہ قطعی غلط ہے۔
نیب ذرائع کے مطابق ڈاکٹر مجاہد کامران کو نیب نے آج تفتیش کے لیے طلب کر رکھا تھا۔ ڈاکٹر مجاہد کامران اپنا بیان ریکارڈ کرانے نیب آفس گئے تھے جہاں پر ان کو قومی احتساب بیورو نے باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا۔ ان کے علاوہ نیب نے یونیورسٹی کے 3سابقہ رجسٹرارڈاکٹرلیاقت علی،راس مسعوداورامین اطہر جبکہ 2سابقہ ایڈیشنل رجسٹرارڈاکٹراورنگزیب عالمگیراورکامران عابدکوبھی گرفتارکیاہے۔نیب پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔
نیب کے مطابق مجاہد کامران نے بڑے پیمانے پر یونیورسٹی میں خلاف ضابطہ بھرتیاں کیں۔ ان پر اپنی اہلیہ شازیہ قریشی کو غیرقانونی طور پر یونیورسٹی لاء کالج کی پرنسپل تعینات کر نے کا الزام بھی ہے۔نیب کا ایگزیکٹو بورڈ ڈاکٹر مجاہد کامران کے خلاف انکوائری کی منظوری پہلے ہی دے چکا ہے۔ ڈاکٹرمجاہدکامران اس سے پہلے بھی نیب میں پیش ہوچکے ہیں۔ڈاکٹر مجاہد کامران کو بطور ایکٹنگ وائس چانسلر سابق وزیر اعلی شہباز شریف نے عہدے پر توسیع بھی دی تھی۔نیب ذرائع کے مطابق ڈاکٹر مجاہد کامران نے پنجاب یونیورسٹی میں تعیناتی کے دوران من پسند طلبہ کووضائف بھی دئیے تھے۔ نو سالہ دور میں ان پر لاتعداد سیاسی بھرتیاں کرنیکا الزام بھی لگتارہا ہے۔ سابق وائس چانسلر پر پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے من پسند ٹھیکیداروں کو ٹھیکے دینے کا الزام بھی ہے۔
احتساب عدالت نے ڈاکٹرمجاہدکامران اوردیگر6افرادکو 10روزہ جسمانی ریمانڈپرنیب کے حوالے کردیاہے جبکہ نیب نے15روزہ جسمانی ریمانڈکی استدعاکی تھی۔
سابقہ وائس چانسلرسرگودھایونیورسٹی محمداکرم کی گرفتاری
اس سے پہلے گزشتہ روزسرگودھا یونیورسٹی کی غیر قانونی برانچیں بنانے کے کیس میں سابق وی سی سرگودھا یونیورسٹی محمد اکرم اور سابق رجسٹرار بریگیڈ یئر (ر) راؤجمیل، چیف ایگزیکٹو لاہور کیمپس میاں جاوید اور ڈائریکٹر ایڈمن محمد اکرم،چیف ایگزیکٹو منڈی بہاؤالدین کیمپس وارث ندیم وڑائچ اور پارٹنر میاں نعیم کوبھی گرفتار کیا گیا۔بعدازاں احتساب عدالت نے سرگودھا یونیورسٹی کی جانب سے لاہور اور منڈی بہاؤالدین میں کھولے گئے غیر قانونی کیمپس کیس میں گرفتارسابق وی سی محمد اکرم سمیت چھ ملزموں کو دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا تھا۔۔احتساب عدالت نے سرگودھایونیورسٹی کیس کے چھ ملزمان کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا جن کو دوبارہ 19 اکتوبر کو احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق نیب نے احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن کی عدالت میں سرگودھا یونیورسٹی کیس میں گرفتار ملزمان سابق وی سی،سابق رجسٹرار راو جمیل،لاہور کیمپس کے میاں جاوید،اکرم،منڈی بہاء الدین کے وارث ندیم وڑائچ،نعیم کو جسمانی ریمانڈ کے لیے پیش کیاتھا۔
ذرائع کے مطابق نیب نے عدالت کو بتایا کہ سرگودھا یونیورسٹی نے لاہور اور منڈی بہاو الدین میں غیر قانونی کیمپس قائم کیے،اس یونیورسٹی کے غیر قانونی کیمپس چلانے پرچھ ملزمان محمداکرم،راو جمیل،وارث ندیم، میاں جاوید،اکرم اور نعیم کو گرفتار کیا گیا۔سرگودھا یونیورسٹی کے لاہور کیمپس اور منڈی بہاوالدین کیمپس میں اضافی طلباء کو داخلہ دیا گیااورسرگودھا یونیورسٹی سے ڈگری مکمل کرنے والے طلباء کو ڈگریاں جاری نہیں کیں گئیں۔ منڈی بہاوالدین کیمپس میں ملزمان نے میڈیکل کیمپس کھولنے کے لیے کروڑوں روپے ڈونیشن بھی لئے ہیں۔
