پنجاب یونیورسٹی اورگورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے کنٹریکٹ ملازمین کا احتجاج جاری

 پنجاب یونیورسٹی اورگورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے کنٹریکٹ ملازمین کا احتجاج جاری
May 03 16:45 2018 Print This Article

چیف جسٹس آف پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ

رپورٹ۔انور شاہین
لاہور(جمعرات، 3مئی 2018ء ):پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے کنٹریکٹ ملازمین کے حوالے سے ایک خط کے نتیجہ میں پنجاب یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے نکالے جانے والے اساتذہ اور ملازمین شہر کے مختلف مقامات پر مظاہرے کر رہے ہیں ۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کا معاشی قتل نہ کیا جائے ۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے 26مارچ کو تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کو ایک خط لکھا تھا کہ کوئی بھی بھرتی بغیر اشہارات نہ کی جائے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایات پر عمل کیا جائے۔اس خط پر صرف پنجاب یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں عمل کیا گیا ہے۔پنجاب یونیورسٹی کے 105ملازمین جس میں 40اساتذہ شامل ہیں ،ملازمت سے فارغ کر دیئے گئے ہیں۔ جبکہ کل کنٹریکٹ ملازمین کی  تعداد 600ہے ۔ اسی طرح گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے 80ملازمین اس خط سے متاثر ہوں گے۔پنجاب یونیورسٹی پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے اکاؤنٹنٹ محمد طاہر شکور نے دی ایجوکیشنسٹ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے ملازمت کرتے ہوئے 7سال اور 3ماہ کا عرصہ بیت چکا ہے ، اچانک یہ فیصلہ آیا ہے کہ کنٹریکٹ ملازمین کی مدت میں توسیع نہیں کی جائے گی جو ہمارے معاشی قتل کے مترادف ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نوٹس لیں‘۔
پنجاب یونیورسٹی کے الیکٹریکل انجینئر فیضان رحمان نے کہا کہ ’یونیورسٹی سنڈیکٹ ممبران ان کی ملازمت کو بچانے کیلئے عملی کردار ادا کریں ۔ انہیں امید ہے کہ نئی وائس چانسلر ڈاکٹر ناصرہ جبیں اور گورنر پنجاب اور چانسلر پنجاب یونیورسٹی محمد رفیق رجوانہ اس نا انصافی کے خلاف ہدایات جاری کریں گے‘
پنجاب یونیورسٹی کے اسسٹنٹ اکاؤنٹ آفیسر محمد شاہد کا مطالبہ ہے کہ ان کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے جس میں ان کے اہل خانہ کے بارے میں بھی سوچا جائے جن کا مستقبل اس فیصلے سے متاثر ہورہا ہے۔مدت ملازمت میں توسیع نہ ہونے پر پنجاب یونیورسٹی کے کنٹریکٹ ملازمین نے مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔ جمعرات کو پریس کلب اور پنجاب اسمبلی ہال کے سامنے بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ اس کے بعد جمعہ کے دن فیصل آڈیٹوریم سے لیکر وائس چانسلر آفس تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔بعدازاں ریلی نے کیمپس پل کا رخ کیا اور گیٹ نمبر2 پر پنجاب پولیس کی بھاری نفری نے گیٹ بند کردیا اور مظاہرین کو باہر نہ جانے دیا۔
ہفتہ کے روز ملازمین نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے سامنے احتجاج کی جس پر چیف جسٹس آف پاکستان میاں محمد ثاقب نثار نے انہیں اپنی عدالت میں بلوا یا اور انہوں نے چیف سیکریٹری پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ۔
بدھ کے روز وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کے آفس کے باہر مظاہر ہ کیا جس پر وائس چانسلر ناصرہ جبیں نے انہیں بتایا کہ وہ چانسلر پنجاب یونیورسٹی /گورنر پنجاب سے ملاقات میں اس مسئلے پر بات کریں گی اور پوری کوشش کریں گی کہ کنٹریکٹ ملازمین بحال ہو سکیں۔
اب تمام ملازمین کی امید یں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی اور گورنر سے وابستہ ہیں کہ ان کی ملازمتوں کو بحال کرکے تنخواہیں جاری کرنے کے احکامات دیئے جائیں۔ تمام کنٹریکٹ ملازمین کی پر زور اپیل ہے کہ انہیں معاشی پریشانی سے نکالا جائے۔

Print this entry

Comments

comments

  Article "tagged" as:
  Categories: