مزدور کیا کبھی سکھ کا سانس لے سکےگا ؟

مزدور کیا کبھی سکھ کا سانس لے سکےگا ؟
May 01 13:21 2018 Print This Article

تحریر: ابوحمدان

آج پھر سے مزدوروں کا عالمی دن ہو گا۔آج پھر سے بڑے بڑے دعوے ہوں گے۔ آج پھر سے ہر کوئی مزدوروں کے حقوق کی بات کرے گا۔آج پھر سے افسروں کے بیان ریکارڈ کئے جائیں گے۔ اور آج پھر سےمزدور مزدور کے جلسے نکالے جائیں گے۔
سب کچھ ہوگا مگر نہیں ہوگا تو مزدوروں کا پرسان حال نہ ہوگا۔
آج سب کو چھٹی ہوگی مگر مزدور کیلئے نہیں بلکہ افسروں کیلئے۔مزدور حسب معمول اپنی دھاڑی کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھائے گا۔
یہ چھٹی جس کی پیشانی پر مزدور لکھ کر ہر جگہ آویزاں کیا جائے گا مگر اس کا فائدہ صرف کرسی والوں کو ہوگا۔
تازہ تازہ ایک یونیورسٹی کا سرکلر (نوٹیفیکیشن) نظر سے گزرا جس کے الفاظ ورطئہ حیرت میں مبتلا کردینےوالے تھے۔رجسٹرار صاحب کچھ یوں رقمطراز ہوئے:
“مزدوروں کے عالمی دن کے تناظر میں اس بات کا اعلان کیاجاتا ہےکہ مورخہ یکم مئی2018ء کو یونیورسٹی بند رہے گی ؛ البتہ تمام کارکنان پلمبر ، سکیورٹی گارڈز ، ڈرائیور، ٹیوب ویل آپریٹر اور ڈاکیے وغیرہ حسب معمول اپنی ڈیوٹی پر آئیں گے”
ستم ظریفی کی انتہا۔وائے حسرت وائے افسوس۔
بہتر ہواگر حکومتی سطح پر یہ رخصت یا تو مزدوروں کیلئے ہی رخصت ہو یا مکمل بند کردی جائے۔

Print this entry

Comments

comments