حلقہ ارباب ذوق کا پہلا تنقیدی اجلاس

حلقہ ارباب ذوق کا پہلا تنقیدی اجلاس
April 15 19:23 2018 Print This Article

حافظ محمد جنید رضا

مجھے اردو ادب سے خاص شغف ہے۔ ادب دوستی کا پہلا معلوم واقعہ میٹرک میں رونما ہواکب کمرہ جماعت میں بہادر شاہ ظفر کی غزل ایک بڑے چاٹ پر خوش خط لکھ  کر لگائی گئی۔ پرنسپل صاحب کمرہ جماعت کا معائنہ کرنے آئے تو کہا، بھئی یہ سب کیمسٹری، با ئیو لوجی اور فزکس کے چارٹ ہیں۔ ان میں یہ ایک غزل کون لایا ہے؟ جس  پر کسی نئی نسل کے بے باک لڑکے نے جھٹ سے راقم کا نام لیا۔انھوں نے بڑے متاثر کن  انداز سے بھنویں اٹھائیں اور رخصت ہوگئے۔ وہ اکثر مجھ سے والد صاحب کی خیریت دریافت کرتےاور بڑے فخر سے انہیں استاد محترم کے لفظ سے یاد کرتے۔

ان دو باتوں کی وساطت سے مجھے ہمیشہ لگتا جیسے صبح کی اسمبلی میں وہ مجھ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسمبلی میں تلاوت کرنی ہو یا نعت رسولﷺ پڑھنی ہو یا کوئی اور شعر پڑھنا ہو، مجھے لگتا کہ انھو ں نے بغور سنا۔ اس دن کے بعد تو بہادر شاہ ظفر کی غزل کے کچھ شعر یاد کئے۔ سوچا کبھی پوچھ ہی نہ لیں کہ بر خودار غزل تو لکھوا کر کمرہ جماعت میں لگادی اس کا کوئی شعر ہی سنادو تو اکثر یاد کرنے کی غرض سے دوستو ں کے درمیان دوہراتا رہتا،

عمر دراز مانگ کر لائے تھے چار دن

دو آرذو میں کٹ گئے دو انتظار میں

                                            بہادر شا ہ ظفر

شہر لاہور کی ادبی سرگرمیوں کا ایسا حصہ بنا کہ ایک دن ڈاکٹر ناصر عباس نئیر صاحب کہنے لگے کہ جنید ” آپ لاہور کے ادبی مئیر ہو”۔ آپ شہر لاہور کی ادبی کرگرمی کا حصہ بنتے ہو۔ استاد محترم نے جب سے کہ کہا ہے اب رفتہ رفتہ مجھے اپنی ذمہ داری محسوس ہونے لگی ہے۔ کچھ روز قبل نو منتخب سیکرٹری حلقہ ارباب ذوق عقیل اختر صاحب نے مجھے واٹس ایپ پیغام کے ذریعے اس مہینے کے ادبی اجلاسو ں کی تفصیلات سے  آگاہ کیا اور ساتھ اسے فیس بک پر لگا دیا۔ مجھے یقین تھا کہ ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب  ہر دل عزیز شخصیت ہیں ۔ اور ان کے چاہنے والے اس اجلاس میں ایسے لپکیں گے جیسے روزہ دار وقت افطار پانی کی جانب لپکتے ہیں۔ اس کے ساتھ غزل ڈاکٹر ضیاء الحسن صاحبکی، افسانہ نیلم احمد بشیر صاحب کا  اور نظم ایوب خاور صاحب کی۔ ایسا جاندار اور شاندار اجلاس ترتیب دیا۔ جس کا انتظار ہفتے کی شام سے ہونے  لگا تھا۔ دل میں خیا آیا کہ قدرت مہربان ہوگئی۔

گزشتہ اتوار ماموں حکیم محمد علی صاحب کے بیٹوں گوہر عزیز  اور بختاور عزیز کا دعوت ولیمہ کھایا۔ باقی کی قدسیہ عزیز کی شادی کے لئے بچالیا۔ اس تقریب میں خاص پنجابی تہذیب و ثقافت کے نظارے کئے۔ بہترین ڈی جے سے گانے سنے اور خاڈ پنجابی  زرق برق لباسوں میں ملبوس مردو خواتین نے اپنے خاص مزاج اپنایا۔ اس کے ساتھ نہایت عمدہ بریانی بنی اور قورمے  کے مزے لیے اور میٹھے میں بھی قلفہ تو کبھی مٹی کے ٹھٹھیوں میں ٹھنڈی کھیر کھائی۔ ابھی اس اتوار کی مہربانیوں پر سر سجدہ شکر بجا رہا تھاکہ اس اتوار ایسی شاعری اور غزل سننے کو ملے گی۔  جس میں نظم قورمےکی مانند ہوگی، افسانہ بریانی کی  مانند ہوگا اور غزل قلفے کی مانند ہوگا ۔یاد آرہا ہے کہ دوست قلفے کو دستر خوان سردار کہتے  ہیں ۔ خیر دن بھر نصابی معاملات میں گزارے پی ایچ ڈی سے متعلقہ مواد پڑھا،  اس پر کچھ لکھا اور شام ہوتے ہی تیار ہوا اور انار کلی سے ہوتا ہوا پاک ٹی ہاؤس جا پہنچا،  ویا حلقہ ارباب ذوق  کا اجلاس اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی دو ر حاضر کے  مشہور شاعر جناب صابر ظفر صاحب سے سلام دعا ہوئی اور اجلاس میں پہنچنے پر نیلم احمد  بشیر کا افسانہ سننے کو ملا۔ اس پر گفتگو کرتے ہوئی ڈاکٹر امجد طفیل کا کہنا تھا کہ انھیں افسانہ مجموعی طور پر کمزور لگا ، فرح رضوی نے افسانے کے موضوع کو پسند کیا  اور عبدالوحید نے کہا چونکہ افسانہ باہر کے ماحول پر مبنی ہے اور یہ فضا ہم میں سے کم لوگوں  نے دیکھی ہے۔ اس لئے یہ اندازہ نہیں کگایا جاسکتا کہ افسانہ نگار نے اس ماحول کو بیان کرتے ہوئے کتنا انصاف برتا۔ یہا ں ڈاکٹر سعادت سعید، ڈاکٹڑ خالد محمود د سنجرانی، ڈاکٹر ناصر  عباس نئیر اور ڈاکٹڑ صائمہ ارم کا خیال ضرور آیا۔ یہ سب اردو افسانے کو بہت کمجھنے والے نقاد ہیں۔ ڈاکٹر ضیاءالحسن صاحب اپنی غزل پڑ ھ چکے تھے۔

ایک دوست نے اس کی ایک نقل مجھے دکھائی۔ ان کی غزل پڑھی تو بہت لطف آیا اور بہ قول ڈاکٹر فرقان سب دوستوں نے غزل کو پسند کیاتھا آخر پر ایوب خاور نے اپنی نظم پڑھی، اس کے ختم ہونے ہر آغا سلمان باقر نے مجھے ہلکی آواز میں کہا کہ ایوب خاور اتنا سینئیر اور کہنہ مشق شاعر ہے لیکن اس نظم کی بنت کاری نہیں ہوسکی ۔ جب نظم کو خود ایک بار پڑھا تو ان کی صداقت کی گواہی دی۔ اس کا عنوان “بری عورت” تھا۔ اس کا موضوع تو درست تھا لیکن شاعر اس کو تخلیقی تجربہ نہیں بنا سکا۔ ابھی آپس میں یہ گفتگوں ہو ہی رہی تھی کہ علی  اسغر عباس کہنے لگے، اس نظم کی بنت کاری نہیں ہوسکی۔ عطیہ سید نے کہا کہ جس ایوب خاور سے ملنے آئی تھی، اس سے ملاقات نہیں ہوسکی، حسین مجروح نے کہا کہ نظم کو تخلیقی تجربہ نہیں بناسکے اور اس کے ساتھ دیگر  چند دوستوں نے اظہار خیال کیا جسے شامل کرنا کرنا کچھ ایسا ضروری نہیں۔ آخر پر جناب ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب نے گفتگوں سمیٹی اور کہنے لگے کہ حلقہ ارباب ذوق کا حسن یہ کہ یہا ں کوئی بھی بات کہی جاسکتی ہے اور کچھ لوگو ں نے یہ کام آج بھی کیا ہے۔

اس خوب صورت جملے ہر سب لوگ مسکرانے لگے۔انھوں نے ہونے والی تمام گفتگوں کو سراہا۔ اس کے بعد کہنے کہ ایک مرتبہ ایک گرو کے پاس ایک شاگرد آیا اور کہنے لگا سے ایک گر آگیا ہے جس سے وہ غائب ہو جائے گا۔ گرونے کہا کہ غائب ہوکر دکھاؤ ۔ وہ غائب ہوااور ایک منڈک کی شکل میں  آگیا۔ اس کے گرو نے اسے پہچان لیا اور کہا اب کی بار غائب ہوگا تو اسے ڈھونڈ کر دکھائے۔ جب وہ غائب ہوا تو اس کا شاگرد کہنے لگا کہ آپ کو بہت تلاش کیا لیکن آپ کہیں نہ ملے آپ کہا غائب تھے؟ اس کے گرو نے جواب دیاکہ وہ جل میں جل ہوگیا تھا۔ یہاں کی تین تحریرو ں میں پہلی دو تو اسی مہارت کی مظہر دکھائی دیں۔ اس کے بعد اردو غزل کے منائندہ  شاعر جناب صابر ظفر سے ان کی غزلیات سنی گئیں جنہیں دل کھول کر داد دی گئی۔ اختتام پرجناب سیکرٹری حلقہ ارباب ذوق عقیل اختر نے اعلان کیا کہ آئندہ اتوار ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا  صاحب کی صدارت ہوگی۔ اس میں احباب ضرور شرکت کریں۔ صاحبو! اعتدال میں رہتے ہوئے ہی کا م کرنا بہتر ہے۔ آج اتنے آرام سے یہ دن گزرا اور کتنے چاعروں ادیبوں سےکتنا کچھ سیکھنے کو ملا۔ آئیں اور اس مضمون میں اپنے حصے کی گفتگوسے مستفید ہوں۔

Print this entry

Comments

comments