چیف جسٹس آف پاکستان کے نام سکول کے بچوں کاخط

چیف جسٹس آف پاکستان کے نام سکول کے بچوں کاخط
July 17 13:04 2018 Print This Article

تحریر: اے آرساجد

لاہورکے ایک پرائیویٹ سکول (لیکول سکول جوہرٹاؤن)کے تین بہن بھائیوں نے چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس میاں ثاقب نثارکے نام خط لکھ دیا جوسوشل میڈیاپروائرل ہوگیا۔تین بچوں نے جن کے نام مریم ،غیوراورحورہیں اورچوہدری کالونی سمن آباد کے رہائشی ہیں نے خط میں چیف جسٹس صاحب سے شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ “آپ نے توکہاتھا کہ اسکول میں گرمیوں کی چھٹیوں کے پیسے نہیں دینے مگراسکول والے توپیسے مانگ رہے ہیں بلکہ انہوں نے توجون کی فیس ہم تینوں بہن بھائیوں سے لے لی ہے بلکہ وہ کتابوں کے پیسے بھی مانگ رہے ہیں۔خط میں مزیدکہاگیاہے کہ آپ نے توکہاتھا فیس نہیں دینی ناران کاغان جاناہے اب چھٹیاں بھی ختم ہونے والی ہیں مگروہ بہت زیادہ فیس مانگ رہے ہیں۔پاپانے کہاتھاکہ اسکول میں کتابوں کے پیسے بھی دینے ہیں کیونکہ کورس کی کتابیں بازارسے نہیں ملتی اس عیدپربکرابھی نہیں آئے گا”۔ پیرنٹس ایکشن کمیٹی فارپرائیویٹ سکولزکے فونڈرکاشف اسماعیل کے مطابق یہ خط بچوں نے ان کے حوالے کیااوردرخواست کی کہ کاشف انکل ہمارایہ خط چیف جسٹس انکل کوپہنچادیں(خط کاعکس نیچے درج ہے)۔
معلوم نہیں یہ خط چیف جسٹس تک پہنچتاہے یانہیں، اوراگرپہنچتاہے تواس پراُن کاکیاردعمل ہوتاہے لیکن اتناضرورہے کہ خط نے ہر دردِ دل رکھنے والے پاکستانی کوافسردہ ضرورکیاہے۔انسان کی عادت ہے کہ وہ دکھ سہتارہتاہے لیکن جب اسے کسی طرف سے کوئی امیددلائی جاتی ہے تواس کے لئے اس دکھ کومزیدبرداشت کرناممکن نہیں رہتا ۔ایک مشہورواقعہ ہے کہ
“ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تھا تو ایک بوڑھے دربان کو دیکھا جو محل کے صدر دروازے پر پُرانی اور باریک وردی میں پہرہ دے رہا تھا۔ بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رکوایا اور اُس ضعیف دربان سے پوچھنے لگا:
”سردی نہیں لگ رہی؟”
دربان نے جواب دیا: ”بہت لگتی ہے حضور۔ مگر کیا کروں، گرم وردی ہے نہیں میرے پاس، اِس لئے برداشت کرنا پڑتا ہے۔”
”میں ابھی محل کے اندر جا کر اپنا ہی کوئی گرم جوڑا بھیجتا ہوں تمہیں”بادشاہ نے کہا۔
دربان نے خوش ہو کر بادشاہ کو فرشی سلام کہے اور بہت تشکّر کا اظہار کیا، لیکن بادشاہ جیسے ہی گرم محل میں داخل ہوا، دربان کے ساتھ کیا ہوا وعدہ بھول گیا۔
صبح دروازے پر اُس بوڑھے دربان کی اکڑی ہوئی لاش ملی اور قریب ہی مٹّی پر اُس کی یخ بستہ انگلیوں سے لکھی گئی یہ تحریر بھی:
”بادشاہ سلامت، میں کئی سالوں سے سردیوں میں اِسی نازک وردی میں دربانی کر رہا تھا مگر کل رات آپ کے گرم لباس کے وعدے نے میری جان نکال دی”۔
بالکل اسی طرح والدین اوربچے عرصہ درازسے پرائیویٹ سکول مافیا کی جائز ناجائز فیسیں اوردیگراخراجات برداشت کررہے تھے لیکن کچھ بے وقوف لوگ(موجودہ حالات میں ان کاعمل بیوقوفی جاناگیاہے)عدالتوں میں چلے گئے اورسکول مافیاکے ظلم کے خلاف آوازبلندکی ۔پشاورہائیکورٹ نے فیسوں میں اضافے کوغیرقانونی قراردیااورایک گھرکے ہردوسرے بچے کی فیس نصف کرنے اورسالانہ 3فیصداضافہ کی اجازت دی۔خیبرپی کے پرائیویٹ سکولزریگولیٹری اتھارٹی نے پرائیویٹ سکولزکوگرمیوں کی چھٹیوں میں زیادہ سے زیادہ 50فیصدفیس لینے کی اجازت دی۔