علم ایک لازوال دولت

February 21 00:13 2018 Print This Article

۱ علم ایک لازوال دولت
تحریر :محسن لطیف

علم ایک ایسی لازوال دولت ہے جو کسی روپے پیسے کی محتاج نہیں۔دنیاوی دولت تو خرچ کرنے سے گھٹتی ہے جبکہ علم ایسی بیش قیمت دولت ہے جو خرچ کرنے سے مزید بڑھتی ہے۔ ایک ایسی دولت جس کو نہ تو کو چھین سکتا ہے اور نہ ہی کوئی چوری کر سکتا ہے۔
دنیاوی دولت سے انسان کو وہ سکون و اطمینان نہیں مل سکتا جو علم کی دولت سے حاصل ہوتا ہے۔ لہذا! نتیجہ یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دنیاوی دولت سے علم کی دولت زیادہ عظیم اور بہتر ہے۔

یہ علم کے ذریعے ہی ممکن ہوا کہ انسان نے رفتہ رفتہ کائنات کے ایسے رازوں کو بھی جان لیا جس کا اس سے پیشتر گمان بھی نہ کیا جاسکتا تھا اور جو پہلےانسانی دسترس میں ناممکن سےتھے۔ مگر علم کے زریعے ہی انسان ان بھیدوں کا علم ہوا۔
اسی طرح انسان کو یہ معلوم ہوا کہ اس کی وجہ تخلیق کیا ہے؟علم کی ہی وجہ سے جہالت کے اندھیرے دور ہوۓ اور انسان کے دل و دماغ کی خوابیدہ صلاحیتں بیدار ہوئیں۔ علم کی ہی روشنی کی وجہ سے انسان نے خیروشر میں فرق کرنا سیکھا اور اپنی ذندگی میں بہترین اور مثبت تبدیلیاں لے کر آیا۔

چنانچہ علم کی اہمیت کا انداہ اس بات سےبھی لگایا جا سکتا ہے کہ کلام پاک میں اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے کبھی برابر نہیں ہو سکتے، یعنی عالم اور جاہل میں ایک واضح فرق کر دیا۔ اس کے علاوہ احادیث میں بھی اس کی فضیلت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ علم کی دولت کو حاصل کرنا ہر مرد و عورت پر فرض ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلعم نے فرمایا کہ علم مومن کی گمشدہ میراث ہے ، جہاں سے میسر ہو لے لے۔
گویا علم کی روشنی کی وجہ ہی سے انسان کا اپنے رب سے رابطہ بہتر اور اعلی ہوتا ہے۔
علم کے ذریعے ہی انسان کا نام ہمیشہ روشن رہتا ہے اور اس کی ہی وجہ سے انسان عروج پر پہنچتا ہے۔ یہ ایک عظیم دولت ہے جو محنت اور کوشش کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ اگر زمانہ ماضی کو دیکھیں اور آج کے دور میں ہونے والی ترقیات کا جائزہ لیں تو صرف اور صرف علم کی دولت ہی وجہ معلوم ہوتی ہے۔ یہ وہ لازوال دولت ہے جو ہماری حفاظت کرتی ہے اور معاشرتی و سماجی ترقی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اور انسان کو باقی حیوانات سے ممتاز کرتی ہے۔

(تحریر : محسن لطیف)

Print this entry

Comments

comments