سابق سربراہ ایچ ای سی پر چربہ سازی کے الزامات بے بنیاد اور منفی پرا پیگنڈہ ہیں ۔ اعلی حکام ورچوئل یونیورسٹی

سابق سربراہ ایچ ای سی پر چربہ سازی کے الزامات بے بنیاد اور منفی پرا پیگنڈہ ہیں ۔ اعلی حکام ورچوئل یونیورسٹی
May 16 23:37 2018 Print This Article

لاہور (علی ارشد) ورچوئل یونیورسٹی کے اعلی حکام نے دی ایجوکیشنسٹ سے خصوصی گفتگو کر تے ہو ئے سابق چئیر مین ہا ئر ایجوکیشن کمیشن پاکستان ڈاکٹر مختار احمد پر چربہ سازی کے تمام الزا مات کو واضع طور پر مسترد کر دیا۔ اعلی حکام کے مطابق چربہ سازی کاقا نون مقالہ جات ، تھیسسز، اورکتابوں پر لاگو ہوتا ہے۔ سابق چئیر مین ہا ئر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد نے ورچوئل یونیورسٹی کے لیے کو ئی کتاب نہیں لکھی ہے جبکہ جس کتاب پر چربہ سازی کا الزام لگایا جارہا ہے وہ دراصل لیکچر کے دوران پڑھائے جانے والے دستی نوٹس ہیں جن کی تیاری کے لیے انٹرنیٹ سمیت دیگر مختلف کتابوں اور حوالہ جات سے مدد لی جا تی ہے۔ حکام کے مطابق ورچوئل یونیورسٹی اپنے کسی بھی استاد یا پروفیسر سے لیکچر کی ریکارڈنگ کے لیے چربہ سازی لاگو نہیں کر تی اور نہ ہی دنیا بھر میں ایسا کو ئی قانون موجود ہے جو دستی نوٹس میں چربہ سازی کو قابل جرم تسلیم کر ئے۔ دستی نوٹس کے سر ورق پر واضع طور پر لکھا گیا ہے کہ جیسا لیکچر میں بیان کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یو نیورسٹی اپنے نوٹس زیر تعلیم طلبہ و طالبات کو ہی فراہم کیے جا تے ہیں ۔ ایسے بے شمار دستی نوٹس کی کتابیں ورچوئل یونیورسٹی مختلف ماہرین مضامین سے تیار کرواتا ہے۔

ذرا ئع کے مطابق تمام پروفیسر اور اساتذہ اکرام طلبہ کو لیکچر کے لیے مدد گاری نوٹس یا دیگر تحریری مواد انٹرنیٹ یا دیگر حوالہ جات کی کتابوں سے ہی دیا جا تا ہے۔ تفصیلات کے مطابق چئیر مین شپ کے امیدوار ڈاکٹر طاہر رشید نے سابق سربراہ ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان پر شائع کردہ دو کتابوں میں 88 فیصد سے زائد چربہ سازی کا الزام لگا یا تھا۔ ڈاکٹر مختار احمد حال ہی میں اپنی مدت ملازمت مکمل کرنے کے بعد عہدے سے سبکدوش ہو ئے ہیں اور دوسری مدت کے لیے مضبوط امیدوار کے حامل ہیں ۔ واضع رہے کہ ایک مخصوص گروپ سربراہ اعلی تعلیمی کمیشن کی تقرری میں منفی پرا پیگنڈہ اور میڈیا لابنگ کے ذریعے تلاش کمیٹی کی کاروا ئی پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے۔

Print this entry

Comments

comments