پنجاب یو نیورسٹی میں آتے ہی میرے خلاف سازشیں شروع ہو گئیں تھیں ۔ ڈاکٹرظفر معین ناصر

پنجاب یو نیورسٹی میں آتے ہی میرے خلاف سازشیں شروع ہو گئیں تھیں ۔ ڈاکٹرظفر معین ناصر
May 15 00:18 2018 Print This Article

سابق وائس چانسلر کا کہنا ہے کہ یو نیورسٹی کا سب سے بڑا مسئلہ اساتذہ میں سیاست کا ہونا ہے ۔

اپنا عہدہ خود تو کوئی نہیں چھوڑتا ایسے حالات پیدا کر دیے جاتے ہیں ۔

اگر میں نے کرپشن کی ہے تو ثابت کریں الزام مت لگا ئیں ۔

میری دفعہ طلباء کی لڑائی کو میڈیا نے زندگی موت کا ایشو بنا دیا تھا۔

فطری طور پہ کمینے انسان کے ساتھ جتنا بھی اچھا کر لیں فیض نہیں ملے گا ۔

پڑھئے دی ایجوکیشنسٹ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں سابق وائس چانسلر کے انکشافات

انٹرویو۔ عثمان بے خبر

دی ایجوکیشنسٹ: ڈاکٹر ظفر معین ناصر صاحب کیسے ہیں آپ اور مصروفیت کیا ہے آجکل آپکی؟
ڈاکٹرظفر معین ناصر: جی میں ٹھیک ہوں الحمداللہ اور آجکل ایک پروجیکٹ پر کام رہے ہیں جس میں ہائر ایجوکیشن کی کوالٹی اور ریسرچ کی بہتری کے اقدامات کیے جائیں گے۔

دی ایجوکیشنسٹ: آپ نے 2018کے آغاز میں ہی رئیس جامعہ پنجاب کے عہدے سے استعفیٰ دیا حالانکہ اس عہدے کو صوبائی وزیر تعلیم کے عہدے سے بھی بڑا سمجھا جاتا ہے۔ استعفیٰ دینے کے پیچھے کو نسے عوامل
کا رفرماتھے؟
ڈاکٹرظفر معین ناصر : دیکھیں کوئی بھی اپنا عہدہ خود تو نہیں چھوڑتا اس کے پیچھے بہت سے محرکات ہوتے ہیں۔ میں ایک مثبت نقطہ نظر رکھنے والا انسان ہوں میری حتیٰ الوسع کوشش ہوتی ہے کہ جتنا فائدہ دوسروں کو یا اداروں کو پہنچا سکتا ہوں وہ پہنچا دوں ۔ اور نج لائن ٹرین کے منصوبہ میں جامعہ پنجاب کا ایک اہم اور تاریخی اراضی کاقطعہ دینے کی بات ہو چکی تھی مگر میں نے اس کی مخالفت کی کیوں کہ یہ جگہ ایک مدرسے کو دی جارہی تھی مستقبل میں یہ مدرسہ اردگرد کی مزید اراضی کا مطالبہ کرسکتا تھا۔ 
چونکہ یہ ایک تاریخی ورثہ ہے قائداعظم کی ایک تقریر بھی یہاں ہو چکی ہے مزید کھوج لگانے پر پتا چلا کہ یہاں بین الاقوامی سطح کے ہاکی میچزبھی ہوتے رہے ہیں اگر ہم یہ دو کنال اراضی دے دیتے تو ہمارے دو کھیل کے میدان بھی متاثر ہوتے ۔ 

دی ایجوکیشنسٹ :تو پھر آپ نے دو کنا ل اراضی دینے کی منظوری لینے کے لیے معا ملہ سنڈیکیٹ ایجنڈے میں کیوں رکھا تھا؟۔
ڈاکٹر ظفر معین ناصر: شروع میں تھاایسا مگر صاف ظاہر ہے جب ا یجنڈا آئٹم ایک دفعہ آپ کے سنڈیکیٹ ایجنڈے میں آجائے اسے ڈسکس تو کیا جاتا ہے۔ چونکہ مجھے اس چیز کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا کہ اس کی تاریخی اہمیت کیا ہے اور ہماری یونیورسٹی کے لیے کتنی اہمیت ہے پھر مجھے احساس ہو گیا تو میں نے سنڈیکیٹ کا اجلاس ملتوی کردیا۔۔۔۔۔۔۔۔
سنڈیکیٹ میں چونکہ گورنمنٹ کا دباؤ بھی ہوتا ہے اس لیے ہم نے کہا کہ اس کو پہلے ہی روکنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن مجھے آخر میں لگا کہ میں زیادہ دیر تک اس فیصلے پر مزاحمت نہیں کر سکوں گا میں نے مناسب سمجھا کہ اگر گورنمنٹ باربار اس اراضی کے لیے اصرار کرتی ہے ۔ تو میرے لیے یہ ہی بہتر ہے کہ میں استعفیٰ دے دوں۔۔۔۔۔

دی ایجوکیشنسٹ :کرپشن کے الزامات کے بارے میں کیا کہیں گے؟
ڈاکٹر ظفر معین ناصر: کرپشن کے الزامات بے بنیاد ہیں دیکھیں اگر ان الزامات میں تھوڑی سی بھی حقیقت ہے تو اسے ثابت کریں ۔ میں نے تو بہت دیانتداری کے ساتھ یونیورسٹی کے وسائل کا خیال رکھا ہے حتیٰ کہ اپنی ذات پرا یک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا۔ میں جہاں محسوس کیا کہ یونیورسٹی کے وسائل کا غلط استعمال ہورہا ہے
اسے روکا ۔ ایک بند ہ جو خود کرپشن کے خلاف جدوجہد کررہا ہے وہ کرپشن کیسے کرسکتا ہے۔مجھ پہ جو کر پشن کے الزامات لگے ان میں یہ کہا گیا کہ میں نے سول ورک میں چارکر وڑ کی کرپشن کی ہے۔ حالانکہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں یہ تو چیف انجیئنرکا کام تھا۔ یہ سارے کام ایک کمیٹی کے ذریعے ہوئے تو مجھے کیسے ان سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔ ویسے بھی اس غیر معیاری کام کی ادائیگی بھی نہیں کی گئی پھر کرپشن کیسے ہوگئی۔ ایک اور الزام جو ہاؤس رینٹ سےمتعلق تھا اس پروفیسر (ڈ اکٹر م ۔س )کواسکا حق لوٹایا اس کو بھی ایشو بنادیا گیا۔ ایک اور الزام جو ایک لڑکی (لیکچرار(کے سکالر شپ کا مسئلہ تھا وہ حل کیا اس میں تجز یہ کریں اور بتائیں غلط کیا تھا ۔ آپ خود جان جائیں گے کہ صیحح کیا  اور غلط کیا ہے ہم نے تو کرپشن کو روکا ہے اور باقاعدہ سیونگ کی ہے۔ وہ اس طرح کہ ہم نے ایڈوائزررکھے ہوئے تھے وہ اعزازی مشیر دوگا ڑیا ں اور لا متناہی پیٹرول استعمال کرتے تھے۔ ان کا کام تھا کہ وہ سارا دن کچھ NGOsکے وزٹ کرتے رہتے تھے اچھا پھر وہ ہر دوسرے تیسرے دن ایک بڑی پارٹی کرتے تھے جس میں مختلف لوگوں کو وہ بلاتے ۔ اس کا مینیوایک دن میں نے چیک کیا تو دیکھا پانچ پانچ قسم کی مچھلی منگوائی جاتی تھی یہ اخراجات اگر آپ دیکھیں تو بیس لاکھ بن جاتے تھے وہ ختم کیے۔ اس کے بعد ایک اور کرنل صاحب اعزازی طور پر جامعہ کی طر ف ساری سہولیات لے رہے تھے ان کا کام کوئی نہیں تھا وہ ختم کیا ۔ میں نے خود ایک گاڑی استعمال کی اور کبھی اپنی حدود کو عبور نہیں کیا نہ بڑے گھر میں رہا اس طرح اگر حساب کیا جائے تو سالانہ تقریباََ 3کروڑ ساٹھ لاکھ کا فائدہ کیا۔ کرپشن کہنا آسان ہوتا ہے ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ سول ورک میں ویسے بھی وائس چانسلر کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ۔یہ سب کمیٹیاں کرتی ہیں ۔ 

