جی سی یونیورسٹی سے پہلی نابینا طالبہ عزیزہ سعید نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر لی۔

جی سی یونیورسٹی سے پہلی نابینا طالبہ عزیزہ سعید نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر لی۔
July 05 18:27 2018 Print This Article

دو روزہ کانووکیشن میں مجموعی طور پر 2349طلباء کو میڈلز اور ڈگریاں،533ایم فِل،15ایم بی اے،321ایم اے ایم ایس سی اور1235بی اے بی ایس سی اور 85طلباء وطالبات کو پی ایچ ڈی کی ڈگریوں سے نوازا گیا۔
1لاہور (سٹاف رپورٹ) گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے16ویں کانووکیشن کا انعقاد تاریخی بخاری آڈیٹوریم میں کیا گیا جس میں مہمانِ خصوصی پروفیسر سلام چیئر ڈاکٹر جی مرتضیٰ، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ، رجسٹرار ، کنٹرولر امتحانات یونیورسٹی ، تمام کلیات کے ڈینز، سعبہ جات کے صدور سمیت طلبہ و طالبات اور انکے والدین کی کثیر تعداد نے شر کت کی۔ دو روزہ کانووکیشن میں مجموعی طور پر 2349طلباء کو میڈلز اور ڈگریاں عطا کی جائیں گی،533ایم فِل،15ایم بی اے،321ایم اے ایم ایس سی اور1235بی اے بی ایس سی شامل ہیں۔پہلے سیشن میں وائس چانسلر اورپروفیسر جی مرتضیٰ نے85طلباء وطالبات کو پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا ،جبکہ ہم نصابی سرگرمیوں میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء وطالبات کو میڈلز سے نوازا گیا۔ پہلے روز کے سیشن میں 2باہمت خواتین کو پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا گیا جن میں عزیزہ سعید جی سی یوسے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والی پہلی نابینا طالبہ ہیں جبکہ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والی کوثر عنائیت برین ٹیومیر کا شکار ہے اور انہوں نے اپنا تحقیقی مقالہ کامیابی سے مکمل کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ کا کہنا تھا کہ درسگاہوں کی ترقی کے لیے ان کی خودمختاری انتہائی اہم ہے،افسر شاہی کی وجہ سے کئی اہم فیصلے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عزیزہ سعید اور کوثر عنائیت دیگر طالبعلموں کے لیے مثال ہیں۔ طلبہ اور انکے والدین کی کئی سالوں کی محنت کا ثمر آج کا یاد گار دن ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عزیزہ سعید کا کہنا تھا کہ اپنی معذوری کو کبھی اپنی کمزوری نہیں بننے دیا،نابینا طلباء کے لیے اردو ادب کی تعلیم بہت مشکل ہے کیونکہ اردو کتب ڈیجیٹل فارمیٹ میں موجود نہیں جنہیں طلباء سن سکیں۔ پیسے دے کر طالبعلموں اور دیگر لوگوں سے اپنے لیے اردو ادب کی کتب کی آڈیو ریکارڈنگ کرواتی تھی۔کوثر عنائیت نے حکومت سے اپنے علاج کی معاونت کے لیے درخواست کی۔اس موقع پر ایک والد اپنے بیٹے کی ڈگری اور اکیڈمک میڈل وصول کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گیا ان کا کہنا تھا کہ میں ایک سرکاری ادارے میں ڈرائیور ہوں خوشی ہے کہ میرے بچے نے اتنے بڑے تعلیمی ادارے سے ڈگری حاصل کی اور اب فوج میں اس کی سلیکش ہو گئی ہے۔

Print this entry

Comments

comments