پاک امریکہ تعلقات ۔ ایک نازک موڑ پر

پاک امریکہ تعلقات ۔ ایک نازک موڑ پر
January 07 20:08 2018 Print This Article
 
تحریر۔ عثمان بے خبر
امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کے حالیہ بیان کے مطابق کہ وہ پاکستانی فوج سے رابطے میں ہیں.اگر ایسا رابطہ ہے تو جو بیک دور چینل پالیسی کے تحت وقو ع پذیر ہو رہا ہے اس ساری صورتحال میں سول ملٹری بیانیہ ایک ہونا چاہیے نا تو بہت جھکا جا ئے اورنا ہی اتنا سخت موقف اختیار کیا جاۓ کہ معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن پہ چلے جائیں.اس کی بجاۓ افہام و تفہیم سے حل ہوں ورنہ جارحانہ رویے سے نہ  تو امریکا کے ہاتھ کچھ آئے گا اور نہ ہی پاکستان  فائدہ اٹھا پائے گا.
اب موجودہ پاکستانی بیانات سے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے سول ملٹری ادارے ابھی بھی پاک امریکا ایشو پر ایک پیج پر نہیں ہیں.
وزیر دفاع خرم دستگیر وزیر خارجہ خواجہ آصف کے بیانات کا موازنہ فوج کے بیانیے سے کیا جاۓ تو معلوم ہوتا ہے باہمی تعاون کی کمی ہے جو کے ملکی یکجہتی کے لیے تشویشناک قرار دی جا سکتی ہے.
پچھلے کچھ عرصے سے پاک امریکا باہمی تعلقات سرد مہری کا شکار رہے ہیں لیکن موجودہ دور میں کیفیت تلخی میں ڈھل چکی ہے.
آنے والا وقت مزید کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے.ہر ذی شعور کے لیے صورتحال حد درجہ سنجیدہ ہے
قابل افسوس اور قابل رحم بات یہ ہے کے ہمارے ملک میں نازک معاملات کو جذباتیت بلکہ شدید جذباتیت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے.
ہر وہ آدمی جو اپنے آپ کو سنبھال نہیں سکتا تجزیہ نگار بنا ہوا ہے اچھل اچھل کر فرما رہا ہے ہم ایک ایٹمی ملک ہیں امریکا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہمارے مذہبی رہنما  اور عام لوگ جنہیں اصل حقیقت کا ادراک نہیں ہے محض جذباتیت پہ منحصر حقائق کو جانے بغیر بیان جاری کر رہے ہیں.
ایک طالبعلم کی حیثیت سے میں اگر دیکھوں تو یہ سب کچھ ایک المیے میں بدل سکتا ہے اور توقُّع  سے بڑھ کر مصائب کا سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے
ٹرمپ کے ذہن کو باریکی سے سمجھنا ضروری ہے کہ وہ کسی کی کٹھ پتلی تو نہیں بنا بیٹھا.
ہمارا ازلی دشمن بھارت جو اس ساری صورتحال کو اپنی سفارتی کا میابی گردان رہا ہے,شیطان ہے تیلی لگا کر پیچھے ہٹ جاتا ہے پھر تماشہ دیکھتا ہے.
ہم بہت تیزی سے دنیا میں تنہائی کا شکار ہو رہے ہیں ہمارے دوستوں کی تعداد دن بدن گھٹتی جا رہی ہے.
طالبعلم کی حیثیت سے سمجھتا ہوں کہ غیر متوازن بیانات, امریکا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا,امریکی امداد کی کوئی ضرورت نہیں کوئی ہمارا بال بیکا نہیں کر سکتا .
ان تمام بیانات کو حقیقت کی عینک لگا کر بے رحم تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے.عام آدمی کے لیے یہ جذباتیت بہت پر کشش ہے مگر کیا ہم واقعی اتنی بڑی معاشی طاقت ہیں کہ ہمیں آئی ایم ایف ورلڈ بینک یا دیگر قرضہ دینے والے بین الاقوامی اداروں کی کوئی ضرورت نہیں ؟ عملاً یہ تمام ادارے امریکا کے زیراثر ہیں.قرضوں کی بات تو چھوڑیے  ہمیں تو قرضوں کا سود ادا کرنے کے لیے بھی قرض لینا پڑتا ہے.
معاشی استحکام کی صورتحال دگر گوں ہے.

ٹھنڈے دل سے سول ملٹری اداروں کو ایک صفحے پر موجود ہو کر  اس ساری صورتحال پر سوچنے کی ضرورت ہے.ہم امریکا کے ساتھ حقیقت پسندانہ مذاکرات کریں موجودہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ بیٹھیں انہیں اپنی عملی مشکلات بتائیں کچھ ان کی سنیں کچھ اپنی منوائیں.ملکی وقار پر سمجھوتہ نا کریں لیکن عزت  کو داؤ پر بھی نا لگائیں.ہر صورت میں سفارتی تعلقات کو مضبوط بنائیں.یہ دور جذباتیت کا نہیں سمجھداری کا ہے ایسی حکمت عملی ترتیب دیں جو قابلِ عمل ہو

ہمارا قومی مفاد یا مقصد صلح اور امن میں ہے ورنہ سب کچھ ختم ہو جاۓ گا دشمنوں کو مزید بغلیں بجانے کا موقع نا دیں.
تمام معاملات کو افہام و تفہیم سے سنوارا جاۓ .
سرد مہری سے دہشت گرد عنا صر کو شہ ملے گی.
دو فریقین کی لڑائی میں تیسرا فائدہ اٹھاتا ہے .جو ملکی استحکام اور سلامتی کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔
 
 
 
 
Click here to Reply or Forward

Print this entry

Comments

comments