ماس میڈیا ایک پروفیشن نہیں ہے بلکہ ایک مشن ہے ۔ڈاکٹرمحمداشرف خان

ماس میڈیا ایک پروفیشن نہیں ہے بلکہ ایک مشن ہے ۔ڈاکٹرمحمداشرف خان
October 04 12:38 2018 Print This Article

جب ذاتی مفاد اجتماعی مفاد یا ملکی مفادپر غالب آجائے تو بہت نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔
قوموں کو بنانے اور بگاڑنے میں میڈیا کا اہم کردار ہے ۔
ِ<ذاتی مفاد ،ریٹنگ کا حصول ،ایک دوسرے کو نیچے دکھانا اور بریکنگ نیوز کا حصول معاشرے کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔
ہماری صحافت کے اوپر نظرنہ آنے والا دباؤ ہے۔
پاکستان جیسے معاشرے میں آزاد، خود مختاراور ذمہ دار صحافت کی اشد ضرورت ہے۔
میں ذاتی طور پر اساتذہ اور طلباء کی سیاست کے خلاف نہیں ہوں ۔
میڈیا مالکان شفاف رپورٹنگ میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔

ہیڈآف ڈیپارٹمنٹ /ڈائریکٹرشعبہ کمیونیکشن سٹڈیز بہاالدین زکریایونیورسٹی پروفیسرڈاکٹرمحمداشرف خان کادی ایجوکیشنسٹ کوخصوصی انٹرویو

