قائدکا پاکستان-قائد اعظم ایک لبرل اور ترقی یافتہ پاکستان چاہتے تھے

قائدکا پاکستان-قائد اعظم ایک لبرل اور ترقی یافتہ پاکستان چاہتے تھے
August 26 12:39 2018 Print This Article

 رپورٹ: فیضان خالد
لوکل گورنمنٹ لاہور اور لبرل ہیومن فورم کے اشتراک سے آج ٹاؤن ہال لاہور میں ایک پروقار سیمینار منعقد کیا گیا جس کی صدارت ڈاکٹر امجدثاقب نے کی اور مہمانانِ گرامی میں نمایاں تھےمعروف صحافی اور دانشور سہیل وڑائچ، اعجاز احمد چوہدری، بشپ آف لاہور عرفان جمیل، پنڈت بھگت لعل، معروف اینکر پرسن ڈاکٹر فرزانہ ارشد، ایم پی اے سعدیہ سہیل رانا، معروف ادیب حسین مجروح، حسن خاں ،خواجہ ابراہیم اور مبین سلطان، نظامت کے فرائض کالم نگار افضال ریحان نے سرانجام دیے۔

دانشوروں اور زندگی کے مختلف شعبہ جات میں رہنمائی کا فریضہ سر انجام دینے والوں نے یوم اقلیت کی مناسبت سے 11 اگست کو قائداعظم کے تاریخی خطاب کی اہمیت اجاگر کی اور بتایا کہ قائداعظم محمد علی جناح ایک ایسا خود مختار فلاحی پاکستان چاہتے تھے جس میں اقلیتیں دوسرے درجے کی شہری نہ ہوں جس میں رواداری اور برداشت ہو قانون کی نظروں میں کوئی ادنی یا کمتر شہری نہ ہو’’ اخوت ‘‘کے چیئرمین معروف سماجی رہنما ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہمارے قائد انسانی حقوق کے علمبردار تھے، اعلیٰ کردار، مثبت رویہ،ثابت قدمی اور مستقبل مزاجی انکی شخصیت سے ڈھلکتی تھی وہ بھائی چارے صبر اور برداشت والا پاکستان چاہتے تھے ان کی 11 اگست والی تقریر بڑی واضح ہے مگر آج ہمارا پاکستان ویسا نہیں ہے جیسا ہمارے قائد اسے دیکھنا چاہتے تھے آج یہاں لوگ غربت اور افلاس کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اس سلسلے میں ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنے ادارے ’’اخوت‘‘ کی مثال پیش کی جو محروم طبقات کی بحالی کیلئے جدوجہد کر رہا ہے اس سلسلے میں اب تک 66 ارب روپے کی رقم 30 خاندانوں میں بانٹ چکاہے اور اس کی واپسی 99.9 فیصد ہے ۔

معروف دانشور سہیل وڑائچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ قائد نے اپنے گیارہ اگست کے خطاب میں یہ واضح کر دیاتھا کہ یہاں تمام شہریوں کے حقوق برابر ہونگے۔ اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جائے گا قائد کے پاکستان میں ہمیں تمام نفرتیں، بغض، اور کینہ ختم کرنا ہوگا۔جناب سہیل وڑائچ نے قائد کی ذاتی زندگی کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ انگلینڈ پڑھنے کیلئے نہیں بلکہ ملازمت کرنے کیلئے گئے تھے انہوں نے اپنے والد سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ایک ایکٹر بننا چاہتے ہیں تو ان کے والد جناح پونجا نے کہا کہ نہیں تم وطن واپس آکر اس ملک کی خدمت کرو ۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعجاز احمد چوہدری نے کہا کہ میں نئے پاکستان پر پھر کبھی تفصیلی روشنی ڈالوں گا۔ آج قائدکے پاکستان کی بات ہوگی افضال ریحان صاحب آپ سمجھ لیں کہ نیا پاکستان قائد کی سوچ کے ہی مطابق ہو گا۔ قائد اپنے پاکستان کو ایک ترقی یافتہ اور خوشحال ملک کی حیثیت سے دیکھتے تھے۔ جس میں انصاف ہوگا اور سب کیلئے ہو گا غربت اور لاقانونیت کا خاتمہ ہوگا امیر غریب کی تفریق ختم ہوگی پاکستان دس لاکھ جانوں کی قربانیاں دیتے ہوئے قائم کیا گیا تھا پوری دنیا میں کہیں اتنی بڑی ہجرت نہیں ہوئی جتنی پاکستان کیلئے لوگوں کو کرنی پڑی مگر افسوس یہاں جو بھی لیڈر آیا وہ کرپٹ نکلا جنہوں نے اس ملک کا پیسہ لوٹا اور پاکستان عوام کو سوائے غربت اور قرض کے اور کچھ نہیں دیا ہم سب یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم قائداعظم کے نظریے پر چلیں گے دیانتداری کو اپنائیں گے ہم نے بلوچستان اور فاٹا کو سینے سے لگایا ہے اس لیے کہ دشمن دھاک میں بیٹھا ہے وہ ہمارے درمیان خلفشار دیکھنا چاہتا ہے ہم نے پاکستان کو قائد کے خوابوں کا پاکستان بنانا ہے۔
کالم نگار افضال ریحان نے کہا کہ قائد کے پاکستان میں کمانڈرانچیف ایک مسیحی تھا تو وزیر خارجہ ایک احمدی اور وزیر قانون ایک ہندو تھا۔ اس سے زیادہ روا داری کا مظاہرہ کیا ہو سکتا ہے۔ قائد پاک بھارت تعلقات امریکہ اور کینڈا جیسے دیکھنا چاہتے تھے۔ قائد منافرتوں کی سیاست کا خاتمہ چاہتے تھے۔ قائد نے 11 اگست کو دستور ساز اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے واضح کر دیا تھا کہ مملکت پاکستان میں بلا تمیز مذہب و نسل تمام شہریوں کو برابر کے حقوق اور آزادیاں حاصل ہونگی کسی کا جو بھی عقیدہ ہے وہ اس کا ذاتی معاملہ ہوگا ریاست کا اس سے کوئی واسطہ یا سروکار نہیں ہو گا۔


ایم پی اے سعدیہ سہیل نے کہا کہ قائداعظم نے 11 اگست کو یہ فرمایا کہ پاکستان میں تمام اقلیتیں آزاد ہونگی ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے گا جو حقوق ایک مسلم کے ہونگے وہی غیر مسلوں کو بھی حاصل ہونگے تمام اقلیتیں اپنے مذاہب کی پابندی کرنے میں آزاد ہونگی اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے گا پی ٹی آئی بھی اسی مقصد کیلئے کام کر ے گی۔
بشپ لاہور عرفان جمیل نے کہا کہ پاکستان کی تمام اقلیتیں قائد اعظم کی شکرگزار ہیں جنہوں نے آج کے دن ہمیں برابری کے حقوق دینے کی بات کی پاکستان کیلئے مسیحیوں کی بھی خدمات ہیں۔ آج پاکستان کو کوئی بیرونی خطرہ نہیں ہے جو بھی خطرہ ہے وہ اندر سے ہے آپس کے اختلافات سے ہے نا انصافیوں اور محرومیوں سے ہے حقیقی تبدیلی وہ ہوتی ہے جو اندر سے آتی ہے افراد کی سوچیں بدلیں گی تو اجتماعی سوچ بھی تبدیل ہو جائے گی۔
پنڈت بھگت لعل نے کہا کہ قائداعظم کا خطاب احترامِ انسانیت کا خطاب ہے اس میں انہوں نے تمام اقلیتوں کو برابری کے حقوق دینے کی بات کی اور کہا کہ تمام لوگ اپنے اپنے عقیدوں کے مطابق آزاد ہیں اگر آپ پرانے زخموں کو کھر چیں گے تو خون نکلے گا آج پاکستان میں مینارٹیز کے حقوق غصب کیے جارہے ہیں جوزف کالوفی اور شانتی نگر کا واقعہ دیکھ لیں آج ہماری بچیوں کو اغوا کر کے زبردستی مسلمان بنا کر نکاح کیے جا رہے ہیں حالانکہ ہمیں اس پرچم کے سائے تلے ایک ہونا چاہیے یہ دھرتی ہماری ماں ہے میں تو یہ کہتا ہوں ہندوبنوں گا نہ مسلمان بنوں گا انسان کی اولاد ہوں انسان بنوں گا۔
ڈاکٹر فرزانہ ارشد نے کہا کہ قائد نے کبھی مذہب کو سیاست میں شامل نہیں کیا انہوں نے اقلیتوں کے حقوق اور آزادیوں کی بات کی آج ضرورت ہے کہ قائد کے اس وژن کو پاکستان میں عملاً نافذ کیا جائے پاکستان میں تمام اداروں کو آئین اور قانونی حدود میں رہ کر اپنا رول ادا کرنا چاہیے۔

Print this entry

Comments

comments