دی ایجوکیشنسٹ: سر ایک وزیر جو شروع میں آپکے ساتھ تھے پھر آپکے خلاف ہوگئے اس کی وجہ کیاتھی؟ 
ڈاکٹر ظفر معین ناصر: دیکھیں ہر انسان کا ایک طریقہ ہوتا ہے کام کرنے کا میں ایک ذمہ داری کونبھانے آیا تھا جس میں میری جو سب سے بڑی سوچ اور ذمہ داری تھی وہ میرٹ کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا تھا میں نے شفاف طریقے سے احتساب کا طریقہ متعارف کروایا ۔ جب آپ میرٹ پر فیصلہ کرتے ہیں تو مخالفت توہوتی ہے ۔ جب سیاسی حکومت ہو وہ نہیں چاہتی کہ ان کے کاموں کو نہ کیا جائے یا انکار کردیا جائے ۔ میری یہ عادت ہے کہ میں تعلیم کے معاملے میں مفاہمت یا مصلحت سے کام نہیں لیتا ،میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر آپ نے دنیا کامقابلہ کرنا ہے تو میرٹ اور صرف میرٹ کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا ہے اگر آپ میرٹ کے ساتھ مفاہمت اختیارکرگئے تو آپ نے بچوں کا مستقبل داؤپر لگا دیا ہے۔ جو قوم کو سنوار نہیں سکتا الٹا بگاڑ ہی پیدا کرے گا ۔ میں نے بہت دباؤ برداشت کیا کہ میرٹ سے ہٹ کر کوئی کام نہ کر وں بس کچھ غلط فہمیاں بھی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے حالات خراب ہوتے ہیں۔ کوئی دباؤ قبول نہیں کیا ۔ 

دی ایجوکیشنسٹ:جنا ب بھرتیوں کے لیے اور حجرہ شاہ مقیم کیمپس کیلیے آ پ پر کوئی دباؤ تھا ؟اس سلسلے میں آپکا بیان بھی شائع ہوا تھا؟
ڈاکٹر ظفر معین ناصر :اگر آپ تفصیل میں چلے جائیں گے تو کئی ایسے فیکٹر ہیں جس میں ہمارے آپس میں اختلافات ہوئے لیکن وہ اختلافات اس طرح کے نہیں تھے جس پر میں سمجھوں کہ یونیورسٹی کو چلانے پر اثر انداز ہورہے تھے ۔ اور رہی بات وزیر صاحب کی ان کی سوچ کا اپنا ایک معیار ہے اگر وہ محسوس کرتے ہیں کہ میں اس کے لیے موزوں نہیں ہوں تو یہ ان کا نقطہ نظر ہے۔ میری جب بھی ان سے ملاقات ہوئی اچھے انداز میں ہوئی ۔ ظاہری بات ہیں ہمارے درمیان اگرکوئی تنازعہ پیدا ہوا ہے اس کے درپردہ بھی بہت سے لوگ موجود ہیں۔ میری یہ عادت ہے جہاں لگے مجھے کہ اس جگہ تنازعہ پیدا ہورہا ہے میں وہاں سے ہٹ جاتا ہوں لیکن میرے بیان کو جو اخباروں میں شائع ہوا اسے تو ڑمروڑ کے پیش کیا گیا۔ بعد میں باقاعدہ میں نے تردید کی ہے اپنا بیانیہ دیا ہے۔ دیکھیں میرا اپنا ایک کردار ہے وزیر صاحب کا اپنا کردار ہے اگر میں یو نیورسٹی کا چیف ایگزیکٹیو آفیسر ہوں میں نے اپنے فیصلے اس طریقے سے کرنے ہیں جس میں میری پالیسی نظر آئے باقی اگر وزیر صاحب کی اپنی کوئی رنجیدگی تھی اسے ہم بات چیت کی ذریعے حل کر سکتے تھے وہاں چند صحافی بھی بیٹھے تھے انہوں نے میری بات کو غلط انداز میں پیش کیا جو کہ اختلاف کی وجہ بنا۔ 
دیکھیں ابھی بھی جو واقعہ ہوا ہے اس کو میڈیا نے کوریج نہیں دی میری دفعہ لڑائی ہوئی اس کو میڈیا نے زندگی اور موت کا ایشوبنا دیا۔

