جوتوں کا شکار؛ عوام اور حکمران

جوتوں کا شکار؛ عوام اور حکمران
March 17 01:48 2018 Print This Article

(تحریر: سونیا اکمل قریشی)

جوتا عام طور پر پہننے کے کام آتا ہے مگر حال ہی میں دیکھنے میں آیا کے اسے مارنے کے کام میں بھی لایا گیا ہے۔

جی ہاں آپ سہی سمجھے میں یہاں سیاست دانوں کو پڑنے والے جوتے کی بات ہی کر رہی ہوں۔ اخلاقی طور پر دیکھا جائے تو یہ عمل غلط تھا۔مگر یہ جوتا اجتمائی طور پر اس قوم نے مارا ہے جو کئی سالوں سے ان سیاست دانوں سے جوتے کھا رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کے سیاست دانوں کو مارے جانے والے جوتے پر مزاحمت کی جاتی ہے اور عوام کو مارے جانے والے ‘جوتوں’ پر 60 سال سے کوئی مزاحمتی بیاں سامنے نہیں آیا جبکہ عوام کو یہ جوتے کبھی ناانصافی کی شکل میں تو کبھی مہنگائی کی شکل میں مارے گئے ہیں۔

 سیاہی کا ذکر تو میں بھول ہی گئ تو جناب والا یہ وہ کالک ہے جو ایک با وقار اور باعزت قوم کے دامن  پر لگائی گئ جب قوم کی بیٹی کو رسوا ہونے کے لئے اسے بیرون ملک چھوڑ دیا گیا۔ اوراس کی رہائی کے لیے رتی بھر بھی کوشش نہ کی گئ. اس کے علاوہ بہت سے واقعات کالک میں شمار ہوتے ہیں۔

بہرحال اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اب سیاسی لائحہ عمل کیا ہو گا! کیا جوتے کھانے کے بعد سیاست دانوں کو عوام کو مارے جانے والے جوتوں کی ذلت محسوس ہو گی ؟ یا عقل مندی اور احتیاطی تدابیر کا  مظاہرہ کرتے ہوئے مفاہمتی طور پر سیاست دان سیاہی اور جوتوں کے استعمال پر پابندی عائد کردیں گے۔

Print this entry

Comments

comments