تعلیم دنیا اور ہم

تعلیم دنیا اور ہم
May 02 11:13 2018 Print This Article

نایاب فاروق

دنیا سے اگر مقابلہ کرنا ہےتو صرف تعلیم سے ہی کرسکتے ہیں۔تعلیم حاصل کرنے کیلئے اللہ اور اس کے رسولﷺ نے بہت زیادہ زور دیا ہے۔اگر یہی سب اللہ کی رضا کی خاطر کریں تو برکت کے ساتھ ساتھ ترقی بھی حاصل ہوگی۔ تاریخ کے مشاہدہ سے یہ باات سامنے آتی ہے کہ ہمیشہ مسلمان اور تعلیم ساتھ ساتھ رہے ہین ان کو دیکھ کر یورپ اور افریقہ نے  تعلیم کے ساتھ وابستگی اختیار کی اور خوب ترقیاں سمیٹیں۔

وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر

ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر

کچھ تقدیر نے  ہمارے ساتھ ستم کئے تو کچھ ہم خود بھی اس قابل نہ تھے۔ جس خطہ میں رہ رہے ہیں یا تو غلامی نصیب ہوئی یا پھر اپنے حکمران عیاشی ، محلات ، رقص اور صوفیانہ زندگی سے باہر  نہیں نکل سکے۔

جب اللہ نے اپنا ملک اور  بادشاہت دی تو کوئی بھی ایک ایسا مرد مومن پیدا نہ ہوا جس کا نظریہ پاکستان کی تعلیم کو  دنیا کے مقابلہ میں لانا ہوا ہو۔

ارے پاگل نایاب!  تم دنیا کی بات کیا کرتے ہو یہاں پر تو ایک ادارہ بھی دنیا تو درکنا ر ، ایشیاء  کی بھی قابل قدر  100 ااداروں کی فہرست میں نہیں۔

المیہ یہ ہے کہ جس بندہ کے پاس جعلی ڈگری ہوتی ہے وہ وزیر تعلم ہوتا ہے۔ پھر کہتے ہیں :

کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیاء ہوتی ہے

اور ہاں ! یاد آیا سنا ہے عمران خان کو لوگ مسیحا مان رہے ہیں۔ ہاں بالکل ہوں گے لیکن وہ بھی جلسوں اور ریلیوں کی حد تک ہی تعلیم کی بات کرتے ہیں۔ لیکن آج تک انہوں نے قومی اسمبلی یا سینیٹ میں  تعلیم میں اصطلاحات لانے کی بات نہ کی اور کبھی بھی تعلیمی بجٹ میں اضافہ کی بات بھی نہ کی۔

اقدار کیلئے 142 دن کا تو دھرنا دے دیا لیکن تعلیم کے لئے ایک دن بھی واک آوٹ نہ کیا۔لیکن مجھے امید ہے کہ ہم دنیا سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اگر درج ذیل باتوں پر عمل کریں۔

  1. اپنا کلیریکل سٹاف مکمل طور پر آئی ٹی سپیشلسٹ اور اھل افراد پر مشتمل ہو ۔
  2. نرسری سے لے کر اعلی تعلیم تک ، چیک اینڈ بیلنس اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔

الغرض یہ کہ   جو تعلیم  لاہور کے گورنمنٹ کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں دی جاتی ہے وہی معیار تعلیم مظفرگڑھ ، کوئٹہ اور پشاور کے ہر ضلع میں دی جائے۔اور تعلیمی فیصلےOn the basis of Equality پر ہونے چاہئیں۔

انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب  تعلیمی سطح پر پاکستان کا شمار  دنیا کے   بہترین ممالک میں ہونے لگے گا۔کیونکہ  شجر سے پیوستہ رہ کر ہی امید بہار رکھی جاسکتی ہے۔

Print this entry

Comments

comments