ددی ایجوکیشنسٹ : جناب میڈیا نے بہت کوریج کی اتنی DSNGsہم نے پہلے کبھی بھی یونیورسٹی میں نہیں دیکھیں۔ ڈاکٹر ظفر معین ناصر: دیکھیں اس دفعہ گورنمنٹ نے خود ایکشن لیا ہماری دفعہ گورنمنٹ کدھر تھی ہماری دفعہ جو لڑائی ہوئی اس کے پس منظرمیں اگر دیکھا جائے توہم نے پٹھانوں کو اس وجہ سے پروگرام کی اجازت دی کہ اس میں وزیر صاحب نے ہماری رضا کے برعکس شرکت کی ہم نے صرف ان کے اعزاز کے لیے کہا کہ پروگرام کرلیں ۔ پھردوسرے گروپ نے بغیر اجازت کے وہاں اپنے کیمپ لگا لیے اور دیکھیں کہ یونیورسٹی کی پوری مشینری ہونے کے باوجود انہوں نے ان کو نہیں روکا۔ اور مجھے بتایا بھی نہیں گیا جب لڑائی ہوئی تو مجھے خبر دی گئی۔ دیکھیں اگر وزیر صاحب ہم سے مہمان خصوصی بننے کا شیئر کرتے تو ہم بہتر لائحہ عمل بنا سکتے تھے کہ لڑائی نہ ہوتی ۔ پھر بھی ہم نے بہت جلدی حالات قابو میں کرلیے۔ اس میں مجھے اندھیرے میں رکھا گیا۔ اس کے بعد میں نے کوئی لڑائی نہیں ہونے دی ۔

دی ایجوکیشنسٹ: جناب کہا جارہا ہے کہ آپ نے جانے سے پہلے جمعیت کو اجازت دی تھی پائینیرپروگرام کیلئے حقیقت کیا ہے؟
ڈاکٹر ظفر معین ناصر: لائیں دکھائیں کہاں ہے وہ اجازت نامہ ۔ میں نے نہ کبھی جمیعت کو اجازت دی ہے نہ کبھی پختونوں کوکہ وہ پروگرام کریں جیسے ہی کبھی وہ پروگرام کرنے لگے ہیں ہم نے مختلف طریقوں سے انہیں کنٹرول کیا ہے منسوح کیا ہے ۔ میں نے اپنے ہوتے ہوئے اجازت نہیں دی جاتے ہوئے کیسے دے کے جاؤں گا دیکھیں یہ تو اپنے الزامات دوسروں پہ ڈالنے کی بات ہوئی ۔ مجھے سب پتا ہے کہ کس کس نے سازش کی کون کون اس میں شامل ہے میرے پاس فہرست موجود ہے بس میں نے جانتے ہوئے بھی کیس پر انگلی نہیں اٹھائی میں الزام بازی کے کھیل پر یقین نہیں رکھتا ۔ ایک بار تو سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں ہم نے جمعیت کی پارٹی کوپتا چلنے پر ختم کیا ہمارے موجودہ وائس چانسلربھی ساتھ تھے ۔ میں تو تشدد کے ویسے ہی
خلاف ہوں میں کیسے اجازت دے سکتا ہوں۔ 

دی ایجوکیشنسٹ: شروع میں جب آپ آئے آپ کو جامعہ کے بارے میں اتنا نہیں پتا تھا تو آپ نے 200ایف آ ئی آر ختم کس کے کہنے پر کیں؟
ٓٓڈاکٹر ظفرمعین ناصر: نہیں میں نے یہ ایف آئی آر ختم نہیں کروائیں ہوا یہ تھا کہ جیسے ہی میں آیا ہوں توپہلے یا دوسرے دن ہال کونسل کی طرف سے پولیس کو کہا گیا کہ آپ اس پر فوری طور پر ایکشن لیں اب دیکھیں ایک نیا آدمی آرہا ہے آ پ پولیس کو کہہ رہے ہیں کہ آ پ ان کے خلاف ایکشن لیں اس کا مطلب کیا ہے؟ جب پولیس ایکشن لے گی تو اس سے کیا ہوگا یعنی ایک سازش وہیں سے شروع ہوگئی تھی میں نے ان کو کہا کہ آپ نے پولیس کو یہ جو ایکشن کا کہا ہے یہ نہ کہیں مجھے پہلے قدم جمانے دیں پھر دیکھیں گے۔ آپ میرا ہی انتظار کررہے تھے کہ میں آؤں تو آپ ایکشن کا کہیں جو لڑائی کا سبب بنے ۔ میں نے ہال کونسل کو کہا تھا کہ یہ والا ایکشن ابھی ملتوی کریں مناسب وقت پر اس کو دیکھیں گے یہ ایک مکمل سازش ہوئی جس میں میرے آنے پر ایک نوٹیفیکشن جاری ہوا اور پولیس کو کہا گیا کہ آپ ایکشن لیں جس وقت میں نے روکا کہ ابھی ایکشن نہ لیں تو میری اس بات کو سیاسی رنگ دے دیا گیا کہ میں جمیعت کی حمایت کی ہے آپ خود سمجھیں ایک نیا آدمی آرہا ہے اس کو آتے ہی جمیعت میں ڈالا جارہا ہے وہ بھانپ جاتا ہے کہ یہ مجھے پھنسا نے کی کوشش کی جارہی ہے جب آپ مجھ سے پہلے آرام سے بیٹھے ہوئے تھے یہ اچانک کیسے ایکٹیو ہوگئے کوئی پیچھے سے ان کی ڈوری ہلارہا تھا۔ پھر میڈیا پر بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ یہ پہلے ہی پورا ایک منصوبہ بنا ہوا تھا ۔ مجھے نوکری بچانے کی کوئی فکر نہیں تھی اگر فکر ہوئی تو اب استعفیٰ نہ دیتا ۔ 

دی ایجوکیشنسٹ: جناب یہ بھی ایک سوال گردش کرتا رہا ہے یونیورسٹی کے حلقوں میں کہ آپ ایک طاقتور وائس چانسلر تھے زمین کے مسئلے پر ٹیچر کمیونٹی یا جامعہ کے اندر سے مد د نہیں لی استعفیٰ کا راستہ کیوں اختیار کیا ؟
ڈاکٹر ظفر معین ناصر: دیکھیں یہ ایک لمبا مباحثہ ہے میرا خیال ہے یہ ایک راستہ ہو سکتا تھا لیکن میں نے یہ سوچا کہ اس وقت اس پروجیکٹ کو بڑی تندی سے مکمل کرنا ہے تو یہ ٹیچر کو آگاہی دینا اس معاملے میں ایک لمبا طریقہ کا ر تھا ۔ کیونکہ میں اندر (جامعہ پنجاب) سے نہیں تھا مجھے اس کا علم بھی نہیں تھا کہ کیسے تحریک چلائی جائے مگر اس کو فوری طور پر بچانے کا یہی طریقہ تھا کہ اس کو سب کے سامنے لاؤں اور اپنی قربانی سے وہی میں نے کیا ۔

دی ایجوکیشنسٹ: جب استعفیٰ دیا تو کیا گورنمنٹ کی طرف سے کوئی ردعمل آیا یا انہوں نے روکا ہو کہ استعفیٰ نہ دیں؟ 
ڈاکٹر ظفر معین ناصر: نہیں اس طر ح کا کوئی فون نہیںآیا میں نے ویسے ہی فون بند کررکھے تھے ۔ دوسرا یہ صاف ظاہر ہے کہ گورنمنٹ کی دلچسپی اورنج ٹرین میں ہے اس لیے اس کے اوپر کوئی مفاہمت تو نہیں کرنا تھی۔ میرا خیال تھا کہ یہ ان کی بھی خواہش تھی کہ میں چھوڑ جاؤں کیوں کہ میں حکومت کی مرضی کے خلاف لگا ہوا تھا ۔ 

دی ایجو کیشنسٹ: جناب کیا اب آپکو پچھتاواتو نہیں ہے کہ یو نیورسٹی کے اتنے بڑے عہدے سے استعفیٰ دے دیا؟
ڈاکٹر ظفر معین ناصر: دیکھیں جب میں فیصلہ کر لیتا ہوں پھر پیچھے مڑکر نہیں دیکھتا میں آگے کی جانب بڑھنے والا بندہ ہوں ۔ میں سمجھتا ہوں میں جتنی دیر رہا ہوں میں نے اپناایک مثبت کردار ادا کیا ہے۔ میں یونیورسٹی کے اندر دو چیزیں لانے کی کوشش کررہا تھا ایک تو میں تعلیم وتحقیق میں بہتری لانے کی کوشش کررہا تھا اور دوسرا میں میرٹ کے ذریعے قانون کی عملداری کو یقینی بنانا چاہ رہاتھا میں سمجھتا ہوں کہ جو ہمارے ا قدم اورفیصلے ہیں ان کا آپ آزادانہ طور پر تجزیہ کرسکتے ہیں پھر ضرور اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ اس پالیسیز کو اس ملک کے لیے ہے اور جامعہ کے لیے بہترین پالیسیز قراد دیں گے ۔ میں آج بھی یہ کہتا ہوں کل بھی کہتا تھا کہ میں اس یونیورسٹی کے اندر اخلاقیات لایا ہوں۔ کسی کی عزت نفس پر انگلی نہیں اٹھائی ۔ کرپشن زیرو پر لایا ہوں ۔ میرٹ پر فیصلے کیے ہیں۔ 

دی ایجوکیشنسٹ : جناب اگر دوبارہ آفر ہوتی ہے تو آپ یہ عہدہ قبول کریں گے؟
ڈاکٹر ظفر معین ناصر: دیکھیں یہ تو ایک حق ہے میرا پاکستانی ہونے کے ناطے کیونکہ مجھ میں صلاحیت ہے قابلیت ہے میں اگر چنا جاتا ہوں تو ضرور اپنی خدمات پیش کروں گا۔ 

دی ایجوکیشنسٹ : سب سے بڑے تین مسائل کیا ہیں آپکی نظر میں؟
ڈاکٹر ظفر معین ناصر: دیکھیں جو مسائل جامعہ پنجاب میں سرفہرست ہیں وہ اساتذہ کی سیاست ہے ۔ میں جب آیا تھا تب یہ ہی کہا تھا کہ اگر اس یونیورسٹی کو راہ رست پہ لانا ہے تو اساتذہ کے اندر سے سیاست کو ختم کرنا ہوگا اس لیے کہ اگر اسا تذہ سیاست میں رہیں گے تو پڑھائی متاثر ہوگی بلیک میلنگ شروع ہوجائے گی پھر جو بھی پاور میں ہوگا وہ اپنا اثر ورسوخ استعمال کریگا ۔ 
دوسر ا بڑا مسئلہ جامعہ پنجاب کا یہ کہ اساتذہ کی ٹریننگ بہت ضروری ہے۔ سول سروسز اورفوج کی طرح ان کی ٹریننگ ہونا لازمی ہے۔ تاکہ انہیں کو پڑھانا بھی آئے ۔
تیسرا بڑا مسئلہ جامعہ پنجاب کے وسائل کی کمی ہے آپکا بجٹ خسارہ وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے اس پرایک جامع منصوبہ سازی کرنے کی ضرورت ہے ۔ وسائل بڑھانے کی طرف بہت زیادہ تو جہ دینا ہوگی تاکہ آپ بین الاقوامی اداروں سے فنڈ حاصل کرسکیں چوتھا مسئلہ یہ ہے کہ آپکو جامعہ پنجاب میں ہرکسی کو اس
کا منصفانہ حق دینا ہوگا ۔ملازمین میں بے چینی سی رہتی ہے پارٹی جوائن کے حوالے سے وہ ختم ہو ۔ اقربا پروری یا دوست نوازی سے پرہیز کرنا ہوگا مخالفین کو کھڈے لائن لگانے کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہیے گورننس کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ میں نے کتنے سالوں کے بعد سلیکشن بورڈ قائم کیا رکی ہوئی ترقیوں کو آگے بڑھایا سہولتی مراکز بنائے ہاسٹلز میں بائیومیڑک سسٹم لگایا لڑائی جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہم نے کاٹن کے بیج کو ترقی دینے کے لیے بہت تگ دو کی۔ یونیورسٹی کے امیج کو بہتر کرنے کے لیے جو قدم اٹھائے انہیں ویسے ہی چلنا چاہیے ۔ 
ہم نے تعلیمی معیار کو بہتر کرنے کے لیے تین شعبوں کے اندر پورٹل نظام رائج کیا اوروائس چانسلر ہی اس پر کوئی بہتر قدم اٹھاسکتے ہیں۔ 

دی ایجوکیشنسٹ : موجودہ وائس چانسلر کے لیے کوئی پیغام دینا چاہیں گے۔ 
ڈاکٹر ظفر معین ناصر: ان کے لیے یہی کہ تعلیم و تحقیق کی حکمت عملی کو آگے بڑھائیں ایسے قدم اٹھائیں۔ کہ جامعہ میں مطابقت پیدا ہو۔ میرا خیال ہے کہ ابھی تک جو حکمت عملیاں ان کی چل رہی ہیں وہ بہتری کی جانب گامزن ہیں انہیں جاری رہنا چاہیے۔

