7سالہ زینب۔۔۔درندگی کا ایک اور واقعہ

January 11 01:22 2018 Print This Article

تحریر۔ میمونہ ا نیسیس

کافی عرصے سے دیکھنے میں آرہا ہے کہ ہمارا معاشرہ اب محفوظ معاشرہ نہیں رہا۔آئے دن نت نئے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔انسانیت کا نام و نشان مٹتا جا رہا ہے،اور اس کی جگہ حیوانیت نے لے لی ہے۔حالانکہ ہم اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں،لیکن دین کو ہم نے اپنی زندگیوں سے بہت دور کر دیا ہے۔فحاشی اور بے حیائی جیسے فتنوں نے جنم لے لیا ہے۔جس کی بدولت لوگوں کو غلط کا م کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا۔دن بدن درندگی اور حیوانگی بڑھتی جا رہی ہے اور معاشرے کے عام عوام اس کی نذر ہوتے جا رہے ہیں۔انصاف دلوانے والا کوئی مسیحا نظر نہیں آتا۔لوگ احتجاج کرتے ہیں،شور مچاتے ہیں،لیکن جب آہ کا جواب دینے والا کوئی نہیں ملتا،تو آخر کار تھک ہار کر چپ کر جاتے ہیں،یا ان کو ڈرا دیا جاتا ہے اور ان کو چپ ہونا پڑتا ہے۔
معاشرے میں چھپے ہوئے وحشی درندے،جن کی پہچان کرنا مشکل ہے،کہ جب تک وہ ایسا کوئی کام کر کے نا دکھا دیں،جس سے ان کی وحشت کا اندازہ ہو سکے،ان کی حوس کی بھوک اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اپنی بھوک مٹانے کے لئے وہ ہر حد کو پار کر دیتے ہیں۔کبھی کوئی عورت،کبھی لڑکی،کبھی بچی اور اب تو لڑکے بھی ین کی حوس سے نہیں بچ سکتے،اور ان کی نا ختم ہونے والی حوس کا نشانہ بن جاتے ہیں۔اخلاقیات تو جیسے کہیں کھو گئی ہیں۔اخبارات اور نیوز چینلز ایسی خبروں سے بھرے نظر آتے ہیں۔کالموں اور ٹاک شوز میں ایسے نقاط کو اٹھایا جاتا ہیاور ان معاملات پر بہت بحث بھی کی جاتی ہے،لیکن فائدہ ندارد!کوئی تسلی بخش کاروائی دیکھنے کو نہیں ملتی،تبھی تو درندوں کو مزید درندگی کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔
گزشتہ دن میں قصور کی ۷ سالہ زینب کو ایسے ہی حوس کا نشانہ بنایا گیا۔اغواء کے بعد اس کے گھر والے جب پولیس سے مدد مانگنے گئے تو ہمیشہ کی طرح پولیس نے کوئی خاطر خواہ مدد نہیں کی،اور اس بچی کو ڈھونڈنے میں اتنے دن لگا دیئے کہ وہ درندہ اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب ہو گیا۔کیا کسی کو احساس ہے کہ اس بچی پر کیا بیتی ہو گی؟ہماری شرم حیاء کہاں گئی ہے؟کیوں ہم اتنے پتھر دل ہو گئے ہیں کہ جب تک ایسی گھناؤنی حرکت ہمارے کسی اپنے کے ساتھ نا ہو تب تک ہمیں کسی کا درد سمجھ نہیں آتا،محسوس نہیں ہو تا۔اس وحشی درندے نے نہ صرف اپنی بھوک مٹائی،بلکہ آخر میں وہی بزدلانہ کاروائی بھی کی کہ اس بچی کو قتل کر کے کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا۔کیا عام عوام کوڑا کرکٹ کی طرح ہی ہیں؟یا ان کا مسیحا بن کر بھی کوئی انہیں انصاف دلوائے گا؟کیا اس بچی کے لئے ،اور اس جیسے اور بہت لوگوں کے لیئے کوئی انصاف کا پیکر بن کر آئے گا؟کیا کسی کو احساس ہے کہ ان والدین پر کیا بیتتی ہے ،جب ان کے بچوں کو ایسے بے رحمانہ طریقے سے ان سے دور کر کے موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے؟جس وحشی درندے نے یہ کاروائی کی ہے،اس کو صرف پکڑنا ہی اصل کام نہیں،بلکہ اس کو پکڑکر فوری طور پر ایسی عبرتناک سزا دی جانی چاہیئے کہ آئندہ کئی نسلوں تک کوئی بھی ایسی بہیمانہ حرکت کرنے سے نہ صرف گریز کرے،بلکہ ڈرے۔میری حکومت سے اپیل ہے کہ قانونی کاروائیوں میں ڈالنے کی بجائے،فوری ایکشن لے کر اس شخص کو اس کے کیفر کردار تک پہنچا یا جائے،تاکہ آئندہ والدین اپنے بچوں کو گھروں سے باہر نکالنے پر خوف محسوس نہ کریں۔اور ہمارا معاشرہ امن و امان والا معاشرہ بن سکے۔
میمونہ انیس۔
لاہور۔

Print this entry

Comments

comments

  Article "tagged" as:
  Categories: