پنجاب یونیورسٹی اور محکمہ جیل خانہ جات پنجاب قیدیوں کو ذمہ دار شہری بنانے کیلئے باہم ملکر کام کریں گے

پنجاب یونیورسٹی اور محکمہ جیل خانہ جات پنجاب قیدیوں کو ذمہ دار شہری بنانے کیلئے باہم ملکر کام کریں گے
January 19 12:50 2018 Print This Article

قیدیوں کی اصلاح کیلئے جیلوں میں خصوصی لیکچرز کا اہتمام کیا جائے گا
لاہور( سٹاف رپورٹ):پنجاب یونیورسٹی اور محکمہ جیل خانہ جات پنجاب قیدیوں کو ذمہ دار شہری بنانے کیلئے باہم ملکر کام کریں گے، قیدیوں کے اصلاح کیلئے جیلوں میں خصوصی لیکچرز کا اہتمام کیا جائے گا۔ یہ اتفاق رائے پنجاب کے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات مرزا شاہد سلیم بیگ اور پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ذکریا کے درمیان یہاں ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔

اس مقصد کیلئے محکمہ جیل خانہ جات پنجاب یونیورسٹی کے تعاون سے قیدیوں کیلئے کئی پروگرام وضع کرے گا اوریونیورسٹی کے اساتذہ اور سکالرز ان کیلئے تربیتی پروگرام شروع کریں گے، قیدیوں کی جدید سائنسی خطوط پر اخلاقی تربیت کی جائے گی تاکہ قیدی جیلوں سے رہائی کے بعد کارآمد شہری بن سکیں۔ انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات نے کہا کہ سیکالوجی، ایپلائیڈ سیکالوجی، سوشل ورک اور سیکالوجی ڈیپارٹمنٹ کے فیکلٹی ممبران، پی ایچ ڈی اور ایم فل کے ریسرچ سکالر قیدیوں کی جدید انداز میں اخلاقی تربیت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ جیل خانہ جات یونیورسٹی اساتذہ اور فیکلٹی ممبران کا پنجاب کی مختلف جیلوں میں خیرمقدم کرے گا اور اس مقصد کیلئے فیکلٹی ممبران سے کوآرڈینیشن کیلئے فوکل پرسن مقرر کیا جائے گا۔ مرزا شاہد سلیم نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کی خواتین فیکلٹی ممبران کی لاہور کی کوٹ لکھپت جیل اور خواتین جیل ملتان میں قیدی خواتین کو خصوصی لیکچر دینے کیلئے حوصلہ افزائی کی جائے گی، ان اقدامات کا مقصد معاشرے سے جرائم میں کمی لانا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکر نے پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس میں آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی محکمہ جیل خانہ جات کو اس ضمن میں اپنا ہرممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے متعلقہ فیکلٹی ممبران کے جیلوں کے دوروں سے قیدیوں میں اصلاحی پروگرام کو تقویت ملے گی اور انہیں مستقبل میں باوقار اورذمہ دار شہری کی حیثیت سے زندگی گزارنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے قوانین پر عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں میں پنجاب یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران کے دوروں کوحتمی شکل دینے کیلئے ایک ڈی آئی جی جیل خانہ جات کو مقرر کیا جائے تاکہ اس میں سہولت پیدا کی جاسکے۔
وائس چانسلر نے کہا کہ جیلوں میں زیادہ ترقیدی مڈل پاس ہیں اس لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے ماہرین ان کے اصلاحی پروگرام میں حصہ لیں تاکہ انہیں تعلیمی اور تربیتی پروگرام کی جانب راغب کیا جاسکے۔ اس سے قبل آئی جی جیل خانہ جات پنجاب نے انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیشن سٹڈیز کے طلباء کو اپنے محکمہ کے بارے میں خصوصی لیکچر دیا اور بتایا کہ صوبوں کی 41 جیلوں میں 50 ہزار390 قیدیوں کوہفتے میں 6 دن مرغی کا سالن دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف ایگری کلچر فیصل آباد کے فوڈ اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کی سفارش پر ایک بہترین مینیو تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی تعلیم کے علاوہ مذہبی اور دیگرقلیل اور طویل المدتی کورسز بھی ٹیوٹا پنجاب اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے تعاون سے جیلوں میں قیدیوں کوکرائے جاتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر صوبے کے تمام جیلوں میں سکیورٹی سخت کی گئی ہے جبکہ جیلوں میں جیمرز بھی نصب کئے گئے ہیں۔ بعد ازاں انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیشن سٹڈیز کی انچارج پروفیسر ڈاکٹر نوشینہ سلیم اور سینئر فیکلٹی ممبر ڈاکٹر وقار چوہدری نے ڈیپارٹمنٹ کے دورے اور طلباء کو محکمہ جیل خانہ جات کی سرگرمیوں بارے آگاہ کرنے پر آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کا شکریہ ادا کیا۔وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی نے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کوگلدستہ اور سونیئر پیش کیا۔

Print this entry

Comments

comments

  Article "tagged" as:
  Categories: