پنجاب یونیورسٹی واقعہ سوچی سمجھی سازش ہے، واقعے میں ملوث طلباء کے خلاف بلاتفریق کارروائی کریں گے، ڈاکٹر ذکریا ذاکر

پنجاب یونیورسٹی واقعہ سوچی سمجھی سازش ہے، واقعے میں ملوث طلباء کے خلاف بلاتفریق کارروائی کریں گے، ڈاکٹر ذکریا ذاکر
January 23 01:59 2018 Print This Article

لاہور (علی ارشدسے) پنجاب کی سب سے بڑی اور حکومت پنجاب کی ناک تلے وا قعہ جا معہ پنجاب ایک بار پھر دو طلبہ گرپوں کے تصادم کے باعث پورا دن میدان جنگ بنی رہی ۔ گذشتہ سال 21 مارچ کو ایک طلبہ گروپ کے ثقافتی پروگرام پر دوسرے فریق کی جانب سے دھاوا بول کر شدید توڑ پھوڑ اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے سبب بیشتر طلبہ زخمی اور املاک کو نقصان پہنچا۔ پرتشدد وا قعات کے رونما ہونے کے بعدیونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تمام قانونی کاروائیاں ختم کر کے معاملا ت حل کر لیے گئےتھے ۔اسلامی جمعیت طلبہ کی طلبہ کی جانب سے انتظامیہ کی اجازت کے بعد شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کی گرا ونڈ میں سالانہ پا ئنیر فیسٹول کی تقریبات کے آغازسے قبل ہی دوسرے فریق کی جانب سے صبح ہونے سے پہلے 4:45 منٹ پر شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کے ایک کمرے کو آگ لگا دی گئی اور فیسٹول کے تمام انتظامات کو اکھاڑدیا جس کے نتیجے میں دونوں طلبہ گرپوں کے مابین تصادم کے نتیجے میں دس طلبہ زخمی ہو گئے۔ تصادم کے با عث یونیورسٹی کے تمام داخلی و خارجی رستے پر قسم کی آمد ورفت کے لیے بند کر دیے گئے۔ صورتحال کی سنگینی کا جا ئزہ لیتے ہو ئے سی سی پی او امین وینس، ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف سمیت اعلی پو لیس افسران اور بھاری نفری نے یونیورسٹی کا چارج سنبھالتے ہو ئے ما حول کو پرامن بنا نے میں کردار ادا کیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور سکیورٹی گارڈز کی جانب سے کسی بھی قسم کی مزاحمت کا مقابلہ نہیں کیا گیا جس سے جا معہ کی سکیورٹی پر سوالیہ نشان بھی اٹھتا ہے۔ میڈیا سے بات کر تے ہو ئے وا ئس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر زکریا ذاکر کا کہنا تھا کہ وا قعہ سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے۔ یونیورسٹی کو بدنام کرنے کے لیے رات کی تاریکی کا فا ئدہ اٹھایا گیا۔ متاثرہ شعبہ الیکٹریکل انجئینرنگ کی تمام کلاسوں کو کیمیکل انجئینرنگ میں منتقل کر کے جاری رکھا گیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ تصادم میں ملوثعناصر کے خلاف بلا امتیاز کاروائی عمل مین لائے گی جس کی با قاعدہ ایف آئی آر بھی درج کروادی گئ ہیں۔اس سلسلے میں تین ایف آئی آرزدرج کروائی گئی ہیں۔

صوبا ئی وزیر برائے اعلی تعلیم سید رضاعلی گیلانی کی نے یونیورسٹی میں تین گھنٹے طویل اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ آج کا وا قعہ انہتائی افسوسناک ہے۔ کسی کو ادارے کے اند ر ادارہ قا ئم نہیں کر نے دیں گے۔ تصادم کے ذمہ دار دونوں دونوں فریقین ہیں اور کا روائی بلا تفریق کی جا ئے گی۔ رضا علی گیلانی نے مزید کہا کہ یونیورسٹی ہو سٹل میں غیر قانونی افراد کے خلاف بھی آپریشن جاری کیا جا رہا ہے۔ تصادم میں طلبہ کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کے خلاف بھی کاروائی کی جا ئے گی۔

طلبہ گروپوں کے درمیان آئے روز تصادم کے حوالے سے بات کر تے ہو ئے طلبہ و طالبات نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایسے افراد کے خلاف مکمل آپر یشن کر کے یونیورسٹی کے تعلیمی ما حول کو پر امن بنا ئے۔ طلبہ گر وپوں کی بد معاشی کے با عث یونیورسٹی میں خوف کی فضاء ہر وقت قا ئم رہتی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان نے اپنے بیان کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس حکام طلباء تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ صبح ۴ بجے گفت و شنید کے ساتھ معاملات طے کرتے رہے تاہم 4:45 پر شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ میں دونوں طلباء گروپوں کے دوران لڑائی ہوئی۔ ترجمان کے مطابق شر پسند عناصر نے تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شعبے کے داخلی کمرے میں آگ لگائی جس سے کمرے میں موجود فرنیچر کو نقصان پہنچا تاہم آگ پر فوری طور پر قابو پا لیا گیا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر ذکریا زاکر صبح پانچ بجے دوبارہ شعبہ میں پہنچے اور خود معاملہ کی نگرانی کر کے طلباء کو منتشر کیا۔ بعد ازاں ایک شعبہ میں طلباء کے مابین جھگڑے کی اطلاع پا کر بھی وائس چانسلر فوراََ موقع پر پہنچے اور حالات کو کنٹرول کیا۔

ترجمان کے مطابق صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن سید رضا علی گیلانی نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ واقعے میں جو بھی ملوث ہے خواہ اس کا تعلق کسی بھی گروپ سے ہو ان کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا سد باب کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی ٹیم رات گئے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ذرائع سے ملنے والے شواہد کا جائزہ لے کر واقعے میں ملوث افراد کی شناخت کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ شناخت کا عمل مکمل ہوتے ہی طلباء و کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ 

Print this entry

Comments

comments

  Article "tagged" as:
  Categories: