بڑھتے ہوئے جنسی زیادتی کے جرائم اور ان کا تدارک

بڑھتے ہوئے جنسی زیادتی کے جرائم اور ان کا تدارک
January 14 03:23 2018 Print This Article

تحریر :عرفان حیدر عابدی
کہنے کو تو ہم ایک اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں مگر یہاں حیوانیت و سفاکیت جنم لے رہی ہے۔آئے دن ان واقعات میں اضافہ ہو رہاہے جو کہ انتہائی شرم ناک ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں جنسی زیادتی کے واقعات میں جو اضافہ ہوا وہ ورطہ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔
پاکستان میں ایک ادارہ ساحل ہے جو بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیئے کام کرتا ہے۔ ساحل کی رپورٹ کے مطاق2011 ء میں پاکستان میں جنسی زیادتی کے 2400 واقعات رپورٹ ہوئے۔2012ء میں 2788 یعنی 21% واقعات میں اضافہ ہوا۔ یہ تعداد 2013ء میں بڑھ کر 3002 ہو گئی جو گزشتہ سال کی نسبت میں 7.67%تعداد میں اضافہ تھا۔ 2014ء میں 10 فیصد اضافے کے ساتھ تعداد 3508 ہو گئی۔2015ء میں 3768واقعات رپورٹ ہوئے جو کہ گزشتہ سال کی نسبت 7 فیصداضافہ ہوا۔ 2016ء میں تعداد 4139 تک جا پہنچی جن میں 58% لڑکیاں اور 42%لڑکے تھے یعنی ان واقعات میں 10فیصد مزید اضافہ ہوا اور 2017میں ساحل کی پہلے چھ ماہ کی رپورٹ کے مطاق 1764جنسی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
اس تعداد کے مطابق تقریباً ایک دن میں11 بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بن رہے ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔
گزشتہ چند ماہ میں صرف قصور میں 12بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر11بچوں کو قتل کر دیا گیا جبکہ ایک5 سالہ لڑکی کائنات بتول جو زخمی حالت میں اس وقت ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال قصور میں داخل ہے۔
ان گیارہ بچوں میں ساڑھے چار سال کی ایمان فاطمہ،گیارہ سال کی فوزیہ، سات سال کی نور فاطمہ، ساڑھے پانچ سال کی عائشہ آصف، نو سال کی لائبہ اور سات سال کی ثنا عمر اور دو لڑکے تھے جن کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا۔
اسطرح کے کئی واقعات دوسرے شہروں میں بھی ہو چکے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آئے دن ان واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔فیصل آباد میں گزشتہ ماہ 12سالہ لڑکے کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا ۔ بے شماراور ایسی مثالیں ہیں کہ روح کانپ اٹھتی ہے اور انسانیت جن پر ماتم کرتی ہے۔
مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہاان واقعات کا تدارک کیسے ہو ؟کسی بھی ملک میں قانون اس لئے بنایا جاتا ہے تا کہ جرم کو روکا جا سکے اور جرم کی روک تھام اس وقت ہوتی ہے جب قانون پر عملدار آمد ہو۔مگر جب قانون کاغذوں تک محدود ہو جائے تو پھر معاشرے ظلم و بربریت کے عکاس بن جاتے ہیں۔
پاکستان میں PPC 376 کے مطابق زیادتی کا نشانہ بنانے پر عمر بھر قید کی سزا ہے جبکہ آرٹیکل 302کے تحت قتل کرنے کی سزا عمر بھر قید یا پھر سزائے موت ہے مگر افسوس کہ یہاں تو ملزم بھی گرفتار نہیں ہوتے ۔
2012ء میں سر گنگا رام ہسپتال کے قریب پانچ سال کی لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر کے پھینک دیا گیا مگر ملزم آج تک گرفتار نہیں ہوا۔اسی طرح 2015ء میں قصور میں 274 بچوں کی400 ویڈیوز منظر عام پر آئیں مگر ملزموں کو سزا نہیں مل سکی ۔زینب کا قاتل ابھی تک نہیں پکڑا جا سکا تو یہ ناکامی ہے۔تو ضروری ہے کہ ملزموں کو پکڑا جائے اور قانون کے مطابق سزا یقینی بنائی جائے تاکہ آئندہ ان واقعات کو روکا جا سکے۔
سی سی ٹی وی کیمروں کا معیار بہتر بنایا جائے تا کہ ملزموں کو پہچاننے میں آسانی ہو۔جس جگہ ایسے واقعات زیادہ ہو رہے ہوں وہاں گورنمنٹ کو نوٹس لینا چاہئے اور تمام اداروں کو اس پر کام کرنا چاہیئے۔
تمام سیاسی جماعتوں کو ان مسائل پر سیاسی اختلافاف کی بجائے ایک منصوبہ بندی کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔میڈیا پر بھی ایسے واقعات کو بس دو دن تک نہیں دکھانا چاہیئے بلکہ واچ ڈاگ کا کردار ذمہ داری کے ساتھ ادا کرنا چاہیئے۔زندہ معاشرے صرف یہاں تک نہیں رہتے کہ جرم کے بعد سزا ہو جائے بلکہ وہ جرم کو روکنے کے لئے لوگوں کو آگاہی بھی دیتے ہیں۔ اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں کہ کہ کیا صحیح ہے کیا غلط ہے۔والدین ، اساتذہ اور تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرناچاہئے۔
(عرفان حیدر عابدی شعبہ ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی لاہور)
haiderirfan582@gmail.com

Print this entry

Comments

comments

  Categories: