معاشرہ میں خواتین کے کردار پر 2 روزہ کانفرنس کا اختتام

معاشرہ میں خواتین کے کردار پر 2 روزہ کانفرنس کا اختتام
March 02 23:46 2018 Print This Article

-’’م-معاشرے میں خواتین کی ساکھ کو برقرار رکھنے، میڈیا کے کردار اور عالمی تناظر‘‘ کے موضوع پر کانفرنس کا اختتام

تحریر: ابوحمدانؔ
لاہور:2مارچ2018ء؛ پنجاب یونیورسٹی کے ادارہ علوم ابلاغیات کے زیر اہتمام منعقدہ وومین کانفرنس کل اختتام پذیر ہوئی۔ یہ 2 روزہ کانفرنس پنجاب یونیورسٹی کےIAS ڈپارٹمنٹ میں منعقد ہوئی۔کانفرنس میں ملک بھر سے نامور شخصیات نے شرکت کی اور اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی ناروے کے سفیر تورے ندریبو تھے جنہوں نے کانفرنس کے انعقاد کی کاوش کو سراہتے ہوئے اپنے تأثرات میں اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ ناروے کے ادارے آئندہ بھی اس طرح کے کاموں میں شانہ بشانہ ساتھ کھڑے ہوں گے۔

کانفرنس میں شریک مہمانان نے اپنے اپنے تحقیقی پرچے بھی پڑھ کر سنائے جن میں عورتوں کی معاشرہ میں اہمیت اجاگر کرنے اور ان کیلئے آسانیاں پیدا کرنے سے متعلق امور پر خاطر خواہ بحث ہوئی۔انہیں موضوعات میں سے ایک موضوع عورتوں کے بحیثیت آئیٹم گرل کردار کا تنقیدی جائزہ لینا تھا۔ جس پر مختلف مقرروں نے کافی روشنی ڈالی۔
تحریم ناصر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کہ میڈیا میں عورتوں کو جنسی طور پر زیادہ نمایا کیا جاتا ہے اور اس کی سب سے زیادہ ذمہ دار خود خواتین ہی ہیں جو اپنےآپ کی خود نمائی کر رہی ہوتی ہیں اپنے جسم کی نمائش کر کے وہ مردوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانا چاہتی ہیں۔اس کی سب بڑی وجہ احساس کمتری ہے۔ جو خواتین کو عموما ایک دوسرے کو دیکھ کر ہونے لگتا ہے۔ کہیں جسامت کی وجہ سے تو کہیں خوبصورتی کی وجہ سے۔الغرض ایک بھیڑ چال کے طور پر ایک دوسرے کی نقل کرنا اولین فریضہ گرداننے والی خواتین درحقیقت ایک ہیجان کا شکار ہوجاتی ہیں جو بعد ازاں بے بہا مسائل کا باعث بنتا ہے۔
لبنی خلیل نے اس بارےمیں کہاکہ آئیٹم گانوں کےذریعہ اب معاشرہ میں عورت کاانتہائی منفی روپ اجاگرکیاجارہاہے۔ بالی ووڈمیں اس طرح کےگانوں نےکافی شہرت پائی ہے اور اب تو ہمارے ملک میں بھی اسی ڈگر پر چلتے ہوئے فلم سازی کی جارہی ہے جو ایک انتہائی خطرناک پہلو ہے۔ میڈیا میں عورت کو جنسی شہ کے طور پر اجاگر کیا جارہا ہے جو دراصل ہماری نسلوں کیلئے انتہائی مضر ثابت ہورہا ہے۔الغرض خواتین ان سب کاموں کی خود بھی برابر کی ذمہ دارہے ، جہاں فلم بنانے والا طبقہ ایسی سوچ کو ترویج دیتا نظر آتا ہے وہیں خواتین خودبھی اپنےجسم کی نمائش کرنےمیں فخرمحسوس کرنےلگ گئی ہیں۔

مارننگ شوز کےحوالہ سےایک جائزہ پیش کرتےہوئےعائشہ اشبیلہ نےاس بات کابرملا اظہارکیا کہ ہمارےمیڈیا میں عورت کی کردارسازی اور معاشرہ میں
کا تشخص برقرا رکھنے کیلئے جو عامل سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہورہا ہےوہ ہےمارننگ شو۔یہ شوز جہاں صحت کےبارےمیں آگاہی فراہم کرتےدکھائی دیتے ہیں تو وہیں اکثر اوقات چیدہ چیدہ گھریلو مسائل پر بھی روشنی ڈالتے نظر آتے ہیں ۔
میڈیا میں عورت کے مقام پر سعدیہ عجبیہ نے روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ میڈیا میں عورت محض ایک ٹکٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور میڈیا میں اسے صرف جنسی طور پر رونما کیا جاتا ہے۔خوبصورتی کو ہر ایک فیلڈ میں اکل کل کی اہمیت حاصل ہے۔اسی طرح مختلف ایوارڈ شوز کی بابت تبصرہ میں موصوفہ نے بتایا کہ یہ ایوارڈ شوز بھی اپنے اندر حقیقت کم اور گلیمر زیادہ رکھتے ہیں۔

2 روزہ اس کانفرنس کے اختتام پر تمام مقررین میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ اور نیک تمناؤں کے ساتھ اس کانفرنس کو الوداع کیا گیا۔

Print this entry

Comments

comments