آئیئے حقیقی عید منائیں

آئیئے حقیقی عید منائیں
August 22 00:41 2018 Print This Article

تحریر : ابوحمدانؔ
آج سے ہزاروں سال پہلے دشت عرب کے ایک بیابان علاقہ میں ایک بنجر زمین ، خشک ترین مقام پر ایک خدا کے فرستادہ نے خدائی منشاء کے مطابق اپنی اولاد کو اس بیابان وادی میں چھوڑ دیا تھا۔ اس شخص کے دل میں ذرہ بھر بھی یہ خیال نہ گزرا کہ ان کا کیا ہوگا۔ بلکہ وہ ہستی جب واپسی کی طرف مڑی تو اس کی زبان پر یہ الفاظ تھے:
’’اے پروردگار! میں نے اپنی اولاد میدان(مکہ) میں جہاں کھیتی نہیں، تیرے عزت( وادب) والے گھر کے پاس لابسائی ہے،اے پروردگار!تاکہ یہ نماز پڑھیں ۔تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کردے کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میووں سے روزی دے تاکہ( تیرا) شکر کریں۔‘‘( سورۂ ابراہیم :۳۷)
یہ وہی ہستی ہے کہ جس کو خدا نے ایک مرتبہ خواب میں بھی آزمایا تھا کہ اپنے بیٹے کو لٹا کر اس کے گلے پر چھری پھیر کر اس کو قربان کردے اور یہ شخصیت اس پہلے کڑے امتحان میں بھی کامیاب ہوگئی تھی۔ چنانچہ اس بچہ کی جگہ ایک دنبا کی قربانی کی گئی۔

یہ دونوں امتحانات درحقیقت اس عید الاضحی کے پیچھے اصل سبق ہیں۔ ہمارے لئے یہ ایک عملی نمونہ ہے کہ ہماری ہر قربانی کا مقصد خدا کی رضا ہونا چاہئیے نا کہ دنیاوی فائدہ اور دنیاوی ذیب ونمائش۔ کیونکہ ہماری پیاری کتاب میں تو اللہ نے واضح الفاظ میں فرمادیا کہ تمہاری قربانیوں کا نہ گوشت مجھ تک پہنچے گا نہ ہی ان کا خون، اصل چیز تمہارا تقوی ہی ہے کہ تم نے کس نیت سے قربانی کی۔ اگر قربانی محض دکھاوا یا ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی غرض سے کی گئی تو اس کا کچھ اجر نہیں ، اور اگر تقوی اور خدا کی خشیعت اور خوف مد نظر ہوا تو ایسے لوگوں کیلئے یہ ابراہیمی قربانی کا روپ دھار سکتی ہے۔
چنانچہ آج ہم سب کا یہ فرض ہے کہ اس ابراہیمی سنت کی ادائیگی کے وقت محض جانور کی قربانی پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ اس بات کا بھی عہد باندھا جائے کہ اے خدا جس طرح تو نے ابراہیم سے قربانی کا تقاضا کیا تھا تو اس نے اپنی سب سے قیمتی چیز تیری راہ میں قربان کرنے کی ٹھان لی تھی اسی طرح تیری راہ میں ہم سب بھی ہر قسم کی قربانی سے پیچھے نہ ہٹیں گے۔اللہ کرے کہ ہم سب کی قربانیاں بارگاہ ایزدی میں قبول ہوں۔انشاء اللہ
عیدمبارک

Print this entry

Comments

comments