دیہی نظام تعلیم ؛ہمارےمعاشرہ کا ایک المیہ

دیہی نظام تعلیم ؛ہمارےمعاشرہ کا ایک المیہ
February 20 07:25 2018 Print This Article

ددیہی نظام تعلیم ایک المیہ
(ابو حمدان)

پاکستان ایک ایسی دنیا میں شمار ہوتا ہے جہاں تعلیم کو علم کے حصول کی بجائے پیسہ دولت اور معاشرہ میں پذیرائی کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔
جہاں یہ رویہ عوام الناس کا دکھائی دیتا ہے وہیں حکومت بھی نظام تعلیم کےانہدام میں اپنا حصہ ڈالنے میں پیش پیش دکھائی دیتی ہے۔
چنانچہ کسی بھی دیہی سکول کا ذرا ہلکا سا بھی مشاہدہ کریں تو ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ اجاگر ہوئے گا۔

جہاں اول تو کوئی جاگیرادار ، گاوں کا وڈیرا اپنے علاقہ میں سکول کالج کے قیام کی از بس مخالفت کرتا دکھائی دیتا ہے کہ کہیں اس کی روزی روٹی اس کے مزارع اس کے مزدوروں میں شعور نام کی شمع نہ روشن ہوسکے تو دوسری طرف اگر سکول کھل بھی جائیں تو حکومتی تعاون اور طریق تعلیم اس جلتی پر آخری تیلی کا کام دینے لگتا ہے۔
ماسٹرکا ذاتی کام کاج کرنا جہاں ہر طالب علم کیلئے پڑھائی سے زیادہ اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے تو وہیں استاد کیلئے بھی سکول ایک شغل اور محض وقت گزاری زیادہ بن گیا ہے۔

ایک طالب علم سے سکول دیر جانے کی بابت دریافت کرنے پر موصوف کا جواب انتہائی دہکا دینےوالا تھا “میں صبح 8 بجے کی بجائے 9 بجے سکول جاتا ہوں اور پھر آدھی چھٹی میں واپس بھی آجاتا ہوں کیونکہ میں استاد جی کے کافی کام کرتا ہوں۔موٹر سائیکل بھی دے دیتا ہوں اس لئے مجھے کچھ نہیں کہتے”
جہاں یہ نظام تعلیم ہوگا جہاں یہ طریق استاد وتلمیذ کے مابین روارکھا جاوے گا وہاں پڑھائی اور علم ندارد ہی ہوگا۔(تحریر- ابو حمدان)

Print this entry

Comments

comments