پنجاب حکومت کی یونیورسٹی کی زمین حاصل کرنے کی کوشش۔وائس چانسلرپنجاب یونیورسٹی مستعفی

پنجاب حکومت کی یونیورسٹی کی زمین حاصل کرنے کی کوشش۔وائس چانسلرپنجاب یونیورسٹی مستعفی
January 05 16:10 2018 Print This Article

پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین ناصر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے انہوں نے استعفیٰ گورنر پنجاب کو ارسال کر دیا ہے۔

مقامی نیوزچینل کے نمائندے کے مطابق ڈاکٹر ظفر معین ناصر نے کہا کہ پنجاب حکومت یونیورسٹی کی دو کینال کی زمین زبردستی حاصل کرنا چاہتی تھی اور وہ اس پر مزاحمت کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ زمین دینے کہ بجائے استعفیٰ دینا ان کے ضمیر کے لیے درست تھا۔

ڈاکٹر ظفر معین ناصر کا کہنا ہے کہ انھیں میرٹ پالیسی نافذکرنے میں شدیدمزاحمت کاسامنابھی تھا اوراُن پر بہت زیادہ سیاسی دباؤبھی  تھا ۔

ڈاکٹر ظفر معین ناصر استعفیٰ دینے کے بعد اپنی گاڑی پر یونیورسٹی سے روانہ ہو گئے ہیں ۔ انھوں نے استعفیٰ سے متعلق یونیورسٹی کے اساتذہ کے ساتھ بھی کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا تھا۔ان کایہ بھی کہنا ہے کہ اُن پر کرپشن کے الزامات  بے بنیاد ہیں ۔

واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے یونیورسٹی کے اولڈ کیمپس کی زمین سے دو کینال اراضی مانگی ہے اور اس اراضی پر مولانا فضل الرحمن کی جماعت کا مدرسہ تعمیر کیا جانا ہے جس کی منظوری کا ایجنڈا بھی سنڈیکیٹ اجلاس میں رکھا گیا۔

 وزیر ہائر ایجوکیشن پنجاب رضاعلی گیلانی کی جانب سےانہیں ہٹانے کی بھی کوششیں کی جارہی تھیں۔

 ڈاکٹر ظفر معین ناصر کو لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے اٹھائیس دسمبر 2016ء میں قائمقام وائس چانسلر تعینات کیا تھا۔

چندروزپہلے پنجاب یونیورسٹی نے ان کی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کی تھی جس پر تعلیمی حلقوں میں انہیں خوب سراہاجارہاتھا۔

وائس چانسلرڈاکٹرظفرمعین ناصرکواندرونی اوربیرونی حمایت کی کمی کا بھی سامنا تھا۔یونیورسٹی کے اندرونی گروپ بھی ان کے خلاف ہوگئے تھے۔اورآج  ۔یہ بھی پہلی دفعہ ہواکہ وہ جمعہ کی نماز بھی اکیلے پرھنے گیے اور کوئی سینئرفیکلٹی ممبران کے ہمراہ نہیں تھا۔

دوسری طرف اگلے وائس چانسلرکے لئے سینئرفیکلٹی ممبران نے اپنے اپنے گھوڑے دوڑانے شروع کردئیے ہیں۔

Print this entry

Comments

comments