صدارتی انتخاب – نمبر گیم

صدارتی انتخاب – نمبر گیم
August 26 12:50 2018 Print This Article
(سٹاف رپورٹ) وزیر اعلی پنجاب کے بعد اب صدارتی الیکشن ہونا ہے …اس کی ریاضی اور صورتحال بھی سمجھ لیں
صدارتی انتخاب کے لیے دستور میں ایک الیکٹورل کالج تشکیل دیا گیا ہے۔ اس میں قومی اسمبلی کے ہر رکن، سینٹ کے ہر رکن اور بلوچستان اسمبلی کے ہر رکن کو ایک ایک ووٹ حاصل ہے…
جبکہ دیگر تین صوبائی اسمبلیوں کو سب سے چھوٹی اسمبلی بلوچستان اسمبلی کے ارکان کی تعدد برابر یعنی 65، 65 ووٹ ملتے ہیں۔ یوں ان اسمبلیوں کے ارکان کی تعداد کو 65 پر تقسیم کرنے سے جو نمبر نکلتا ہے، ان تین اسمبلیوں کے اتنے اتنے ارکان مل کر ایک ووٹ رکھتے ہیں۔ گویا پنجاب اسمبلی کے 5.70 ارکان، سندھ کے 2.58 ارکان، کے پی کے 1.90 ارکان کو ایک ووٹ حاصل ہے…
اس طرح قومی اسمبلی کے 342، سینٹ کے 104 اور چار صوبائی اسمبلیوں کے 65×4 ارکان کا مجموعہ 706 نکلتا ہے جو کہ الیکٹورل کالج کا مجموعی نمبر ہے۔
قومی اسمبلی میں اس وقت 342 میں سے 330 ارکان موجود ہیں اور 12 سیٹیں خالی ہیں۔ 330 میں 176 ارکان پی ٹی آئی الائنس، 150 اپوزیشن الائنس اور 4 آزاد ارکان ہیں۔
سینٹ میں 68 ارکان کا تعلق اپوزیشن الائنس سے، 25 کا تعلق پی ٹی آئی الائنس سے، 11 آزاد ارکان.
یوں وفاقی پارلیمان میں پی ٹی آئی الائنس کو 201، اپوزیشن الائنس کو 218 ووٹ حاصل ہیں۔ 15 آزاد ہیں۔
صوبائی اسمبلیوں کا سکور کچھ یوں ہے :-
پنجاب اسمبلی 371 ÷ 65 :
حکومتی ارکان : 189 ÷ 5.70 (33 ووٹ)
اپوزیشن الائنس : 171 ÷ 5.70 (30 ووٹ)
آزاد : 5 ÷ 5.70 (1 ووٹ)
سندھ اسمبلی 168 ÷ 65 :
پی ٹی آئی الائنس : 65 ÷ 2.58 (26 ووٹ)
اپوزیشن الائنس : 98 ÷ 2.58 (38 ووٹ)
تحریک لبیک : 3 ÷ 2.58 (1 ووٹ)
کے پی اسمبلی 124 ÷ 65 :
حکومتی الائنس : 85÷1.90 (45 ووٹ)
اپوزیشن الائنس : 33÷1.90 (18 ووٹ)
آزاد : 3÷1.90 (2 ووٹ)
بلوچستان اسمبلی 65 :
حکومتی اتحاد : 41
اپوزیشن 16
آزاد : 4
اب کرتے ہیں گرینڈ ٹوٹل
پی ٹی آئی اتحاد :
201+33+26+45+41=346
اپوزیشن الائنس :
218+30+38+18+16=320
آزاد و دیگر:
15+1+1+2+4=23
گویا پی ٹی آئی کو 346، اپوزیشن کو 320 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ بالفرض اپوزیشن کسی طرح تمام آزاد ارکان کی حمایت بھی حاصل کرلے (جو کہ ناممکن ہے)، تب بھی پی ٹی آئی کو ہرانا ممکن نہیں۔ اور حالات کو دیکھتے ہوئے غالب امکان یہی ہے کہ کم از کم 20 آزاد ووٹ پی ٹی آئی کی حمایت کریں گے.

Print this entry

Comments

comments

  Categories: