صوبائی ایچ ای سی جلدقائم کردیاجائے گا:وزیراعلیٰ پرویزخٹک

صوبائی ایچ ای سی جلدقائم کردیاجائے گا:وزیراعلیٰ پرویزخٹک
March 31 19:40 2018 Print This Article

لاہور(علی ارشدسے)
پنجاب اورسندھ کی پیروی کرتے ہوئے صوبہ خیبرپختونخواہ نے بھی صوبائی ایچ ای سی کے قیام پرکام شروع کردیا۔ صوبے کے وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے دی ایجوکیشنسٹ کے نمائندے سے خصوصی گفتگوکرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کی حتمی منظوری کے بعدصوبائی ہائیرایجوکیشن کمیشن خیبرپختونخواہ کے قیام کاباقاعدہ اعلان کیاجائے گا۔اس حوالے سے ابتدائی مشاورت کاعمل شروع کردیاگیاہے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے خیبرپختونخواہ اوربلوچستان کی طرف سے صوبائی ایچ ای سی کے قیام کوسختی سے مستردکرتے ہوئے وفاقی ایچ ای سی کے ساتھ یکجہتی کامظاہرہ کیاجاتارہاہے۔چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نے بھی بارہاصوبائی ایچ ای سی کی مخالفت کی ہے۔پہلی دفعہ صوبائی ایچ ای سی کے قیام کااعلان ہائیرایجوکیشن کے وزیرمشتاق غنی نے کیاتھالیکن پارٹی سے کسی نے اس کی تردیدنہیں کی تھی۔اب وزیراعلیٰ نے اس بات کی تصدیق کردی ہے۔
پنجاب اورسندھ میں صوبائی ایچ ای سی پہلے سے قائم ہیں جن کے خلاف سابق چئیرمین ایچ ای سی ڈاکٹرعطاالرحمن نے سپریم کورٹ میں درخواست دائرکی ہوئی ہے جسے مشترکہ مفادات کونسل کی ایک کمیٹی کے سپردکیاگیاہے۔حال ہی میں کمیٹی نے اپنی سفارشات میں اختیارات کی تقسیم کی حمایت کی ہے تاہم اس حوالے سے ابھی باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔پاکستان کے اکثروائس چانسلرز،پروفیسراوردانشوروں کاکہناہے کہ آٹھارویں آئینی ترمیم میں تعلیم کوصوبوں کے حوالے کرنے سے متعلق کوئی بات نہیں اس کی تشریح مشترکہ مفادات کونسل نے نہیں بلکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کرناہے۔اس ترمیم کی غلط تشریح کرتے ہوئے تعلیم کے ذریعے صوبائیت کے فروغ کے خدشات لاحق ہیں جس سے وفاق کمزورہوگا۔
اس ضمن میں ڈاکٹرمجاہدکامران،ڈاکٹرجمیل انور،سینٹرایس ایم ظفراورڈاکٹرمجاہدمنصوری نے دی ایجوکیشنسٹ کوبتایاکہ اعلیٰ تعلیم کوصوبوں کے حوالے کرنے سے نصاب صوبائی سطح پرتبدیل کردیاجائے گا جس سے ہمارے قومی ہیرو،روایات ،اقداراورثقافت کے متعلقہ سنجیدہ نوعیت کے مسائل پیداہوں گے۔اس سے بین الصوبائی ملازمتوں اورڈگریوں کی تصدیق سمیت اہم مسائل بھی پیداہوں گے۔

Print this entry

Comments

comments