انصاف کے دعوے دار ملک میں بینت حوا رسوا

انصاف کے دعوے دار ملک میں بینت حوا رسوا
January 16 20:35 2018 Print This Article

سونیا اکمل  قریشی ۔      

کوفہ بھی نہیں تھا اب تو کوئی یزید بھی نہ تھا

لٹ گئی پھر کیوں زینب سر عام شکستہ۔۔۔

سعودیہ میں 4 بنگالی ایک لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں نماز کا وقت ہوتا ہے اور اعلان کیا جاتا ہے کہ نماز کے بعد ان کا فیصلہ سنایا جائے گا تمام لوگ نماز کے بعد جمع ہو جائیں نماز کے فورا بعد چار لاشیں تختہ دار پر سر عام لٹکتی دیکائی دیتی ہیں وہ دن اور آج کا دن ایک بھی زیادتی کا وقع سامنے نہیں آیا۔

پاکستاں میں 3 دن میں 2 زیادتی کے وقعات سننے میں آتے ہیں 2 دن پہلے 7 سالہ زینب کو حوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور تیسرے دن 16 سالہ ساجدہ درندوں کی بھینٹ چڑہ جاتی ہے کیا بنت حوا کی عزت اتنی سستی ہو گئی ہیں کہ ان  کی عزتیں لوٹتی جاتی ہیں اور پھر ان کی لاشیں کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دی جاتی ہیں اور ہمارے اقتدار کے بھوکے حکمراں  ایک دوسرے پر الزمات لگانے سے فارغ ہی نہیں ہوتے اور یہاں 20 کڑور عوام دھائی دیتی ہے کہ تم حاکم ہونے کا دعوا کرتے ہو تو دلاو انصاف رسول ہمارے عزیزوں کی لاشوں کو۔ تم آزاد عدلیہ کا دعوا کرتے ہو تو دلاو عدل عمر ہماری عوام کو۔

تم دعوا کرتے ہو چارہ گری کا تو نکلو اپنے گھروں سے اور ظلم و زیادتی سے مرنے والی عوام کی چارہ گری کو آو جس نے تمہیں اس مقام پر بیٹھایا۔

وہ تمام ظلم و زیادتاں اپنے بچوں کے لیے تصور کرو اور دو جواب ان زیاتیوں اور نا انصافیون کا جو زینب، ساجدہ، بسمہ عافہیہ، قندیل اور ہزاروں بیٹیوں کے ساتھ کی گئیں۔۔۔۔

کتنی مائیں، بیٹیاں، بیٹے اور باپ انصاف کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے سسک سسک کر مر گئے۔

مزا تو جب ہے اہل ستم کی لاش گرے

غریب مرتے ہیں اس بار کوئی لاش گرے

 

تو اب ایسے قانوں کو آگ لگا دینی چائیے جو عوام کو انصاف مہیا نہ کرسکے۔ اب کی بار تختہ دار پر ملزم کو نہیں ان عہدے داران کو لٹکانا چاہیے جو ہر واقعہ کے بعد میڈیا پر افسوس کا اظہار کرنے کہ علاوہ کچھ نہیں کرتے۔ کیونکہ!

 

مرے قاتل حساب خوں بہا ایسے نہیں ہوتا۔۔۔۔

 

 

Print this entry

Comments

comments

  Categories: