امریکی 33ارب ڈالروں کا حساب

امریکی 33ارب ڈالروں کا حساب
January 10 14:53 2018 Print This Article

تحریر۔  عرفان حیدر عابدی

33بلین ڈالرز کی حقیقت کیا ہے یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر پاکستانی کے دماغ میں گونج رہا ہے۔
33 بلین ڈالرزکا 44% تقریباً ساڑھے 14بلین ڈالرز اتحادی سپورٹ فنڈ کا حصہ ہے ۔ا تحا دی سپو ر ٹ فنڈ ان احداف کے لئے تھا جو مشترکہ مفا دا ت میں تھے۔ دہشت گردی کو ختم کرنے لئے استعمال ہوا۔ یہ امداد نہیں بلکہ پاکستان کا معاوضہ تھا کیوں کہ پاکستان نے اس جنگ میں اپنی زمین ،ریل،سڑکیں،ہوائی اڈے،ہوائی کوریڈور دیا جن کے عربوں کے ٹیکس بنتے ہیں۔پاکستان نے اپنے مغربی ہوائی کور یڈور کو اس جنگ میں لگایا ہے اور کمرشل سطح پر اسکا استعمال نہیں کیا ہے۔
دوسرا حصہ تقریباً ساڑھے 11بلین ڈالرز کا ہے جو کہ USAIDکی صورت میں ہے جس میں ہیلتھ سیکٹڑ،قدرتی آفات،تعلیم اور بہت سے سیکٹر آتے ہیں ۔تیسرا حصہ تقریباً 7 بلین ڈالرز سیکورٹی اسسٹنس کی مد میں ہے جو مختلف وقتوں میں آتی رہی۔
امریکی صدر ڈ و نلڈ ٹرمپ کے جھوٹ کو امر یکی اداروں نے بھی بے نقاب کر دیا ہے ۔کا نگریشنل ریسرچ سروس کی جاری رپو رٹ کے مطابق امریکہ نے پاکستان کو 2002 سے اب تک صرف 19ارب ڈالرز امداد دی ہے جبکہ 14ارب 50کروڑ ڈالرز امداد وہ رقم ہے جو پاکستان کا معاوضہ بنتا ہے۔
اگر ساڑھے 14 بلین ڈالرز کا جائزہ لیا جائے تو اس میں سے ا مریکہ ایک عرب ڈالرز کا پاکستان کا مقروض ہے۔ امریکہ پچھلے 3 سال سے پاکستان کا اتحادی سپورٹ فنڈ کا کچھ حصہ نہیں دے رہا ہے۔2015 میں کچھ حصہ روکا گیا ،2016 میں 300 ملین ڈالرز،2017 میں 400 ملین ڈالرز اور ابھی چند دن پہلے 25 کروڑ ڈالرز کی ادائیگی روکی گئی ہے۔ یہ تقریباً ایک عرب ڈالرز بنتے ہیں جو امریکہ نے ادا کرنا ہے ۔
امریکہ نے افغانستان میں جو جنگ چھیڑی ہے اس میں پاکستان نے بہت بھاری نقصان اٹھا یا ہے۔
سول و ملٹری اداروں کے مطابق پاکستان خود اس جنگ میں تقریباً 120ارب ڈالرز خرچ چکا ہے۔ اسکے علاوہ پانچ ہزار پاکستان کے فوجی جوان اور چھتیس ہزار شہری شہید ہو چکے ہیں ۔
پاکستان کی قربانیوں کا مالی امداد سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔امریکہ کو پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہئے ۔دہشت گردی کے خلا ف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کو سرہانے اوراحسان مند ہونے کی بجائے امریکی صدر ڈ ونلڈ ٹرمپ احسان فر ا مو شی کا مرتکب ہو رہے ہیں ۔
(عرفان حیدر عابدی MSc شعبہ ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی لاہور)
haiderirfan582@gmail.com )

Print this entry

Comments

comments