سرگودھا یونیورسٹی لاہورکیمپس کے خلاف مقدمہ
یونیورسٹی آف سرگودھا لاہورکیمپس کیخلاف تھانہ چوہنگ میں مقدمہ درج بھی درج کیا گیا۔ مقدمہ یونیورسٹی آف سرگودھا کے کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر بشیر احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔مقدمہ سب کیمپس لاہور کی جانب سے طلبہ کو جعلی ٹرانسکرپٹ فراہم کرنے پر کیا گیا جبکہ یونیورسٹی قوانین کے مطابق سب کیمپس طلبہ کو ٹرانسکرپٹ جاری نہیں کرسکتا‘ یونیورسٹی قوانین کے مطابق صرف مرکزی کیمپس ہی طلبہ کو ٹرانسکرپٹ فراہم کرسکتا ہے‘ مقدمے میں سب کیمپس کی انتظامیہ کیخلاف جعلسازی اور فراڈ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ25ستمبرکو سرگودھا یونیورسٹی لاہور کیمپس کے طلبہ کی طرف سے لاہورمیں شدیداحتجاج کیا گیاتھا جس پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا جس کے بعدنیب نے بھی انکوائری تیزکردی۔
پولیس کی جانب سے بے گناہ اساتذہ کی تذلیل
سرگودھا یونیورسٹی کے خلاف طلباکے احتجاج کے موقع پر پنجاب پولیس کی جانب سے چندبے گناہ اساتذہ کوبھی گرفتارکیاگیا اوربلاعذران کی انتہائی تذلیل کی گئی۔تفصیلات کے مطابق ہیڈآف ڈیپارٹمنٹ میڈیاسٹڈیز پروفیسرڈاکٹرمحمدخالد،ہیڈشعبہ فلاسفی ڈاکٹرجاویداقبال ندیم ،سیکورٹی انچارج چوہدری بشیر اوررجسٹرارسیدشاہدحسین کو پولیس کی جانب سے احتجاجی طلبا کے ساتھ مذاکرات کی درخواست کی گئی جس پر انہوں نے طلبا سے ملاقات کرکے احتجاج ختم کروانے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیاب نہ ہوسکے جس پر پولیس نے ان اساتذہ کوگرفتارکرکے گارڈن ٹاؤن تھانے منتقل کردیا۔اس کے بعدرات ڈیڑھ بجے ان معززاساتذہ کرام کوچوہنگ تھانے کی جیل میں عادی مجرموں کے ساتھ بندکردیاگیا۔اساتذہ نے بتایا کہ جس کمرے میں انہیں بندکیاگیاوہاں پہلے سے 10قیدی تھے جن میں دفعہ 302کابھی ایک مجرم تھا۔اس کے علاوہ چوری،ڈکیٹی،اورنشے کے عادی مجرم بھی جیل کے اس کمرے میں موجودتھے۔پولیس کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی گئی اوراساتذہ کرام کوان کے گھروالوں تک کوبتانے نہیں دیاگیا۔معززاساتذہ کرام کو بنا کسی جرم کے نہ صرف جیل میں رات گزارنی پڑی بلکہ اگلے روزسہ پہر4بجے کے قریب ان کورہاکیاگیا۔پولیس کی جانب سے معززاساتذہ کرام کے ساتھ غیرانسانی سلوک پرتعلیمی حلقوں نے انتہائی تشویش کااظہارکیاہے اوروزیراعظم پاکستان،وزیراعلیٰ پنجاب اورچیف جسٹس آف پاکستان سے معاملے کانوٹس لینے کامطالبہ کیاہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثارسے گزارش ہے کہ معاملے کاازخودنوٹس لیں اورمعززاساتذہ کرام کے ساتھ ذلت آمیزسلوک پرپنجاب پولیس سے وضاحت طلب کی جائے اورغیرانسانی سلوک کے مرتکب اہلکاروں کوقرارواقعی سزادی جائے تاکہ معززاساتذہ کی عزت نفس بحال ہواوران کی اشک شوئی ہوسکے۔اساتذہ توپولیس کے خلاف کھل کربتانے سے بھی قاصرہیں کہ کہیں پولیس کی جانب سے ان پرمزیدکوئی زیادتی نہ کردی جائے۔

Print this entry

Comments

comments