لاہورہائیکورٹ نے فیسوں میں 5سے8فیصداضافہ کوغیرقانونی قراردیااورکہاکہ پرائیویٹ سکولزوالدین کوکسی خاص دکان سے کتابیں اوریونیفارم خریدنے پرپابندنہیں کرسکتے۔سندھ ہائیکورٹ نے بھی پرائیویٹ سکولوں کی جانب سے کئے گئے اضافے کوغیرقانونی قراردیااورانہیں اضافی فیس اورلیٹ چارجزوصول کرنے سے روک دیا۔چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس معاملے پرسب سے بڑھ کرریمارکس دئیے اورنجی سکولوں کوموسم گرما کی تعطیلات کی فیس لینے سے روکنے کاحکم جاری کیااوروالدین کے لئے پبلک نوٹس بھی جاری کرنے کاحکم دیا۔
معززعدالتوں کے فیصلے بجالیکن عملی طورپرکیاہوا؟کچھ بھی تونہیں ہوا،پرائیویٹ سکولز اسی طرح چھٹیوں کی فیس وصول کررہے ہیں بلکہ جنہوں نے جون کی فیس نہیں جمع کروائی انہیں سکولوں کی طرف سے نوٹس بھیجے جارہے ہیں کہ فیس جمع کروائیں ورنہ بچوں کے نام خارج کردئیے جائیں گے۔والدین مجبورہیں اورفیسیں جمع کروارہے ہیں ،اِن (خط لکھنے والے) بچوں کے والدین نے بھی یقیناًفیس جمع کروادی ہوگی۔صرف سکول ہی نہیں بلکہ رکشہ اورویگنوں والے بھی چھٹیوں کی فیس وصول کرتے ہیں اوروالدین بیچارے دینے پرمجبورہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ پاکستان میں قانون کی کتنی حکمرانی ہے؟ایک لمحے کے لئے سوچیں اگرکسی زندہ لوگوں کے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے چیف جسٹس نے ایسے ریمارکس دئیے ہوتے توکیاکسی سکول کی جرأت ہوتی کہ وہ ایک پائی بھی والدین سے وصول کرسکتا؟ یقیناًنہیں ۔لیکن چونکہ ہمارے ہاں پرائیویٹ سکولزمالکان کومعلوم ہے کہ ان کے خلاف کسی کوکاروائی کرنے کی جرأت نہیں کیونکہ ان کی جڑیں بہت دورتک پھیلی ہوئی ہیں۔حال ہی میں میڈیامیں یہ بھی رپورٹ ہواہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے پشاورہائیکورٹ کے چھٹیوں کی نصف فیس وصولی کے فیصلے کوکالعدم قراردے دیاہے ،سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ پہلے سے پریشان والدین پرایک جان لیواحملے سے کم نہیں۔
صورتحال کی سنگینی کااندازہ اس بات سے بخوبی لگایاجاسکتاہے کہ موجودہ نگران حکومت نے ایک پرائیویٹ سکول کے مالک کووزیرتعلیم مقررکردیاتھا جس پروالدین اورسول سوسائٹی نے احتجاج کیا جس پران کامحکمہ تبدیل کردیاگیا۔چیف جسٹس آف پاکستان کے نام ایک ایساہی خط میں کئی دنوں سے لکھنے کاسوچ رہاتھا لیکن بوجوہ نہیں لکھ پایالیکن ان بچوں کے خط نے مجھے جھنجوڑ کررکھ دیاہے۔
میری چیف جسٹس آف پاکستان سے نہایت ادب سے گزارش ہے کہ آپ نے بچوں اوروالدین کواپنے ریمارکس کے ذریعے جوخواب دکھائے ہیں ان سچ کردکھائیں اوراس مافیاکے خلاف کاروائی کریں تاکہ لاکھوں بچوں کی امیدنہ ٹوٹے اوران کابھرم قائم رہے کہ کوئی توہے جوان کے مسائل کوسنتااورسمجھتاہے۔آپ سے گزارش ہے کہ اس ضمن میں واضح حکم جاری کریں کیونکہ آپ آئین پاکستا ن کے محافظ ہیں اورآئین آپ کواس کی اجازت دیتاہے ۔آئین توحکومت کوبھی پابندکرتاہے کہ وہ 5سے 16سال کے بچوں کومفت تعلیم مہیاکرے۔اگرحکومت سرکاری سکولوں کی حالت بہترنہیں کرسکتی تو اسے پابندکیاجائے کہ وہ نجی سکولوں کوفیس خوددے کیونکہ تعلیم دینااس کی ذمہ داری ہے۔جب حکومت کو فیس کی ادائیگی کرنی پڑے گی تویقیناًنجی سکولوں کی فیس کم بھی ہوگی ، سرکاری سکولوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہوگااوران کامعیاربھی بہترہوگا۔

Print this entry

Comments

comments