دنیا میں ہر سال 1کروڑ 20لاکھ بچے غذا کی کمی کے باعث مر جاتے ہیں ۔

دنیا میں ہر سال 1کروڑ 20لاکھ بچے غذا کی کمی کے باعث مر جاتے ہیں ۔
August 19 01:55 2018 Print This Article

رپوٹ۔ تسمیہ نثار
لاہور(16اگست 2018)
پاکستان میں 44فیصد بچے نشوونماکی کمی کا شکار پائے گئے جبکہ قومی اوسط کے مطابق تقریبا 63فیصد لوگ خوراک خریدنے سے قاصر ہیں۔فل ڈا نیوٹریشن گیپ رپوٹ(Fill the Nutrition Gap Report) 2017کے مطابق بلوچستان میں 80فیصد، سندھ میں67فیصد، خیبرپختوں خواہ میں 67فیصد، پنجاب میں 60فیصد لوگ خوراک خریدنے سے قاصر ہیں۔
قومی سطح پر 58فیصد گھرانوں میں غذائی عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔ صوبہ بلوچستان کے بعد صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ خوراک کی قلت پائی جاتی ہے۔صوبہ بلوچستان میں 72فیصد جبکہ صوبہ سندھ میں 63.5فیصد گھرانے خوراک کی قلت کا شکار نظر آتے ہے ۔عالمی سطح پر تقریبا 150ملین بچے غذا کی کمی کا شکار پائے جاتے ہیں جن میں سے 12ملین بچوں کی موت کا سبب غذا کی کمی پائی جاتی ہے۔
گلوبل نیوٹریشن رپورٹ 2017کے مطابق عالمی سطح پر غذا کی کمی کے باعث تقریبا 2.7ملین خواتین اور بچے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔قومی سطح پر شہری علاقوں میں بچوں میں نشوونما کی کمی کی کثیر تعداد پائی جاتی ہے،جہاں 36فیصد بچے جبکہ دیہی علاقوں میں 24فیصد بچے نشوونما کی کمی کا شکار پائے گئے۔فل ڈا نیوٹریشن گیبپ رپورٹ2017(Fill the Nutrition Gap Report) کے مطابق پچھلے چالیس سالوں سے خوراک کی کمی کی ناقص صورت حال پائی جاتی ہے۔گھریلو سطح پر صرف تین فیصد بچے متوازن غذا کھانے کے قابل ہیں۔
ماہر غذائیت ڈاکٹر شگفتہ فیروز نے خوراک کی کمی کی بیماری سے بچنے کے لیے غذا کی منصوبہ بندی سے متعلق آگاہی فراہم کرتے ہوئے مندرجہ ذیل ہدایات کی:
.1ناشتہ صبح اٹھنے کے بعد جلد از جلد اور پیٹ بھر کر کریں ۔
2.ٹھنڈا پانی خوراک کے ساتھ پینے سے خوراک کی طاقت کم ہو جاتی ہے۔اس لیے سادہ پانی خوراک سے آدھا گھنٹہ پہلے یا ڈیڑھ گھنٹہ بعد پےءں۔
.3پھل،میٹھا،جوس یا کولڈ ڈرنک خوراک کے ساتھ لینے سے صحت مند خوراک نقصان دہ ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہر قسم کا میٹھا کھانے سے ایک گھنٹہ یا ساڑھے تین گھنٹہ بعد لیں۔

Print this entry

Comments

comments