دی ایجوکیشنسٹ: مزاجاََ آپ کیسے شخص ہیں ؟
ڈاکٹر ظفر معین ناصر: (مسکراہٹ) میں بہت برداشت کرنے والا ٹھنڈے مزاج کا شخص ہوں الحمداللہ اور تعلیم انسان کو جھکنااور برداشت کرنا سکھاتی ہے میں نے اپنے ایک سال کے دورانیے میں بہت سے تند خواساتذہ کو برداشت کیا اور ان سے شفقت سے ہی پیش آیا۔ گرم مزاجی بہت سے مسائل پیدا کرتی ہے۔

دی ایجوکیشنسٹ : فرصت کے لمحات کیسے گزارتے ہیں؟ کچھ پڑھتے ہیں؟
ڈاکٹر ظفر معین ناصر: میں فارغ ہوتا ہی نہیں ہوں کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہوں ۔ موسیقی میں زیادہ کلاسیک اور صوفیانہ شاعری پڑھتا اور سنتاہوں ۔بابا بلھے شاہ بہت پسند ہیں۔ 

دی ایجوکیشنسٹ : کوئی شعر ہی سنائیں دیں؟ 
ڈاکٹر ظفر معین ناصر: مجھے ایک شعر بڑا ہی اچھا لگتا ہے کہ۔
نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نئی پایا
کیکر تے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا 
فطرتی طور پراگر انسان کمینہ ہوتو اس کے ساتھ جتنی مرضی آپ نیکی کرلیں اس سے آپکو فیض نہیں ملے گا ۔ اچھے لوگوں کی صحبت آپکو فائدہ ہی دے گی ۔ برے لوگوں کی صحبت آپکی شخصیت پر منفی طور پر اثرانداز ہوگی۔ 

دی ایجوکیشنسٹ: نوجوانوں کے لیے کوئی پیغام یعنی ہمارے لیے؟ 
ڈاکٹر ظفر معین ناصر: نوجوانوں کے لیے یہی پیغام کہ اپنے مقاصد پر نظر رکھیں ثابت قدم رہیں خوب پڑھیں ۔ مشکلات سے لڑنا سیکھیں ہمت نہ ہاریں ۔ محنت کو وطیرہ بنا لیں نیت صاف ہو بس پھر منزلیں آپکی غلام ہونگیں۔ 

    دی ایجوکیشنسٹ : جناب  پی ایچ ای سی کا عہدہ بھی اسی سال خالی ہورہاے ہیں کیا آپ اپلائی کریںگئے؟
ڈاکٹر ظفر معین ناصر: دیکھیں میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ پاکستان کے شہری ہونے کی حیثیت سے میرا حق ہے کہ میں درخواست جمع کرواؤں کیونکہ میں نے اتنی بڑی یونیورسٹی کوبڑے اچھے انداز سے چلایا ہے اور مجھ میں صلاحیت ہے کہ ان عہدوں پر بہتر کا م کرسکتا ہوں۔ 

دی ایجوکیشنسٹ : آپ نے یونیورسٹی کی رینکنگ کو بہتر کرنے اور ہاورڈ آف ایسٹ بنانے کی بات کی تھی اس کے لیے کیا اقدامات اٹھائے؟
ڈاکٹر ظفر معین ناصر: سب سے اہم چیز وہ یہ کہ جامعہ سے متعلق جو موجود ہ ڈیٹا ہے جسے آپ نے شیئر کرنا ہوتا ہے ریٹنگ ایجنسیز کے ساتھ جیسے QSوالے،ہم نے کبھی ان کو ڈیٹانہیں دیا تھا۔ میں نے جو معیا رکی بڑھوتری کا سیل ہے اس کی ذمہ داری لگائی کہ سارا مواد اکٹھا کریں اور اسے دنیا کے ساتھ شیئر کریں تاکہ دنیا کو پتا چلے کہ پنجاب یونیورسٹی یہ مقام رکھتی ہے۔ اس سے آپکو اپنی کمیاں بھی پتا چلتی ہیں ڈاکٹرسنیا صاحبہ کی ذمہ داری لگائی ان کی مصروفیت کی وجہ سے یہ ذمہ داری ڈاکٹر عثمان کوسو پنی وہ اس کے اوپر کام کروارہے تھے۔ 
ہم نے وسائل کو مناسب طور پر استعمال کیا پورٹل نظام متعارف کروایا ۔ اس سے شعبوں پر نظر رکھی جاسکتی تھی۔ ہم جامعہ پنجاب کی لیب کو مضبوط کرنے کیے اقدامات کیے ہم نے تھیسز کے معیار پر خاص توجہ دی۔ اس سے تحقیق کا معیار بہتر ہونا شروع ہوگیاتھا۔ 
انفراسٹر کچر کی ترقی پر کافی کام کیا کول ٹیکنالوجی کو خاص اہمیت دی۔
ایک ارب کے اس پروجیکٹ میں ہم اس کے نقشے کی ایک سے تین کروڑ کنسلٹینسی دے سکتے تھے۔ ہمارے چیف انجئنیر جن کو میں نے ہٹا یا انہوں نے اپنے کسی دوست نوازا ہم نے اس سے واپس لے کر ایک اور فرم کو دی اس نے ہم سے صرف انیس لاکھ چارج کیے اور HECنے اس کی توثیق کی مگر مجھ پر اس میں بھی کرپشن کی الزامات لگائے ۔ لیکن میں وہاں سے بھی سر خرو ہوا ۔
ہم نے ایک نیوز لیٹر بھی نکالا طلباء میں آگاہی کی مہم چلائی اس طر ح کے بے شمار اقدامات کیے جو جامعہ پنجاب کی رینکنگ بہتر بنا سکتے تھے۔ 

دی ایجوکیشنسٹ: جناب ایک آخری سوال کہ آپ نے میڈیکل کالج بنانے کی بات کی منصوبہ آگے بڑھا نہیں یہ بھی کہا گیا کہ آپ نے اجازت لیے بغیر شروع کیا ،سچائی کیا ہے؟ 
ڈاکٹر ظفر معین ناصر: دیکھیں یہ منصوبہ وزیراعلی کی توثیق سے ہی آگے بڑھا ۔ عمارت کا کہا گیا کہ وہ نہیں ہے ۔ لیکن آپکو پتا ہونا چاہیے کہ پنجاب یونیورسٹی ایک بہت بڑا نفراسٹرکچر رکھتی ہے ۔ عمارات کی تو کمی نہیں ہے۔ خاص طور پر یہ انڈر گریجویٹ بلاک میں شروع کیا جانا تھا ۔ ہمارا پلان یہ تھا کہ اسے پنجاب یونیورسٹی کا سب بہتر ین ادارہ بنانا تھا۔ وہ اس طرح کہ ہم ہیلتھ سٹی بنا رہے تھے۔ ہم مختلف بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بات چیت کررہے تھے کہ وہ ہماری مدد کریں گے نارو ے سویڈن کی ایک کمپنی نے کہا کہ ہم اسے بنا کے دیں گے ۔ جتنا بھی قرض ہے وہ آسان ترین شرائط سے واپس کرنا ۔ ہمارے پاس ڈونر (Doner)ایجنسیز بھی تھیں جو خاص ادارے میڈیکل سے متعلق ہوں بنا کے دے رہی تھی ہم کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے مشہور وائس چانسلر کی خدمات لیں ڈاکٹر اویس اس کے بارے میں سب جانتے تھے۔ گورنمنٹ اس کالج کے لیے ہمیں دو ہوسپٹل (میاں منشی ہوسپٹل اور نوازشریف ہوسپٹل ) دے رہی تھی۔ سب چیزیں کلئیر تھیں۔ اور ہم نے الائیڈ ہیلتھ کے جو داخلے کیے وہ کامیابی سے چل رہے ہیں۔ ہم نے اس سے اپنے وسائل بھی پیدا کریں گے۔ اگر یہ میڈیکل کالج والا منصوبہ چلتا رہا دیکھنا یہ تین چار سالوں میں اتنا اچھا میڈیکل کالج بن جائے گا۔ جو اپنی ضرورتیں خود ہی پوری کرلے گا اوراپنی مثال آپ ہوگا۔ 

دی ایجو کیشنسٹ : شکریہ جناب آپ نے ہمیں وقت دیا۔

ڈاکٹر ظفر معین ناصر: جناب دی ایجوکیشنسٹ اور ٓاپکا شکریہ۔

Print this entry

Comments

comments