سندھ کے تعلیمی نظام کی خستہ حالت

سندھ کے تعلیمی نظام کی خستہ حالت
January 14 03:47 2018 Print This Article

 

تحریر: مہوش عنایت

 تعلیم سندھ کے ذیلی ادارے ریفارم سپورٹ یونٹ اور سندھ ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی سالانہ رپورٹ کے مطابق انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ چھ سالوں میں سندھ میں پانچ ہزار سے زائد سکول بند ہو گئے ہیں اور طالبات کی تعداد بڑھنے کے بجائے ایک لاکھ سے بھی زیادہ کم ہو گئی ہے مگر اساتذہ کی تعدادچار ہزار بڑھ گئی ہے۔ اساتذہ اپنی تنخواہیں لیتے ہیں لیکن پڑھانے نہیں آتے اور نہ ہی ان سے کوئی سوال کیا جاتا ہے۔سولہ ہزار

سکولز چاردیواری سے اور پندرہ ہزار سکولز بیت الخلاء سے محروم ہیں۔اٹھارہ ہزار سکولوں میں صحت و صفائی اور پانی کا نظام بھی میسر نہیں۔تیءیس ہزار سکولوں میں بجلی کی فراہمی نہیں کی گئی۔اس کے ساتھ ساتھ اکتالیس ہزار سکولز میں تو سرے سے ہی لائبریریز موجود نہیں۔پانچ ہزار خستہ حال اسکول چھتوں سے محروم ہیں اور دوسری طرف پچھتر فیصد سکولوں میں کھیل کے میدان بھی موجود نہیں ہیں۔پندرہ ہزار خستہ حال سکولوں کی عمارتوں کی مرمت کی ضرورت ہے ایک تہائی سکولوں میں پانی کی سہولت بھی میسر نہیں ہے ۔رپورٹ کے مطابق ایک سو پچپن اضلاع میں سے سندھ کا ایک بھی ایسا ضلع نہیں جوصف اول کے ساٹھ اضلاع کی فہرست میں موجود ہو۔

والدین کا موقف لیا گیا تو انہوں نے کہا کہ حکومت کو سکولوں کو دوبارہ بحال کرنا چاہیے تاکہ اس صورتحال سے نمٹا جا سکےاور  والدین سکولوں کی حالت زار اور بچوں کے مستقبل سے متعلق پریشان ہیں۔ حکومت سکولز  کھولنے کی بجائے بند کر رہی ہےکیونکہ تعلیمی میدان میں کوئی بھی اپنا فریضہ انجام نہیں دے رہا ۔

سندھ کے تعلیمی نظام کی ایک بڑی وجہ سیکنڈری سکول ایجوکیشن کی بار بار تبدیلی اور سیاسی لوگوں کی مداخلت بھی ہے۔

  مصنفہ ادارہ علوم ابلاغیات جامعہ پنجاب لاہور کی طالبہ ہے۔

برائے رابطہ

  mishidoll87@gmail.com

Print this entry

Comments

comments