انٹرویو: ڈاکٹراے آرساجد
تحریر: عثمان بے خبر

دی ایجو کیشنسٹ :اپنی ابتدائی زندگی اور تعلیم کے بارے میں مختصراََبتائیں ؟
پروفیسرڈاکٹر محمداشرف خان :ابتدائی تعلیم چشمہ ہا ئی اسکول سے حاصل کی ۔گورنمنٹ کالج لاہور سے ا نٹر میڈیٹ کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج میانوالی سے گریجویشن میں اول پوزیشن حاصل کی۔ جامعہ پنجاب لاہور سے ماس کمیونیکیشن کی ڈگری حاصل کی اورڈگری حاصل کرنے کے تین چار ماہ بعد ہی بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی کو بطور لیکچرار جوائن کیا ۔اکتیس برس سے اسی یونیورسٹی میں اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہوں۔
دی ایجو کیشنسٹ :بیرون ملک سے آپ نے کون سی تعلیم حاصل کی؟
پروفیسرڈاکٹر محمداشرف خان :میری ڈاکٹریٹ کی رجسٹریشن بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی کی تھی البتہ 1993 میں پری ڈاکٹریٹ تحقیق کے لیے ترکی گیااور باقی کام پاکستان میں ہی مکمل کیا اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔2006 میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کے لیے امریکہ چلا گیا۔اس کے بعد2010 میں ایک فیلو شپ کے سلسلے میں برطانیہ گیا اوروہاں میں نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں فیلو شپ مکمل کی ۔ اس کے علاوہ کانفرنسز کے سلسلے میں برطانیہ آتا جاتا رہا۔
دی ایجو کیشنسٹ :آپکے تعلیمی حصول میں کافی تغیر ہے ،پہلے چشمہ پھر میانوالی اس کے بعد لاہور اورپھر ملتان ۔اسکی کوئی خاص وجہ تھی؟
پروفیسرڈاکٹر محمداشرف خان :ہماراآبائی علاقہ کوہاٹ ہے ۔والدصاحب ر روزگار کے سلسلے میں چشمہ میں رہائش پذیر تھے اس لئے سکول کی تعلیم چشمہ میں ہوئی ۔چونکہ وہاں کالج نہیں تھا اس لیے والد صاحب نے لاہور بھیج دیا ۔پھر والد صاحب نے کچھ گھریلو وجوہات کی بنا پر واپس بلا لیا جس کی وجہ سے تعلیمی سلسلہ میانوالی میں جاری رہا ۔یونیورسٹی کی تعلیم کے لئے جامعہ پنجاب لاہور گیا اوروہاں سے ملتان میں ملازمت مل گئی ۔ تعلیمی حصول کے لیے ہی زندگی تغیر میں رہی ۔
دی ایجو کیشنسٹ :میڈیا میں آنے کا شوق تھا یا حادثاتی طور پرآئے ؟
پروفیسرڈاکٹر محمداشرف خان :مجھے میڈیا کا بالکل بھی شوق نہیں تھابس حادثاتی طور پر اس شعبے میں آیا ۔کچھ سینیئرز کے مشوروں سے صحافت کا انتخاب کیااور پوزیشن بھی حاصل کی ،اس کے بعد بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی سے صحافت کے سفر کا آغاز ہوا جو اب تک جاری ہے۔یہاں اس شعبہ میں جتنی بھی ترقی ہوئی الحمداللہ میرے ہاتھوں سے ہی ہوئی ہے ۔بہاالدین زکریایونیورسٹی شعبہ صحافت کو پاکستان میں لیڈنگ ڈیپارٹمنٹ کی حیثیت حاصل ہے۔ہم یہاں پہ بی ایس پروگرام ،ایم اے ، ایم فل ،اور پی ایچ ڈی پروگرم کامیابی سے کروارہے ہیں۔ہم اپنے طلباء کو پرنٹ ،الیکٹرانک اور تعلیم و تحقیق میں اسٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات مہیا کر رہے ہیں۔ہم اپنا FM ریڈیو 104.6 بھی کامیابی سے چلا رہے ہیں ۔ہمارا اپنا بہت ہی شاندار ٹیلی ویژن اسٹوڈیو بھی ہے جس میں تمام آلات اور سہولیات موجود ہیں ۔شعبہ کی لائبریری اور آئی ٹی لیب بہت ہی شاندار ہیں ۔یہاں جو بچے پڑھتے ہیں وہ عملی کام بھی یہاں ہی سیکھتے ہیں ۔ملکی جامعات کی درجہ بندی میں بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی نویں نمبر پر موجود ہے ،تعلیم و تحقیق میں اس کا بہت نام ہے۔
دی ایجو کیشنسٹ : اکتیس سالہ تدریسی سفر میںآپ نے کتنے وائس چانسلر زکے ساتھ کام کیا ؟
پروفیسرڈاکٹر محمداشرف خان :بہاالدین زکریایونیورسٹی 1975میں قائم ہوئی تھی اورمیں نے 1987میں اس کو جوائن کیا،اب تک آٹھ سے نو وائس چانسلر تبدیل ہو چکے ہیں ۔
دی ایجو کیشنسٹ :جامعہ کی تعلیمی بہتری کے لیے کس وائس چانسلر نے سب سے زیادہ کوشش کی ؟
پروفیسرڈاکٹر محمداشرف خان :یہ ایک مشکل سوال ہے ،لیکن میں سمجھتا ہوں تقریباًسبھی وائس چانسلر ز نے جامعہ کی بہتری کے لیے کام کیا۔نذیر رومانی ایک آئیڈیل وائس چانسلر تھے ۔خواجہ امتیاز صاحب ، عاشق درانی ،غلام مصطفی چودھری ، خواجہ علقمہ صاحب اور خاص طور پر موجودہ وائس چانسلر طاہر امین صاحب یونیورسٹی کی بہتری کے لیے دلجمعی سے اچھاکام کر رہے ہیں ۔
دی ایجوکیشنسٹ :درجہ بندی کے لحاظ سے یونیورسٹی کس نمبر پر ہے؟
پروفیسرڈاکٹر محمداشرف خان :ملکی طور پر نویں نمبر پر اور عالمی طور پر بہاالدین زکریایونیورسٹی900 ٹاپ یونیورسٹیوں میں شامل ہے۔
دی ایجوکیشنسٹ :آپ کی شعبہ کی صدارت کے علاوہ کیا ذمہ داریاں ہیں ؟
پروفیسرڈاکٹر محمداشرف خان :شعبہ کے سر براہ ہونے کے ساتھ ساتھ میں دو ذمہ داریاں اور بھی نبھا رہا ہوں جس میں ڈائریکٹر اسٹوڈنٹ افیئرزاور ڈائر یکٹر اکیڈمک شامل ہیں ۔میں طلباء کی ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کی طرف خاص توجہ دیتا ہوں ۔
دی ایجوکیشنسٹ :لاہور میں کیمپس قائم ہوا پھرختم ہو گیا ، پھر فاصلاتی تعلیم کا پروگرام بھی مسائل کا شکار رہا اب دوبارہ سے کیا پلان ہے ۔خواجہ علقمہ صاحب نے بھی کہا تھا کہ اس پرپیش رفت ہو رہی ہے ۔اس پر کہاں تک کام ہو چکا ہے؟
پروفیسرڈاکٹر محمداشرف خان :بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے یہ دونوں پروگرام بہت اچھے تھے اور ان کی فلاسفی بہت زبردست تھی۔لیکن بدقسمتی سے چند لوگوں کی نااہلی ،مفاد پرستی اور عدم توجہی کی وجہ سے ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا اور یونیورسٹی کی شہرت بری طرح متاثر ہوئی۔فاصلاتی تعلیم کا پروگرام بھی بہت شاندار تھا بدقسمتی سے وہ بھی چند لوگوں کی نا عاقبت اندیشی کی نذر ہو گیا ۔میرے علم کے مطابق یہ پراجیکٹ فی الحال دوبارہ شروع نہیں ہو رہے ،ہو سکتا ہے مستقبل میں ان پہ دوبارہ کام شروع ہو جائے ۔
دی ایجوکیشنسٹ :سیاست میں طلباء اوراساتذہ کاکیارول ہے ؟
پروفیسرڈاکٹر محمداشرف خان:دیکھیں طلباء کی سیاست یایونینز کا بنیادی مقصد لیڈر شپ پیدا کرنا ہوتا ہے ،لوگوں میں اپنے حقوق کے حصول کے لیے شعور لانا ہوتا ہے۔چونکہ ہمارا ملک جمہوری ہے اور نظام کو جمہوری طرز پر ہی چلنا چاہیے ، لیکن بد قسمتی سے اساتذہ اور طلباء کی جو مثبت سیاست تھی وہ ذاتی مفاد کا شکار ہو گئی جس سے خرابیوں نے جنم لینا شروع کیا اور اچھی روایات قائم نہ ہوسکیں ۔جب ذاتی مفاد ،اجتماعی مفاد یا ملکی مفاد پر غالب آجائے تو بہت نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔میں ذاتی طور پر اساتذہ اور طلباء کی سیاست کے خلاف نہیں ہوں ،بس ہمیں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے اور ذاتی طور پر اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔سب لوگوں کوملکی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے۔
دی ایجوکیشنسٹ :میڈیا میں اخلاقیات کے فقدان کی شکایت زبان زدِ عام ہیں کہ اداروں میں انہیں نہیں سیکھایاجاتا ۔کیا آپ ان اعتراضات کو درست سمجھتے ہیں ؟
پروفیسرڈاکٹر محمداشرف خان:سب سے پہلے میں یہ بتا دوں کہ ماس میڈیا ایک پروفیشن نہیں ہے بلکہ ایک مشن ہے ۔قوموں کو بنانے اور بگاڑنے میں میڈیا کا بہت اہم کردار ہے ۔موجودہ دور میں میڈیا خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا کچھ اچھی روایات قائم نہیں کر پا رہا ،ذاتی مفاد ،ریٹنگ کا حصول ،ایک دوسرے کو نیچا دکھانا اور بریکنگ نیوز کے حصول کے لیے اس نے وہ کام کیے ہیں جو ہمارے معاشرے کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوئے۔ایک صحافی ہونے کے ناطے ہمارا جو فریضہ ہے وہ پورا نہیں کررہے ۔میں نے 2008ء میں پہلی مرتبہ اخلاقیات کا نصاب متعارف کروایا،وہ اب پڑھایا جا رہا ہے ۔امید ہے کہ اس سے بہتری آئے گی ۔آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے بہت ضروری ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں آزاد ،خود مختار اور ذمہ دار صحافت کی اشد ضرورت ہے۔ہماری صحافت کے اوپر نہ نظر آنے والا دباؤ ہے جسے ہمیں ماننا پڑے گا ۔ہمیں اپنی سوسائٹی ،قومی مفاد ، قومی مقاصد ،اداروں کا احترام اور عوام کی فلاح و بہبود کو مقدم رکھنا ہو گا ۔میڈیا کے حوالے سے ایک قومی پالیسی بنانا ہو گی جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز میں عام اتفاق رائے پایا جائے ۔ہم تو طلباء کو اخلاقیات سکھاتے ہیں مگر جب وہ میڈیا میں جاتے ہیں تو وہاں مالکان کا پریشر ،ذاتی مفادات اور بریکنگ نیوز کے حصول کا دباؤ بعض اوقات انہیں اخلاقیات سے غافل کر دیتا ہے۔مگر میں یہی کہوں گا کہ تصدیق کے ساتھ رپورٹنگ کریں اوراس میں ذاتی تجزیہ شامل نہیں ہوناچاہیے۔
دی ایجوکیشنسٹ :آپ آئندہ پانچ سالوں میں اپنے ڈیپارٹمنٹ کو کہاں دیکھتے ہیں ؟
پروفیسرڈاکٹر محمداشرف خان:میں ذاتی طور پر ہمیشہ ایک اچھی سوچ اورامید رکھنے والا بندہ ہوں ۔میں نے جس طرح خود اپنی محنت اور اپنے ساتھیوں کی مدد سے ادارے کو جس مقام پر پہنچایا ہے اب آئندہ سالوں میں اس میں مزید بہتری دیکھ رہا ہوں ۔ہمارا شعبہ پاکستان بھر میں لیڈنگ ڈیپارٹمنٹ کی حیثیت برقراررکھے گا۔میں مستقبل میں ادارے کو سنٹر آف ایکسی لینس بنانا چاہ رہا ہوں ۔ فلم پروڈ کشن اور کچھ ڈپلومہ کورسز بھی شروع کرنے کا ارادہ ہے تاکہ طلباء کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی تربیت دے کر اس قابل بنا یا جا سکے کہ وہ اپنا روزگار حاصل کر سکیں۔
دی ایجوکیشنسٹ :اپنے قیمتی وقت سے کچھ وقت نکالنے کے لئے آپ کا بہت شکریہ 
ڈاکٹرمحمداشرف خان: آپ کا بھی شکریہ

Print this entry

Comments

comments